فیکٹریوں میں کام کرنیوالے لاکھوں مزدوروں کو سرکاری محکموں نے لاوارث چھوڑ دیا

فیکٹریوں میں کام کرنیوالے لاکھوں مزدوروں کو سرکاری محکموں نے لاوارث چھوڑ دیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور(جاوید اقبال) صوبائی دارالحکومت سمیت قرب وجوار میں واقع فیکٹریوں میں کام کرنے والے لاکھوں مزدوروں کو محکمہ لیبر، سوشل ویلفےئر اور چائلڈ پروٹیکشن بیورونے لا وارث اور ان کی اکثریت کو فیکٹری مالکان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے ۔اس امر کا انکشاف سندر میں فیکٹری کے حادثہ میں ہوا ہے۔ منہدم ہونے والی راجپوت پولی تھین فیکٹر ی میں 860مزدور 2شفٹوں میں کام کرتے تھے مگر محکمہ لیبر اور سوشل ویلفےئر صرف 42مزدور رجسٹرڈ کر پائے ہیں اورباقی مزدوروں کو سوشل ویلفےئر اور لیبر پالیسی کے فوائد سے محروم رکھا گیا ہے۔واضح رہے کہ محکمہ لیبر اور سوشل ویلفےئر مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کیلئے بنائے گئے ہیں ۔لیبر پالیسی کے تحت فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی رجسٹریشن کرنا ضروری ہے جس کا مقصد مزدوروں اور ان کے اہلخانہ کو تحفظ فراہم کرنا ہوتا ہے۔جب فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی مذکورہ دونوں محکموں میں رجسٹریشن ہو جاتی ہے تو لیبر پالیسی کے تحت دی جانیوالی تمام مراعات مزدوروں کو حاصل ہو جاتی ہیں۔پالیسی کے تحت رجسٹرڈ مزدوروں کو سوشل ویلفےئر کے ہسپتالوں میں مفت علاج معالجہ ،بڑھاپے میں پنشن،حاد ثہ یا حادثاتی موت کی صورت میں محکمہ،فیکٹری اور حکومت سے مراعات معاوضہ کی صورت میں مزدور کے اہلخانہ کو ملتی ہیں۔ پالیسی کے مطابق ہر فیکٹری مالک مزدوروں کو مقررہ تنخواہ اورمراعات دینے کا پابند ہوتا ہے مگر لاہور اور قرب و جوار میں واقع فیکٹریوں میں محکمہ لیبر اور ویلفےئرکے افسروں کی ملی بھگت سے لیبر پالیسی پر 5فیصد سے زائد پر عمل درآمد نہیں ہو رہا ۔فیکٹریوں میں کام کرنے والے 90سے95فیصدمزدروں کی محکمہ لیبر اور سوشل ویلفےئر میں رجسٹریشن ہی موجود نہیں ہے۔سندر انڈسٹریل اسٹیٹ،قائد اعظم انڈسٹریل اسٹیٹ،پیکو روڈ انڈسٹریل اسٹیٹ، فیکٹری ایریافیروز پور روڈ ،فیکٹری ایریاشیخوپورہ سمیت لاہور میں واقع تمام فیکٹریوں میں لیبر قوانین کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں ۔کہیں بھی 100فیصد مزدور رجسٹرڈ نہیں ہیں اور نہ ہی دونوں محکموں کے پاس ریکارڈ موجود ہے کہ کسی فیکٹری میں کتنے مزدور کام کر رہے ہیں اور محکمہ لیبر اورسوشل ویلفےئر میں کتنے مزدور رجسٹرڈ ہیں۔ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مختلف فیکٹریوں میں 30سے40فیصد کم سن بچے کام کر رہے ہیں جو کہ محکمہ جات لیبر ،انڈسٹری ،سوشل ویلفئیر اور چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے علم میں ہے۔مگر آج تک یہ محکمے ایسے فیکٹری مالکان کے خلاف کارروائی نہیں کر سکے۔ زمین بوس ہونے والی راجپوت پولی تھین فیکٹری میں کام کرنے والے کل مزدوروں کا 40فیصد 18سال سے کم عمر بچے تھے جن سے مزدوری لینے کی قوانین اجازت نہیں دیتے، اس فیکٹری میں محکمہ لیبر، انڈسٹری سوشل ویلفیئر اور چائلڈ پروٹیکشن بیورو نے گزشتہ دو سال میں ایک بھی انسپکشن نہیں کی۔ دوسری طرف مسما رہونے والی فیکٹری کے ساتھ سندر انڈسٹریل اسٹیٹ اتھارٹی کے سربراہ کا بھی دفتر واقع ہے مگر اس اتھارٹی کے ذمہ داران نے بھی فیکٹری کی مخدوش عمارت اور لیبر قوانین کی خلاف ورزیوں کا نوٹس نہ لیا۔اس حوالے سے صوبائی وزیر راجہ اشفاق سرور نے کہا ہے کہ یہ معاملہ ہمارے نوٹس میں آیا ہے جس پر کارروائی شروع کر دی گئی ہے جو بھی اس کے ذمہ دار قرار پاتے ہیں ان کیخلاف ایکشن لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس فیکٹری کے مزدورو ں کا ڈیٹا جمع کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
لاکھوں مزدورلا وارث

مزید :

صفحہ اول -