جنرل راحیل شریف کا دورہ اور سعودی حکمرانوں کے ساتھ عہد و پیمان

جنرل راحیل شریف کا دورہ اور سعودی حکمرانوں کے ساتھ عہد و پیمان

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پاکستان اور سعودی عرب نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انتہا پسندی کے خلاف میکنزم کو نئی توانائی کے ساتھ فعال کرنے پر اتفاق کیا ہے، سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی سالمیت کو کسی بھی نوعیت کا خطرہ سعودی عرب کے لئے ناقابل قبول ہوگا۔ سعودی فرمانروا اور ولی عہد نے پاک فوج کے سربراہ کو یقین دلایا کہ سعودی عرب پاکستان میں امن و استحکام کی حمایت کرے گا۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز، سعودی ولی عہد اور وزیر دفاع نے کہا کہ وہ پاکستان اور پاک فوج کا نہایت احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن ضربِ عضب میں پاک فوج کی قربانیوں کی تعریف کی۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے شاہ سلمان سے ملاقات کے دوران انہیں یقین دلایا کہ پاکستان حرمین شریفین اور سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کا تحفظ اور دفاع کرے گا۔ جنرل راحیل شریف نے بدھ کو سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز، سعودی ولی عہد شہزادہ محمدبن نائف اور وزیر دفاع محمد بن سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں کے دوران باہمی دلچسپی کے امور ،دو طرفہ دفاعی اور سیکیورٹی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقاتوں کے دوران سعودی رہنماؤں اور جنرل راحیل شریف کے درمیان اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات کی مشترکہ عظیم تاریخ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان بھائی چارے کا گہرا جذبہ پایا جاتا ہے جو پائیدار شراکت دای میں تبدیل ہو رہا ہے۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز دونوں نے اتفاق کیا کہ علاقائی استحکام میں دونوں ممالک کا کردار انتہائی اہم ہے اور امت مسلمہ کے حوالے سے بھی دونوں ممالک پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
سعودی عرب وہ پاک سرزمین ہے جہاں مسلمانوں کے دو انتہائی مقدس مقامات واقع ہیں، سعودی حکمران اپنے آپ کو انہی دو مقامات (حرمین شریفین) کا خادم کہلانے میں فخرمحسوس کرتے ہیں، دنیا بھر کے مسلمان اپنی محبتوں اور عقیدتوں کے ان مراکز پر اپنی جان وار دینے کو سعادت سمجھتے ہیں۔ان مقامات کی حاضری سے حضوری قلب میں اضافہ ہوتا ہے اور ہر مسلمان یہاں حاضری دے کر اپنے ایمان کی حرارت میں اضافہ کرتا اور ایمان کی قندیلیں روشن کرتا ہے۔ ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں فرزندانِ اسلام دور دراز کا سفر کرکے بیت اللہ شریف کا حج کرتے اور مدینہ منورہ میں روضہ رسولؐ پر حاضری دیتے اور مسجد نبوی میں تقرب الی اللہ کا سرور حاصل کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ سرزمین اور اس کے محافظ مسلمانوں کی عقیدت و محبت کا مرکز ہیں۔ قیام پاکستان سے لے کر اب تک پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان محبت و عقیدت کے رشتے بھی قائم ہیں اور دونوں ملکوں کے حکمران اور حکومتیں ایک دوسرے کے ساتھ باہمی تعاون کی بھی ایک شاندار تاریخ رکھتی ہیں۔ سعودی حکمران نے مشکل کی ہر گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا، جب کبھی مالی مشکلات کے ادوار آئے سعودی عرب نے پاکستان کی بھرپور مدد کی، پاک بھارت جنگوں کے علاوہ جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کئے اور امریکہ سمیت مغربی ملکوں نے اقتصادی پابندیاں عائد کر دیں تو سعودی عرب نے دل کھول کر پاکستان کی مدد کی اور یوں پاکستان عالمی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوا۔ ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کے مراحل کے دوران اور بعد میں جب کبھی پاکستان کو مالی وسائل کی ضرورت پڑی سعودی عرب نے اسے پورا کیا۔ پاکستان کی حکومتوں نے بھی چاہے ان کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے رہا، وہ جمہوری تھیں یا فوجی، ان سب کے ادوارمیں دونوں ملکوں کے تعلقات مثالی رہے۔

سعودی عرب تیل کی دولت سے مالامال ملک ہے اور سعودی حکمران اپنے عوام کی خدمت کے ساتھ ساتھ مسلمان امہ کی خدمت کوبھی اپنا بنیادی فریضہ سمجھتے ہیں۔ ہر سال حجاج کرام لاکھوں کی تعداد میں سعودی عرب جاتے ہیں ان حاجیوں کی بہتر سے بہتر خدمت سعودی حکمرانوں کا شیوہ ہے۔ تاہم اتنے بڑے ہجوم میں بعض اوقات افراد کی انفرادی غفلت یا کسی اجتماعی غلطی کی وجہ سے کوئی حادثہ ہو جاتا ہے تو بعض حلقے جھٹ سے اسے سعودی حکمرانوں کے کھاتے میں ڈال کر اس پر طرح طرح کے تبصرے شروع کر دیتے ہیں اس بار موسم حج میں جب پہلے خانہ کعبہ کے اندر تعمیراتی کام کے لئے کھڑی ہوئی کرین شدید طوفانِ بادوباراں کی وجہ سے گری اور اس کی وجہ سے جانی نقصان ہوا اور بعد میں منیٰ کا سانحہ پیش آیا اور بھگدڑ میں بڑی تعداد میں حاجی شہید ہوگئے تو اس کی بنیاد پر سعودی حکومت کو ہدفِ تنقیدو ملامت بنانا شروع کر دیا گیا اورعالمی سیاسی ایجنڈے کے تحت ایسی تجاویز پیش کی جانے لگیں جن میں نیک نیتی سے زیادہ سیاسی مقاصد کارفرما تھے۔ سچی بات یہ ہے کہ سعودی ادارے جس حسن عمل کے ساتھ حج انتظامات کرتے اور دل کھول کر خرچ کرتے ہیں یہ سعودی حکمرانوں کے اخلاص نیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ قیام سعودی عرب سے پہلے کے حج انتظامات اور آج کے انتظامات کا موازنہ کریں تو تمام تر صورتِ حال بخوبی سمجھ میں آ جاتی ہے۔ کوئی نہ سمجھنے پر ادھار کھائے بیٹھا ہو تو اسے کیا کہیے؟
سعودی عرب کی سلامتی کو گزشتہ کچھ عرصے سے بڑے خطرات لاحق ہیں۔ یمن میں غیر ملکی اثرورسوخ کی وجہ سے ایسے حالات پیدا ہو چکے ہیں کہ وہاں سے جا کربعض گروہوں کی جانب سے سعودی عرب کے اندر دہشت گردی کی کارروائیوں کی جاتی ہیں۔ سعودی عرب ایسے دہشت گردانہ واقعات سے کچھ عرصہ پہلے تک آشنا نہ تھا، ان واقعات نے سعودی حکمرانوں کو الرٹ کر دیا ہے اور وہ اپنی سیکیورٹی کے اس پہلو پر زیادہ توجہ دینے لگے ہیں۔ یمن کے حالات کی وجہ سے سعودی عرب کی سالمیت کو خطرہ لاحق ہوا تو سعودی عرب نے پاکستان سے فوج طلب کی، لیکن پاکستانی فوج یہاں دہشت گردی کی کارروائیوں میں مصروف تھی اس لئے ان حالات میں ملک سے باہر جا کر خدمات انجام دینے میں اس کے لئے کچھ مشکلات تھیں جن کا سعودی حکمرانوں کو ادراک تھا پھر پاکستانی سیاسی اور عسکری قیادت نے اپنے دوروں کے دوران بھی ان پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈال کر سعودی حکومت کو مطمئن کر دیا۔ سعودی حکمران پاکستان کی پوزیشن کو پوری طرح سمجھ چکے ہیں یہی وجہ ہے کہ جنرل راحیل شریف کے حالیہ دورے میں سعودی فرمانروا، ولی عہد اور وزیر دفاع نے اپنے بیانات میں پاکستان کی سالمیت کے لئے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔جنرل راحیل شریف نے بھی حرمین شریفین اور سعودی عرب کی سالمیت کے دفاع کے لئے پاک فوج کی خدمات پیش کیں اور اپنے اس عزم کو دہرایا کہ سعودی سالمیت کا ہر طرح سے تحفظ کیا جائے گا۔ دونوں ملکوں کی اینٹی ٹیررازم فورس کے درمیان حال ہی میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مشقیں بھی ہوئی ہیں جو اس عزم کا بھرپور اظہار ہے کہ ہر قسم کے خطرے میں دونوں ملکوں کی سیکیورٹی افواج ایک صفحے پر ہیں مقامِ شکر ہے کہ ایک مرحلے پر دشمنوں اور دوست نما دشمنوں نے دونوں ملکوں کے تعلقات میں دراڑ ڈالنے کی جو کوشش کی تھی اور جس کا ایک معمولی اظہار یو اے ای کے ایک وزیر نے برملا کر بھی دیا تھا وہ ناکام ہو چکی ہے اور دونوں ملک ایک دوسرے کے ساتھ قدم سے قدم اور کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں۔

مزید :

اداریہ -