مولوی احمد ملاح کی شاعری

مولوی احمد ملاح کی شاعری

                                            قرآن پاک کا سندھی زبان میں منظوم ترجمہ کرنے والے لاڑکے معروف شاعر مولوی احمد ملاح کے شاعری پومبنی 12الگ الگ مجموعوں سمیت سندھ کے طول و عرض میں بکھرے ان کی شاعری کے شائع نہ ہونے والے نسخوں کو اکٹھا کرکے کلیات احمد کے نام سے ترتیب دی جانے والی کتاب اور مولوی موصوف کی غزلیات احمد کی رونمائی بلاول پارک ٹنڈوباگو میں ایک پُروقار تقریب میں کی گئی....تقریب کا اہتمام رستمانی ایجوکیشن سوسائٹی کی جانب سے کیا گیا تھا۔تقریب کی صدارت کے فرائض علم و ادب کے حوالے سے اپنی الگ شناخت رکھنے والے سابق وائس چانسلر جامشورو یونیورسٹی مظہر الحق صدیقی نے ادا کئے، جبکہ ڈائریکٹر اقبال اکیڈمی لاہور محمد سہیل عمر تقریب کے مہمان خصوصی تھے.... لاڑ کالال کے حوالے سے علمی دنیا میں اپنا ایک منفرد مقام رکھنے والے مولوی احمد ملاح کے شاعری کے الگ الگ مجموعوں اور بکھرے اشعار کو یکجا کرکے موتیوں کی مالا بنا کر کلیات احمد کے نام سے 600سے زائد صفحات پر مشتمل کتاب ترتیب دینے اور مولوی احمد ملاح کی غزلیات احمد پر اعراب لگانے کا فریضہ انجام دینے والے مقامی پروفیسر ضرار رستمانی کو تقریب میں شریک علمائ، ماہرین فلسفہ، مفکرین، ادبائ، شعرائ، صوبائی و ملکی سطح کے علمی ماہرین نے اپنے اپنے الفاظ و انداز میں خراج تحسین پیش کیا۔

رستمانی ایجوکیشن سوسائٹی کے چیئرمین خالد رستمانی نے اپنی مختصر تقریر میں کہا کہ ہمارا بھائی ضرار رستمانی اپنے اس کام میں اتنا مگن ہوگیا تھا کہ ہمیں اس کی صحت کے حوالے سے خدشات لاحق ہو گئے تھے، مگر آج تقریب میں جس انداز سے ان کی ان کوششوں کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے، اس سے ہم سب کے سر فخر سے بلند ہو گئے ہیں۔لاڑ کے علاقہ میں فلسفہ اور اسلامی سکالر کی حیثیت رکھنے والے پروفیسر ضرار نے اپنی تقریر میں کہا کہ مولوی احمد ملاح کی لازوال شاعری کو ایک جگہ یکجا کرنا ان کی دلی تمنا تھی، جو آج پایہ تکمیل کو پہنچی ہے۔انہوں نے کہا کہ سب سے مشکل مرحلہ مولوی احمد ملاح کی ”غزلیات احمد“ پر اعراب لگانا تھا جو دو سال کے عرصے میں مکمل ہوا ہے۔ پروفیسر ضرار رستمانی نے کہا کہ اب وہ مولوی احمد ملاح کی شاعری کے تیسرے ایڈیشن کو ترتیب دے رہے ہیں۔پروفیسر ضرار نے کہا کہ ان کی کوشش صرف یہ ہے کہ لاڑ کے اس عظیم شاعر کو اس انداز میں دنیا کے سامنے لایا جائے کہ کم از کم سندھ میں تو لوگوں کو پتہ چلے کہ مالی طور پر غریب، مگر فکری اور عملی طور پر قدرت کی نعمتوں سے مالامال مولوی احمد ملاح صرف لاڑ ہی کے نہیں،بلکہ قومی سطح کے شاعر تھے۔

کتاب کی رونمائی کی تقریب کے مقررین نے مولوی احمد ملاح کے قرآن پاک کے سندھی زبان میں منظوم ترجمے کو ایک عظیم کارنامہ قرار دیا ہے۔ نور القرآن کے نام سے موسوم اس منظوم ترجمے کو عالم اسلام کے جید علماءاور اسلامی سکالر ہر لحاظ سے درست قرار دے چکے ہیں۔ نورالقرآن کا پہلا ایڈیشن سابق وزیراعلیٰ سندھ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم کے چچا ارباب الہجڑیو خان نے شائع کرایا تھا، جبکہ دوسرا ایڈیشن داﺅد فاﺅنڈیشن کراچی، تیسرا ایڈیشن مہران آرٹ کونسل حیدرآباد، چوتھا ایڈیشن سعودی عرب کی حکومت اور پانچواں ایڈیشن سندھ اکیڈمی حیدرآباد نے شائع کرایا تھا۔مقررین نے قرآن پاک کے سندھی زبان میں منظوم ترجمے کو ایک معجزہ قرار دیا ہے۔

نورالقرآن کے علاوہ مولوی احمد ملاح کے شاعری کے مجموعوں میں دیوان احمد، گلزار احمد، پیغام احمد، غزلیات احمد، معرف الٰہی اور فتح لواری سمیت مجموعی طور پر 12کتب شامل ہیں۔مولوی احمد ملاح کا ایک اور عظیم کارنامہ ہے جو انہوں نے سرانجام دیا، اس کا اندازہ ان کی کتاب فتح لواری پڑھ کر لگایا جا سکتا ہے۔تقریب کے شرکاءنے مولوی احمد ملاح کی ان کتابوں کا دنیا کی دیگر زبانوں میں ترجمہ کرنے کی قرارداد بھی منظور کی۔اس علمی تقریب میں لاڑ کے ممتاز فنکاروں نے مولوی احمد ملاح کے کلام اور غزلیات کے رنگ بکھیرے، علمی شخصیات نے مقالے پڑھے۔آخر میں رستمانی ایجوکیشن سوسائٹی کے چیئرمین خالد رستمانی نے کلیات احمد کو مرتب کرنے اور مولوی احمد ملاح کے سندھ بھر میں شاعری کے بکھرے موتی یکجا کرنے میں ہر قسم کا عملی تعاون کرنے پر علمی و ادبی شخصیات، مقامی شعراءاور دوست احباب کا شکریہ ادا کیا۔      ٭

مزید : کالم