شہباز شریف سے ریاض الحق جج کی ملاقات، غیر مشروط طور پر مسلم لیگ ن میں شمولیت کا اعلان

شہباز شریف سے ریاض الحق جج کی ملاقات، غیر مشروط طور پر مسلم لیگ ن میں شمولیت ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور(جنرل رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب محمدشہبازشریف سے اوکاڑہ سے منتخب رکن قومی اسمبلی ریاض الحق جج نے ملاقات کی اورغیر مشروط طورپر پاکستان مسلم لیگ(ن) میں شمولیت کا اعلان کیا۔ایم این اے ریاض الحق جج نے وزیراعظم نوازشریف اور وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف کی قیادت پر بھر پور اعتماد کا اظہار کیا۔ وزیراعلیٰ شہبازشریف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریاض الحق جج کی پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا خیر مقد م کرتے ہیں اورپاکستان مسلم لیگ(ن) ریاض الحق جج کوپارٹی میں خوش آمدید کہتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ریاض الحق جج جیسے محنتی اورعوامی خدمت کے جذبے سے سرشار سیاستدان کی شمولیت سے پارٹی مزید مضبوط ہوگی۔پاکستان مسلم لیگ(ن) ریاض الحق جج کی اپنی جماعت ہے اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کی حکومت کا مشن عوام کی خدمت اورشفافیت کے ساتھ منصوبوں پر عملدرآمد ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے ملک کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے موثر اقدامات کیے ہیں ۔حکومتی پالیسیوں کے باعث معیشت مضبوط ہوئی ہے اور ملک درست سمت کی جانب گامزن ہے اسی وجہ سے ریاض الحق جیسی شخصیات پارٹی میں شامل ہورہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کی قیادت ملک کو مسائل سے نکالنے کے لئے پرعزم ہے۔دہشت گردی ،انتہاء پسندی ،توانائی بحران،غربت اوربے روزگاری جیسے مسائل پر قابو پانے کیلئے دن رات ایک کررکھا ہے۔انشاء اللہ ہماری مخلصانہ کاوشیں بارآور ثابت ہوں گی اور پاکستان مسائل کے چنگل سے ضرور نکلے گا۔ایم این اے ریاض الحق جج نے اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ وزیراعظم محمد نوازشریف اور وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف کی قیادت پر مکمل اعتماد ہے اورمیں نے پاکستان مسلم لیگ(ن) میں غیر مشروط طورپرشمولیت اختیار کی ہے ۔ اس موقع پر ایم این اے حمزہ شہبازشریف اور ریاض الحق جج کے خاندان کی سرکردہ شخصیات بھی موجود تھیں۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں لاہو رنالج پارک کے منصوبے کے مختلف امور پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے نالج پارک میں انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے قیام کے منصوبے کی منظوری دی۔ وزیراعلیٰ نے نالج پارک میں ایک اور ہائی ٹیک یونیورسٹی کے قیام کا جائزہ لے کر حتمی سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت اپنے وسائل سے انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی کا منصوبہ مکمل کرے گی جبکہ دوسری یونیورسٹی کے قیام کے منصوبے کیلئے بھی فنڈز پنجاب حکومت مہیا کرے گی۔ وزیراعلیٰ نے وائس چانسلر انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی کو انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے منصوبے کیلئے جلد سے جلد حتمی تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے آئندہ 3برس کے لئے نالج پارک کے منصوبے کیلئے 21 ارب روپے مختص کئے ہیں اورپنجاب حکومت اپنے وسائل سے اس منصوبے پر عملدرآمد کیلئے ہر سال 7 ارب روپے فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ لاہور نالج پارک کا منصوبہ سائنس، انفارمیشن ٹیکنالوجی، اعلیٰ معیار کی تعلیم او ردیگر جدید علوم کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا اور یہ منصوبہ تعلیم وتحقیق کے فروغ میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ پاکستان میں اعلیٰ معیار کی تعلیم کے فروغ کے لئے یہ منصوبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ نالج پارک کا منصوبہ حقیقی معنوں میں علم کے فروغ کا باعث بنے گا۔ تعلیم کے فروغ کے لئے اخراجات کی فراہمی سود مند سرمایہ کاری ہے۔ پنجاب حکومت نالج پارک کے منصوبے کے تحت پاکستان کے مستقبل پر سرمایہ کاری کرے گی۔ صوبائی وزیر تعلیم رانا مشہود احمد، چیف سیکرٹری، ماہرین تعلیم، چیئرمین پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ اور چیف ایگزیکٹو آفیسر لاہو رنالج پارک اتھارٹی کے علاوہ متعلقہ حکام نے اجلا س میں شرکت کی۔وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف سے پاکستان میں سویڈن کے سفیر ٹوماس روسینڈر نے ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور‘دو طرفہ تعلقات کے فروغ ، فنی تعلیم‘ سکل ڈویلپمنٹ اور صنعتی شعبے کی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال ہوا۔اس موقع پر وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اورسویڈن کے مابین بہترین دوستانہ تعلقات موجود ہیں تاہم دونوں ملکوں کے درمیان معاشی اور تجارتی تعاون بڑھانے کیلئے موثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔تجارتی وفود کے باہمی تبادلوں سے معاشی تعاون کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے نوجوانوں کو بااختیار بنانے کیلئے سکل ڈویلپمنٹ پر خصوصی توجہ دی ہے اور سکل ڈویلپمنٹ کے ایک بڑے پروگرام کے تحت اب تک ہزاروں نوجوانوں کو ہنر مند بنایا جاچکا ہے ۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق مفید ہنر سکھایاجارہا ہے۔سویڈن فنی تعلیم کے فروغ اور نوجوانو ں کو ہنر مند بنانے کے پروگرام میں تعاون کرسکتا ہے ۔ سویڈش سفیرٹوماس روسینڈر نے اس موقع پر گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خصوصاً پنجاب کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون جاری رکھیں گے ۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف سے بیلاروس کے وزیر صنعت ویٹالے وویک کی سربراہی میں وفد نے ملاقات کی جس میں پنجاب حکومت او ر بیلاروس کا زراعت ، سرجیکل آلات ،مینوفیکچرنگ اور جنگلات کے شعبو ں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا۔بیلا روس کی جانب سے چاول اور سرجیکل آلات کی ایکسپورٹ میں گہری دلچسپی کا اظہار کیاگیا ۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے بیلا روس کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان اور بیلاروس کے درمیان اچھے دوستانہ تعلقات موجود ہیں۔وزیراعظم محمد نوازشریف کے موجودہ دور میں دونوں ملکوں کے تعلقات میں اضافہ ہورہاہے۔ انہوں نے کہاکہ بیلاروس اور پاکستان کے مابین معاشی و تجارتی تعلقات کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔پنجاب کے وفد نے کچھ عرصہ قبل بیلاروس کا دورہ کر کے تعاون بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لیا تھا۔انہوں نے کہاکہ سرجیکل آلات اور چاول کی ایکسپورٹ میں بیلاروس کی دلچسپی کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔پنجاب میں سرمایہ کاری کے لئے انتہائی سازگار فضا موجود ہے۔ بیلاروس کے سرمایہ کار پنجاب کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ زراعت کے شعبہ میں جدید مشینری اور مینوفیکچر نگ سیکٹر کے ساتھ جنگلات کے شعبہ میں بھی بیلاروس کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے تعاون کو فروغ دینے کے حوالے سے مشترکہ کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ بیلا روس کی جانب سے پنجاب کے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کی پیشکش خوش آئندہے۔بیلاروس کے وزیر صنعت ویٹالے وویک نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پنجاب حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کے خواہاں ہیں ۔پنجاب کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کیلئے اقدامات کریں گے ۔ وفد میں بیلاروس کے سفیر اندرے ارمولووچ(Mr.Andrei Ermolovich) ، وزارت خارجہ امور برائے ایشیاء و آسٹریلیاکے سربراہ اندرے گرنکی وچ (Mr.Andrei Grinkevich)اوربیلاروس چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نمائندے شامل تھے ۔ صوبائی وزراء ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا،شیر علی خان،محمد شفیق اورمتعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے ۔

مزید :

صفحہ اول -