پاکستان میں صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے عالمی ادارہ کی مدد سے محفوظ مراکز قائم کرنے کا فیصلہ

پاکستان میں صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے عالمی ادارہ کی مدد سے محفوظ ...
 پاکستان میں صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے عالمی ادارہ کی مدد سے محفوظ مراکز قائم کرنے کا فیصلہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان میں صحافیوں کے تحفظ کویقینی بنانے کیلئے ملک کے چھ بڑے پریس کلبوں کا بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل میڈیا سپور ٹ(آئی ایم ایس) کے تعاون سے سیفٹی ہبز یا محفوظ مراکز قائم کرنے کا معاہدہ طے پا گیا۔بی بی سی کے مطابق اس موقع پر آئی ایم ایس کے جنوبی ایشیاء کیلئے مینیجر مارٹن آسٹرونگ نے اپنے خطاب میں کہا کہ صحافیوں کو خطرات محض پاکستان میں نہیں ہیں لیکن پاکستان صحافیوں کو دھمکیوں پر کس طرح سے ردعمل ظاہر کرتا ہے اس سے دنیا کے دیگر ممالک کو بھی سبق مل سکتا ہے۔ اس منصوبے سے مقامی صحافیوں کو ملنے والی دھمکیوں کا ٹھوس ردعمل تیار کرنے میں مدد مل سکے گی۔
منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا اور سب سے بڑا پروگرام ہے۔اورناروے کی حکومت آئی ایم ایس کے ذریعے اس منصوبے کی مالی معاونت کرے گی۔ اس معاہدے کے تحت ملک کے چھ بڑے پریس کلبوں کو منتخب کیا گیا ہے جن میں اسلام آباد، کراچی، لاہور، پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان اور کوئٹہ شامل ہیں ۔ اس پروگرام کے ابتدائی مرحلے میں پانچ بڑے پریس کلبوں میں محفوظ مراکز پانچ ماہ کے لیے آزمائشی بنیادوں پر قائم کیے جائیں گے جہاں صحافیوں کو ملنے والی دھمکیوں کو ریکارڈ کیا جائے گا اور اس کی نوعیت کے تعین، اس کا تجزیہ کرنے کے بعد فوری اگلا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ اب کوئی بھی صحافی دھمکی ملنے پر اپنے قریبی پریس کلب میں اس کا اندراج کرا سکتا ہے جس کے بعد اسے ہر قسم کی مدد مہیا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
پاکستان میں صحافی برادری نے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ان سیفٹی ہبز کا قیام صحافی براداری کو اپنے فرائض منصبی بلا خوف و خطر ادا کرنے میں معاون و مددگار ثابت ہوگا۔
ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں سن 2000 سے 116 صحافی قتل کیے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ دو ہزار سے زائد صحافی اغوا، زخمی یا گرفتار کیے جاچکے ہیں۔منتظمین کا کہنا تھا کہ یہ اعداد و شمار اخبارات میں شائع ہونیوالی رپورٹس کی بنیاد پر حاصل کئے گئے ہیں ہیں لیکن ان ’سیفٹی ہبز‘ کے قیام سے زیادہ مستند اعداد و شمار مل سکیں گے۔ اسی قسم کے ایک منصوبے پر ہمسایہ ملک افغانستان میں بھی عمل درآمد ہو رہا ہے۔

مزید :

اسلام آباد -