جعلی فیس بک اکاؤنٹ والے خبردار، جیل جانا پڑے گا

جعلی فیس بک اکاؤنٹ والے خبردار، جیل جانا پڑے گا
جعلی فیس بک اکاؤنٹ والے خبردار، جیل جانا پڑے گا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

چودھری خادم حسین:


سوشل میڈیا کے نام سے توہین کرنے اور دوسروں کا مضحکہ اڑانے والے حضرات کو خبردار ہونا چاہئے کہ اب اس میڈیم کی سیاست میں بھی مہذب انداز اپنانا پڑے گا دوسری صورت میں جیل کی ہوا بھی کھانا پڑ سکتی ہے۔ اس سلسلے میں خصوصی طور پر وہ سب لوگ خبردار رہیں جو فیس بک کے جعلی اکاؤنٹ بنا کر دوسروں کی پگڑی اچھالتے اور گالیاں ہی نہیں دیتے شرمناک جعلی تصاویر بھی اپ لوڈ کرتے ہیں، اس سلسلے میں ایک مثال سامنے آ گئی ہے کہ سائبر کرائمز کا قانون منظور ہونے کے بعد ایف آئی اے کا سائبر کرائمز ونگ متحرک ہو گیا اور شکایات پر تحقیقات اور تفتیش کرنے لگا، ایسے پہلے کیس میں ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت سے ایک شخص طاہر قیوم جنجوعہ کو تین سال قید اور پچیس ہزار روپے جرمانہ کی سزا ہوئی ہے۔ اس شخص نے ایک دوشیزہ کے نام پر جعلی اکاؤنٹ بنا کر ایک خاتون کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔ شکایت پر ایف آئی اے نے کارروائی کی ا ور مجرم پکڑا گیا اور اسے سزا بھی ہوئی۔
آج کل سوشل میڈیا کا بہت تذکرہ اور زور ہے۔ سیاسی جماعتوں کے حامی باقاعدہ اکاؤنٹ اور ویب بنا کر رسوا کن تصاویر پوسٹ کرتے اور سیاسی قائدین اور جماعتوں کو غلیظ اور گندے القاب بھی دیتے ہیں۔ بلکہ مخرب اخلاق تصاویر پوسٹ کرتے ہیں جو کمپیوٹر کا کمال ہوتی ہیں، اس کے علاوہ یہ حضرات صحافیوں کو گالیاں دیتے اور مخالف سیاسی جماعتوں کے خلاف سیاسی پروپیگنڈہ بھی کرتے ہیں۔ ان میں اکثر سائبر کرائمز کی زد میں آتے ہیں۔ اب اگر ایف آئی اے کا شعبہ فعال ہوا ہے تو متاثرین کو اپنی شکایات بھی درج کرانا چاہئیں کہ ایک مثال تو سامنے آ گئی ہے۔ اگر مہذب حضرات قانون کا سہارا لیں تو مزید غلط کاروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکتا ہے۔ جب ایسا ہوگا تو اس شعبہ میں بھی اصلاح کا پہلو نکل آئے گا۔ جہاں تک مثبت انداز میں تنقید کا تعلق ہے تو اس پر کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے اس لئے بہتر تو یہی ہے کہ اب ایسے شرارتی حضرات باز آ جائیں۔
اس سلسلے میں افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس شعبہ میں گندگی اور غلاظت کی حوصلہ افزائی خود سیاسی جماعتوں کے راہنماؤں نے کی۔ دوسروں کی پگڑی اُچھلتی تو خوش ہوتے اور اپنی باری پر چین بچین دیکھا یہ گیا ہے کہ آئی ٹی کے ماہر نوجوانوں کی باقاعدہ حوصلہ افزائی کی گئی۔ اب یہ نشان وہی کہ کس نے کیا کیا بالکل فضول ہے کیونکہ عوام مکمل طور پر واقف ہیں کہ ایسی حرکتیں کون کر رہا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اس سے اشتعال بھی پھیلتا ہے ہم نے نصف صدی اس پیشہ میں گزار دی اور اب یاد ماضی عذاب ہے یا رب کی بات کرتے ہیں۔ ماضی کی سیاست میں دشنام طرازی اور گالی کا رواج نہیں تھا، ایک دوسرے کے راہنماؤں کے نام عزت سے لئے جاتے تھے البتہ طنزیہ فقرہ بازی ہوتی۔ اس میں بھی کوئی نازیبا لفظ استعمال کیا جاتا تھاتو اس کی بہت مذمت ہوتی تھی ماضی میں ایک دور الزام تراشی کا آ چکا۔ پیپلزپارٹی زیادہ نشانہ بنی لیکن اسے پارٹی کے مخالف قومی اتحاد والوں نے بھی پسند نہیں کیا تھا۔ چہ جائیکہ ادھر سے بھی چاند ماری ہوتی اور اگر کبھی ہوتی تو اسے پسند نہیں کیا گیا۔ افسوس کہ اب کلچر بنا دیا گیا اس سے رنجش اور بڑھ کر دشمنی پیدا ہوتی ہے اور پھر نوبت مارکٹائی ہی نہیں فائرنگ تک پہنچتی ہے کہ مارکٹائی بھی یاد ماضی ہو کر رہ گئی اب تو اسلحہ عام ہے۔
ان حالات میں ضروری ہو گیا ہے کہ ہمارے سیاست دان اور قائدین تنقید مہذب انداز میں کریں۔ پگڑی اچھالنے کا سلسلہ بند کر دیں اور اپنے حامیوں کو بھی تلقین کریں کہ وہ سوشل میڈیا کا غلط استعمال نہ کریں معاشرے میں میانہ روی اور برداشت کا مادہ پیدا کرنا ضروری ہے کہ سیاست ، سیاست ہی رہے ذاتی دشمنیوں تک نہ جائے۔

مزید :

تجزیہ -