پنجاب میں سرمایہ کاری کے شاندار مواقع

پنجاب میں سرمایہ کاری کے شاندار مواقع

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

نریندر مودی کی ہزار کوششوں کے باوجود خارجہ سرمایہ کاری کے شعبے میں پاکستان کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ رہا ہے۔ پاکستان کے دوستوں اور خیر خواہوں میں چین سر فہرست ہے۔ کچھ عرصہ پہلے چین کے صدر نے پاکستان میں 46 ارب ڈالر کی عظیم الشان سرمایہ کاری کے منصوبوں پر دستخط کئے ہیں۔ خارجہ سرمایہ کاری کے میدان میں موجودہ حکمرانوں کی کامیابیاں اظہر من الشمس ہیں۔ خوشحالی پاکستان کا مقدر اور خود انحصاری کا حصول ممکن بننے والا ہے۔۔۔ دہشت گردی ، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور’’را‘‘ کی خون آلود کارروائیوں سے کاروباری حالات مکمل طور پر جامد ہو چکے تھے۔ پاک فوج نے دہشت گردوں کا قلع قمع کردیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی موجودگی میں پاکستان اور چین کے سرمایہ کاری شعبوں کے مابین باہمی اقتصادی سرگرمیاں بڑھانے کے معاہدے کے علاوہ ایران پر امریکی پابندیاں اٹھاتے ہی پاکستان کے ساتھ تجارت بڑھانے کیلئے سوچ بچار کا آغاز پاکستان کے لئے نہایت خوش آئند ہے۔
پنجاب اس وقت سرمایہ کاری کے لئے انتہائی موزوں صوبہ ہے اور یہاں زراعت، لائیوسٹاک، توانائی، کان کنی، انفراسٹرکچر ، ہاؤسنگ اور دیگرشعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ پنجاب میں کاروباری مواقع کے حوالے سے ایک بین الاقوامی سیمینار کا انعقاد کیا جا رہا ہے ۔بین الاقوامی سیمینار پنجاب میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس سیمینار سے پنجاب کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات اجاگر ہوں گے۔ سیمینار کے انعقاد سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پنجاب کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی جانب راغب کیا جا سکے گا۔ بین الاقوامی سیمینار پنجاب کی ترقی اور خوشحالی کے حوالے سے سنگ میل ثابت ہوگا۔ غیرملکی سرمایہ کاری کے فروغ سے معیشت میں بہتری آئے گی اور ترقی کے مواقع بڑھیں گے۔ پنجاب میں ملکی و غیرملکی سرمایہ کاروں کو ترجیحی بنیاد پر سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ صوبے میں سازگار ماحول اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے باعث غیرملکی سرمایہ کاروں کا رجحان بڑھ رہا ہے اور متعدد غیرملکی کمپنیاں پنجاب میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔

صوبے میں غیرملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے سلسلے میں وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف اور حکومت پنجاب کی کاوشیں ثمرآور ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی طرف سے غیرملکی سرمایہ کاروں کو صوبے میں سرمایہ کاری کے حوالے سے انتہائی سازگار ماحول فراہم کرنے کی پیش کش کے بعد ترکی، چین اور ایران کے سرمایہ کار مختلف شعبوں میں سرمایہ لگانے میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔ پاک چین دوستی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی چین کے ساتھ طویل المدت تعاون کی پالیسی کے پیش نظر بہت سے دوسرے شعبوں کے ساتھ ساتھ ٹیکسٹائل کے شعبے میں بھی چینی سرمایہ کاروں کے لئے دروازے کھول دیئے گئے ہیں۔ پنجاب بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ اور پاک چائنہ بیورو نے شیئرز کی خرید وفروخت اور سرمایہ کاری کے حوالے سے اہم کردار ادا کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے دورۂ چین کے دوران پاکستان میں مختلف صنعتی شعبوں میں سرمایہ کاری چینی کمپنیوں کی سرمایہ کاری بڑھانے کے لئے بنائی جانے والی چھ رکنی کمیٹی نے کام شروع کردیاہے۔ یہ کمیٹی بنک آ ف چائنہ(آئی سی بی سی بنک)کے چیئرمین جیانک کوٹنگ کی ملاقات کے دوران بنائی گئی تھی۔ جس میں تین ارکان کا تعلق پاکستان اور تین ارکان چینی بنک نے نامزدکئے تھے۔


وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے آئی سی بی سی بنک کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کی روشنی میں جو رابطے کئے ان کی کوششیں رنگ لائیں گی، اور جلد ہی پاکستان میں چینی سرمایہ کاری سے پراجیکٹس شروع ہوں گے۔ تین کھرب ڈالر کے ذخائررکھنے والے آئی سی بی سی بنک کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے بارے میں بتایاگیا ہے کہ اس معاہدے کے تحت چینی بنک حکومت پنجاب اور ملک میں مختلف شعبوں کے لئے ،جن میں گارمنٹس، آٹو اسمبلنگ، سیمنٹ، آئرن، سٹیل اور الیکٹرانک آئٹمز شامل ہیں کے تکنیکی اور مالی معاونت فراہم کرے گا۔ ان شعبوں میں سرمایہ کاری کے لئے چینی بنک فنانشل ایڈوائزر کی حیثیت سے کا م کرے گا۔وزیر اعلیٰ نے اپنے دورۂ برطانیہ میں برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ اور دیگر حکام سے ملاقاتیں کیں اور برطانوی سرمایہ کاروں کو پنجاب میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ لندن میں وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ برطانیہ اور پنجاب کے درمیان تجارتی روابط میں اضافے کے لئے وزیر اعلیٰ پنجاب کے اقدامات قابل تعریف ہیں، جن کی وجہ سے برطانیہ اور پنجاب کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔


وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف نے بتایا کہ پنجاب میں کرپشن کے خاتمے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے گئے ہیں۔ صوبے میں سرکاری اخراجات اور ٹینڈر کے طریقہ کار کو مزید شفاف بنانے کے ضمن میں برطانیہ سے تعاون حاصل کیا جائے گا۔ پنجاب حکومت سرمایہ کاروں کو خصوصی مراعات اور سہولتیں فراہم کر رہی ہیں۔ برطانوی سرمایہ کار پنجاب میں توانائی، ٹرانسپورٹ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔ برطانیہ کے ساتھ تجارتی حجم میں مزید اضافہ ہونا چاہئے۔ میاں شہباز شریف کے مسلسل رابطوں سے ترکی پاکستان کا بہترین تجارتی پارٹنر بن چکا ہے۔ ترکی پاکستان میں انفراسٹرکچر صفائی انرجی سمیت متعدد شعبوں میں کافی پیش رفت کر چکا ہے۔


موجودہ حکومت کی پالیسیوں اور کوششوں کے نتیجے میں نہ صرف ملک کی معیشت بہتر سمت میں رواں ہوئی ہے، بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کا سلسلہ بھی بڑھاہے۔ امریکی سفیر رچرڈ اولسن نے پاکستان کے معاشی حالات کو اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں سرمایہ کاری کے امکانات تیزی سے روشن ہورہے ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں سکوک بانڈز کے کامیاب اجراء سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھاہے، جبکہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی پاسداری نے بھی معیشت پر مثبت اثرات مرتب کئے ہیں۔۔۔ قطر انوسٹمنٹ اتھارٹی نے جو پاکستان میں سرمایہ کاری کا عزم رکھتی ہے ، وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف سے ملاقات کے بعد سرمایہ کاری کافیصلہ کیاہے۔ اس فیصلے کے تحت قطر انوسٹمنٹ اتھارٹی بجلی پیداوار، گیس کی سپلائی اور بعض دیگر شعبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ قطر انوسٹمنٹ اتھارٹی کے سرمائے سے مشرق وسطیٰ اور یورپ سمیت دنیا کے مختلف ملکوں میں اربوں ڈالر کے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے، لیکن پاکستان میں اس کی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے ۔وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف نے کہا کہ اربوں روپے کی سرمایہ کاری کا قطر کی حکومت کا فیصلہ پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کے حوالے سے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا۔ قطر کے دورے میں وزیر اعلیٰ کی ملاقاتوں کے دوران نجی شعبے کی طرف سے توانائی اورزراعت کے شعبوں میں بھی غیر معمولی دلچسپی کا اظہار کیاگیا۔


غیر ملکی سرمایہ کاروں کی سیکورٹی کے حوالے سے یہ ضروری ہے کہ جہاں بھی کسی منصوبے میں غیر ملکی افراد مصروف کار ہوں ،ان کی سیکیورٹی کو یقینی بنایاجائے۔ غیر ملکی کارکنوں کو ہرگز عدم تحفظ کا احساس نہیں ہوناچاہیے۔ سرمایہ کاری کے لئے پاکستان کی ترغیبات کتنی پُرکشش کیوں نہ ہوں، منافع بھی اپنی جگہ، لیکن اگر غیر ملکی ماہرین اور کارکنوں کو تحفظ حاصل نہیں ہے تو سارے اقدامات بے معنی ہو کر رہ جائیں گے، اس لئے حکومت کو اس معاملے میں بھی ٹھوس حکمت عملی وضع کرنا ہوگی۔پنجاب حکومت کے لئے یہ لازم ہے کہ سرمایہ کاری کے تحفظ کی طرح سرمایہ کار اداروں سے وابستہ افراد کو بھی تحفظ فراہم کرنے کے لئے بھرپور اقدامات بروئے کار لائے۔ سیاستدانوں سے بھی ہماری درخواست ہے کہ خارجہ سرمایہ کاری کے لئے حکومتی اقدامات کو ثمر آور بنانے کی کوششوں میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی بجائے مدد گار بنیں تاکہ خوشحالی عوام کا مقدر بنائی جا سکے، اگر آج اقتصادی بنیادیں درست اور پختہ ہو جائیں گی تو آنے والی کل عوام کے لئے سہولتیں فراہم کرنے میں آسانی رہے گی۔

مزید :

کالم -