سعودی عرب میں گھروں کا حصول بہت بڑا مسئلہ تھا، غیر ملکی کمپنیاں اور مشیر بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے اور اپنا حصہ وصولنے کیلئے وہاں پہنچ رہے تھے

سعودی عرب میں گھروں کا حصول بہت بڑا مسئلہ تھا، غیر ملکی کمپنیاں اور مشیر بہتی ...
سعودی عرب میں گھروں کا حصول بہت بڑا مسئلہ تھا، غیر ملکی کمپنیاں اور مشیر بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے اور اپنا حصہ وصولنے کیلئے وہاں پہنچ رہے تھے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:محمد اسلم مغل 
تزئین و ترتیب: محمد سعید جاوید 
 قسط:93
 1981 میں سعودی عرب تیل کی پیداوار اور اس سے حاصل کی گئی دولت سے مالا مال تھا۔ اور وہاں زور و شور سے غیر ملکی کمپنیوں اور مشیروں کا آنا لگا ہوا ہوتا تھا،جو اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے اور اپنا حصہ وصولنے کیلئے پہنچ رہے تھے۔ اس لیے ان دنوں وہاں گھروں کا حصول ایک بہت بڑا مسئلہ تھا۔ ایک تو یہ جلد ملتے نہیں تھے اور جو ہوتے بھی تو ان کے کرائے آسمانوں سے باتیں کرتے تھے جو ایک عام ملازم بندے کی پہنچ سے دور تھے۔ مجھے بہر حال ایک بنگلے کا بالائی حصہ کرائے پر مل گیا تھا جس میں 3 بیڈ روم، ایک چھوٹا سا ڈرائنگ روم، مطبخ اور 2 باتھ روم تھے۔ نچلی منزل پر سعودی حکومت کیایک سرکاری افسر کی رہائش تھی جس کی بیوی مصری تھی۔      
ریاض آمد کے اگلے ہی دن میں اپنے مجوزہ دفتر گیا جہاں عزت سلیم نے مجھے خوش آمدید کہا۔ وہ وہاں چیف ٹیکنیکل ایڈوائزر تھے اور مجھے  ریاض بلوانے میں ان ہی کی کاوشیں  شامل تھیں۔ انھوں نے میرا تعارف اقوام متحدہ کی ٹیم کے ممبروں سے کروایا جو مختلف ممالک سے آئے تھے اور یوں مل جل کر ہماری ایک کثیر الملکی ٹیم بن گئی تھی۔ ان میں ڈاکٹر انیس الرحمٰن اور ڈاکٹر عبدالرحیم خان پاکستان سے، ڈاکٹر راؤ، جو پی ایچ ڈی نہ کرنے کے باوجود بھی اپنے آپ کو ڈاکٹر کہلوانا ہی پسندکرتا تھا،مسٹر فرنانڈیس اور مسٹر سفاوی ہندوستان سے آئے تھے۔ سلامہ شواف اور فکری امین کا تعلق مصر سے تھا۔ جب کہ مارٹن کرکوس ناروے کے رہنے والے تھے۔ طارق الجندی مصری اور اس کے نائب واجد الخلیل پاکستانی تھے۔ مجھے پہلے دن ہی سے ان تمام لوگوں کے ساتھ رہ کر اور کام کرکے اچھا لگا۔ ان میں سے3 تو میرے جانے پہچانے تھے۔ جن میں عزت سلیم، ڈاکٹر انیس اور ڈاکٹر عبدالرحیم شامل تھے۔ 40 سال کی عمر میں اس ٹیم کا  میں سب سے کم عمر ممبر تھا۔ 
مجھے کہا گیا کہ میں مختلف ممبروں کے ساتھ ملاقاتیں کروں اور یہاں کے کام اور ماحول کو سمجھنے کی کوشش کروں۔ ہمارا ادارہ چونکہ منسٹری آف میونسپیلٹیز اینڈ رورل افئیرز کے ساتھ منسلک تھا اس لیے ہم پر بھی وہی قاعدے قانون لاگو ہوتے تھے۔ یہاں ہمارے اوقات کار صبح  8بجے سے دوپہر 2بجے تک ہوتے تھے۔ یہ ایک پہلی بڑی راحت تھی جو یہاں آکر نصیب ہوئی اس سے پہلے ایل ڈی اے لاہور والوں کے ہاں تو صرف آنے کا وقت 8بجے کا تھا، جانے کا کچھ پتہ نہیں ہوتا تھا۔ اکثر رات دیر گئے تک وہاں بیٹھنا پڑتا تھا۔ دوسرا فی الوقت یہاں کام کا کوئی دباؤ نہیں تھا لیکن آگے چل کر جب مجھے انفرادی طور پرمنصوبے سونپے گئے تو یہ خوش گمانی جاتی رہی اور صورتحال بدل گئی۔ یہاں ہمارا بڑی ذمہ داری یہ ہوتی تھی کہ ہم میونسپیلٹیز اینڈرورل افئیرز کو شہری منصوبہ بندی کے پروجیکٹوں کے بارے میں با خبر رکھیں اور اس سلسلے میں نہ صرف ان کی رہنمائی کریں بلکہ پلاننگ کے منصوبوں کی، جو کہ بین الاقوامی مشیر چلا رہے تھے، کارکردگی پر مؤثر انداز میں نظر رکھیں۔
میری آمد کے کچھ دن بعد ہی عزت سلیم مجھے میونسپیلٹیز اینڈ رورل افئیرز کے ڈپٹی منسٹر کو ملوانے لے گئے۔ میں نے اُنھیں ایک بہت ہی نفیس اور دین دار شخص پایا جو بہت کم گو تھا اور مختصرالفاظ میں اپنا مدعا بیان کرنے پر یقین رکھتا تھا۔
  (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -