ہندوﺅں نے گائے چوری کے شبہ میں مسلمان ہیڈماسٹر مارڈالا

ہندوﺅں نے گائے چوری کے شبہ میں مسلمان ہیڈماسٹر مارڈالا
ہندوﺅں نے گائے چوری کے شبہ میں مسلمان ہیڈماسٹر مارڈالا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

نئی دلی(ویب ڈیسک) بھارت میں ہندو انتہا پسندوں کو لگام نہ ڈالی جاسکی ، ہندو جنونیوں نے گائے چوری کے شبے میں بھارتی شہر منی پور میں 55 سالہ ہیڈماسٹر کو مار ڈالا۔ نجی ٹی وی کے مطابق 55 سالہ ہیڈ ماسٹر حشمت علی کے لواحقین نے ملزموں کی گرفتاری تک لاش کی تدفین کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق ایک مسلمان کے دادری جیسے قتل سے منی پور میں کانگرس کی حکومت پریشان ہے، ہیڈماسٹر کے قتل پر بننے والی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے آج منی پور میں ہڑتال کی کال دی ہے، محمد حشمت علی عرف بابو کو ضلع امفال کے ایک گاﺅں میں لاٹھیوں سے مار مار کر ہلاک کر دیا گیا، کمیٹی کے کنوینر راج الدین کا کہنا ہے کہ ہیڈماسٹر نیک دل اور ایماندار استاد تھا وہ چوری جیسا جرم کرہی نہیں سکتے، پولیس کو پتہ ہے کہ جرم کس نے کیا لیکن وہ اسکے ایکشن نہیں لے رہی،ہم اس وقت تک ہسپتال سے میت نہیں لے کر جائیں گے جب تک انصاف نہیں مل جاتا ، انہوں نے کہا ہم نے وفاقی حکومت سے اس واقعہ میں مداخلت کی اپیل کی ہے، پولیس کا کہنا ہے علاقے کیراﺅمکٹنگ میں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور یہاں کشیدگی پائی جاتی ہے، لوگوں نے لکبرگ تھانے پر حملے کی کوشش بھی کی ہے ، ریاست منی پور کی کل آبادی کا ساڑے آٹھ فیصد مسلمان ہیں، پینگال برادری کے یہ لوگ پکے مسلمان ہیں، منی پور کے وزیراعلیٰ اور کرم البوبی کا تعلق بھی اسی علاقہ سے ہے، پینگالز اور اکثریتی برادری میٹیس کبھی بھی مل کر نہیں رہے، دونوں کے درمیان 1993 میں ہونیوالے فسادات میں ڈیڑھ سو لوگ مارے گئے تھے۔