فیض آباددھرنافیصلے پرعملدرآمد کیس؛ چیف جسٹس کا انکوائری کمیشن کی رپورٹ پر مایوسی کا اظہار

فیض آباددھرنافیصلے پرعملدرآمد کیس؛ چیف جسٹس کا انکوائری کمیشن کی رپورٹ پر ...
فیض آباددھرنافیصلے پرعملدرآمد کیس؛ چیف جسٹس کا انکوائری کمیشن کی رپورٹ پر مایوسی کا اظہار

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)فیض آباد دھرنا فیصلے پرعملدرآمد کیس میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے انکوائری کمیشن کی رپورٹ پر مایوسی کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ مجھے تو اس پرمایوسی ہی ہوئی ہے،کیا یہ کمیشن وقت ہی ضائع کرتا رہا؟

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ کہتے ہیں بس آگے بڑھو،ماضی سے سیکھے بغیر کیسے آگے جا سکتے ہیں؟پاکستان بنا تھا بتائیں کہاں کسی نے آگ لگائی تھی؟یہاں ہر جگہ بس آگ لگا دو والی بات ہے۔

جسٹس عرفان سعادت نے کہاکہ کراچی میں کسی بھی معاملے پر موٹر سائیکل روک کر آگ لگا دی جاتی ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ حلف کیخلاف ورزی کس نے کی یہ نہیں بتایا کمیشن نے؟کمیشن کیسے کہہ سکتا ہے مظاہرین کو پنجاب میں روکنا چاہئے تھا،پرامن احتجاج کرنا ہر شہری کا حق ہے،مجھے معلوم نہیں کمیشن کو کس بات کا خوف تھا۔انکوائری کمیشن کو لگتا ہے پنجاب حکومت سے کوئی بغض ہے،اٹارنی جنرل نے کہاکہ کمیشن کا سارا فوکس صرف اس بات پر تھا کہ پنجاب سے اسلام آباد کیوں آنے دیا۔جسٹس عرفان سعادت خان نے کہاکہ کمیشن نے سارا نزلہ پنجاب حکومت پر گرایا ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ اگر 2019والے فیصلے پر عمل کرتے تو شائد 9مئی بھی نہ ہوتا،پرامن احتجاج کرنا ہر شہری کا حق ہے۔