اس کے اندر روایتی پٹھانوں والا غصہ تھا، کوئی روٹھ کر محفل سے اٹھ جاتا تو دوسرے بھاگے بھاگے پیچھے جاتے اور منت ترلا کر کے  منا کر واپس لے آتے 

 اس کے اندر روایتی پٹھانوں والا غصہ تھا، کوئی روٹھ کر محفل سے اٹھ جاتا تو ...
 اس کے اندر روایتی پٹھانوں والا غصہ تھا، کوئی روٹھ کر محفل سے اٹھ جاتا تو دوسرے بھاگے بھاگے پیچھے جاتے اور منت ترلا کر کے  منا کر واپس لے آتے 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:262
 ان ساری خوبیوں کے ساتھ کسی کو بھی یہ اندازہ لگانے میں غلطی نہ ہوتی تھی کہ وہ اصلی پٹھان ہے اور خود اسے بھی اپنے اصلی ہونے پر بڑا فخر رہتا تھا اور اسی حوالے سے وہ ہم سب کو تھوڑا سر جھکا کر ہی دیکھتا تھا۔ ہاں،اس سلسلے میں، میں تھوڑا مشکوک اور قدرے حیران رہتا تھا کہ اردو گویائی کے افق پر جہاں بڑے بڑے پٹھان پروفیسروں کے پر جلتے تھے اور وہ مذکر، مؤنث کی بھول بھلیوں میں گم ہو جاتے تھے، تو یہ معجزانہ طور پر ان کا برملا اور صحیح استعمال کیسے کرلیتا تھا۔ 
روایتی پٹھانوں والا غصہ تھا، جو فوراً ہی آتا اور پھر اسی رفتار سے ختم ہو کر مخصوص قہقہے میں ڈھل جاتا۔ وہ بھی میری طرح پیپلز پارٹی کے سخت ناقدین میں سے ایک تھا اس لیے خواجہ وسیم سے اکثر سفارتی تعلقات کشیدہ ہی رہتے تھے، جو کبھی کبھار اس وقت سنجیدگی اختیار کر جاتے، جب دونوں میں سے کوئی ایک کسی اسمبلی ممبر کی طرح روٹھ کر محفل سے اٹھ جاتا تو دوسرے بھاگے بھاگے اس کے پیچھے جاتے اور منت ترلا کر کے اسے منا کر واپس لے آتے تھے۔
ایک دفعہ کچھ ایسا ہی ہوا تھا، ایک نیا نیا پلاسٹک کا دلچسپ سا کھلونا نما سگریٹ کیس مارکیٹ میں آیا جو ایک گدھے کی شکل کا تھا۔ اس کی کمر پر باندھی ہوئی ایک ٹوکری میں سگر یٹ رکھے جاتے تھے اور جب اس گدھے کے کان مروڑے جاتے تھے تو وہ اپنی دم نوے کے زاویئے پر آسمان کی طرف اٹھا دیتا تھا اور اس کے پیچھے ناگفتہ بہ جگہ سے ایک سگریٹ نمودار ہوتا اور آہستہ آہستہ باہر نکل آتا، یہ سارا کچھ ہوتا دیکھ کر سب قہقہے لگا کر بنانے والے کی جولانی طبع کی داد دیئے بغیرنہ رہ سکتے۔ ان دنوں ہم تقریباً سارے ہی دوست اگر باقاعدگی سے نہیں تو بے قاعدگی سے کھانے یا چائے کے بعد ایک آدھ سگریٹ ضرور سلگا لیا کرتے تھے۔ اس دن بھی میں اور خواجہ وسیم بیٹھے تمباکو نوشی میں مشغول تھے کہ خٹک کی آمد ہوئی۔ میں نے وسیم کو معنی خیز انداز میں آنکھ ماری اور جواباً وہ بھی مسکرایا۔ میں نے خٹک کو سگریٹ پینے کی دعوت دی، جواب اثبات میں آنے پر میں نے وہی سگریٹ کیس خٹک کے سامنے کر دیا، پھر میں نے گدھے کے کان مروڑے اور اس نے معمول کی کارروائی مکمل کرنے کے لیے اپنی دم اٹھا کر نا مناسب جگہ سے ایک سگریٹ برآمد کیا جس کو اسی حالت میں خٹک کے سامنے پیش کردیا گیا تاکہ باقی ماندہ سگریٹ وہ خود ہی وہاں سے کھینچ کر نکال سکے۔ خٹک پہلے تو دلچسپی اور تجسس سے یہ سب کچھ دیکھتا رہا، مجھے یاد پڑتا ہے کہ وہ تھوڑا سا مسکرایا بھی تھا، پھر پتہ ہی نہیں لگا کہ کیوں، کب اور کیسے پہلے اس کے کان اور بعد میں سارا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔ طیش میں آ کر اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا ”تم لوگوں نے اس طرح سگریٹ پیش کر کے میری بے عزتی کی ہے۔“ حالات خراب ہوتے دیکھ کر ہم نے فوراً معذرت کر لی اور کہا کہ ہمارا قطعاً یہ مقصد نہیں تھا، ہم نے تو محض تفریح طبع کے لیے یہ سب کچھ کیا تھا۔ تھوڑی دیر میں اس کا مزاج معمول پر آیا اور ہماری جان میں جان آئی۔ ہمیں یقین تھا کہ غصے کے اس شدید عالم میں اس وقت اگر خان صاحب کے پاس کوئی اسلحہ ہوتا تو وہ کب کا گولی داغ چکا ہوتا۔ پھر میں اور وسیم صاحب تو اس جہاں سے گزر کر بھٹکی ہوئی روحوں میں تبدیل ہو گئے ہوتے اور ہیر رانجھے کی طرح اپنی دائمی منزل کی طرف پرواز کر رہے ہوتے، اس کہانی کا خوبصورت انجام یہ ہوا کہ خٹک نے اسی نا مناسب جگہ سے نکلا ہواسگریٹ نہ صرف قبول کیا بلکہ اسے پی کر دھوئیں کے چھلّے بھی فضاؤں میں بکھیرے۔ واضح رہے کہ خٹک یہ کام اس وقت کیا کرتا تھا جب وہ مستی کی اعلٰی معراج پر پہنچا ہوا ہوتا تھا۔   (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -