سیاست اور اسٹیبلشمنٹ

سیاست اور اسٹیبلشمنٹ
سیاست اور اسٹیبلشمنٹ

  



ائیر مارشل اصغر خاں کی سولہ سال قبل دائر کردہ درخواست مہران بینک سکینڈل پر سپریم کورٹ نے اپنے مختصر فیصلے میں اس وقت کے آرمی چیف مرزا اسلم بیگ اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل اسد درانی کو ملزم ٹھہراتے ہوئے حکومت پاکستان کو حکم دیا ہے کہ وہ ان کے خلاف کارروائی عمل میں لاکر سزا کا تعین کروائے۔ ایک عوامی حلقہ سمجھتا ہے کہ سپریم کورٹ کے اس تاریخی فیصلے کی وجہ سے اب کسی جنرل کو سیاسی معاملات میں دخل اندازی کرنے کی جرات نہیں ہوگی اور نہ ہی اسٹیبلشمنٹ آئندہ اپنی کسی من پسند سیاسی پارٹی کو اقتدار میں لانے کے لئے عوامی خواہشات کا قتل کرسکے گی ۔ عمیق نظروں سے ان تمام حالات و واقعات کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ مہران بینک سکینڈل کیس کے فیصلے سے قبل بھی عدلیہ کئی ایسے فیصلے دے چکی ہے، لیکن بہت سے فیصلوں پر کماحقہ عمل نہیں ہورہا۔

 ناکامی کا سارا الزام کسی جمہوری حکومت پر عائد کرنا بالغ نظری نہیں،کیونکہ اسٹیبلشمنٹ نے کبھی بھی کسی جمہوری حکومت کو کھل کر کام کرنے کا موقع نہیں دیا اور نہ ہی داخلی وخارجی پالیسیوں پر اثرورسوخ قائم ہونے دیا، جس کی وجہ سے جمہوری حکومتوں کے ہاتھ ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی آہنی زنجیروں میں جکڑے رہے.... پرویز مشرف کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ پرویز مشرف کے کیس میں سپریم کورٹ نے جب اپنے فیصلے میں پارلیمنٹ کو اس کے خلاف کارروائی کرنے کا حق تفویض کیا تھا تو اس وقت بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کو ایک تاریخی فیصلہ قرار دیا گیا تھا، لیکن کیا ہوا؟.... پرویز مشرف کو سزادینے کی بجائے جمہوری حکومت نے اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کی وجہ سے گارڈ آف آنر دے کر رخصت کیا تھا۔ مہران بینک سکینڈل کیس کا فیصلہ بھی بالکل اسی نوعیت کا ہے، اس کیس میں ایک نہیں دو جرنیل ہیں۔

چند ہی روز بعد یہ سارا معاملہ دوسرے بحرانوں کی گرد تلے دب جائے گا اور پاکستان میں جو چیز گرد تلے دب جاتی ہے، اس کو نکالنے کے لئے ایک دہائی کا عرصہ درکار ہوتا ہے ،جس طرح 22سال قبل 1990ءمیں جرم کرنے والوں کے خلاف صرف ابھی تک الزام ہی ثابت ہوا ہے، سزا کا مرحلہ ابھی بہت دور ہے، شاید سزا کا مرحلہ آنے سے پہلے ہی ختم ہوجائے، اب رہی بات اسٹیبلشمنٹ کے بے نقاب ہونے کی،تو اس کے بارے میں مودبانہ عرض ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے نقاب ہی کب اوڑھا تھا، ہمیشہ سے بے پردہ ہی رہی ہے، البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ بندوق کے خوف سے عوام نے اسٹیبلشمنٹ کو بے پردہ ہوتے ہوئے بھی دیکھنے کی کبھی ہمت نہیں کی، اس لئے یہ کہنا غلط ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا اصل چہرہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی وجہ سے بے نقاب ہوچکا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے اصل چہرے سے ہر خاص و عام روز اول سے شناساہے۔

 یہی وہ عوامل ہیں، جن کی وجہ سے قیام پاکستان سے لے کر آج تک ملک میں جمہوری نظام کو مستحکم ہونے نہیں دیا گیا، اگر جمہوری نظام مستحکم ہوجاتا تو اسٹیبلشمنٹ کا عمل دخل ، اثرورسوخ ماند اور گرفت ڈھیلی پڑ جاتی ،اسی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ نے اپنی اجارہ داری قائم رکھنے کے لئے جمہوری حکومتوں کوپنپنے کا موقع نہیں دیا، جس کی وجہ سے سیاست دانوں کی کارکردگی پر ہمیشہ سوالیہ نشان لگا رہا اور سیاست دانوں کو ان ناکردہ گناہوں کی بھی سزا بھگتنی پڑی، جس میں ان کا سرے سے کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ اسٹیبلشمنٹ نے صرف 1990ءکے الیکشن میں ہی نہیں، 1988ء کے الیکشن میں بھی آئی جے آئی (اسلامی جمہوری اتحاد) کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھاکرکے پی پی پی کو عوامی خواہشات کے برعکس شکست دینے کی کوشش کی تھی۔

پی پی پی اسٹیبلشمنٹ کے تمام غیر آئینی ،غیر قانونی اور غیر اخلاقی وسیاسی حربوں کے باوجودقومی اسمبلی میں 93نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوگئی۔ اسٹیبلشمنٹ آئی جے آئی کو صرف 43سیٹیں دھاندلی دھونس سے دلوانے میں کامیاب ہوسکی، اگرچہ اسٹیبلشمنٹ نے باامر مجبوری بے نظیر بھٹو کو مشروط حکومت سونپ دی تھی، لیکن حکومت کے قیام کے صرف ڈیڑھ سال بعد ہی صدر اسحاق خاں نے حکومت برطرف کر دی۔      ٭

مزید : کالم