وسیع الرقبہ فیکٹری کا نقشہ منظور کرایا گیا تھا نہ ہی بلڈنگ پلان سامنے آسکا: وزیراعلیٰ پنجاب کو ابتدائی رپورٹ پیش

وسیع الرقبہ فیکٹری کا نقشہ منظور کرایا گیا تھا نہ ہی بلڈنگ پلان سامنے آسکا: ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور(جنرل رپورٹر،خبر نگار خصوصی) سندرانڈ سٹریل اسٹیٹ فیکٹری حادثہ کی ابتدائی رپورٹ وزیر اعلیٰ پنجاب کو پیش کر دی گئی ہے۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ راجپوت پولی تھین فیکٹری 2سو کنال پر مشتمل تھی ،مگرعمارت کا نقشہ منظور کرایا گیا تھا نہ بلڈنگ پلان سامنے آسکا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سندر انڈسٹریل اسٹیٹ اتھارٹی کے پاس گرنے والی عمارت کا کوئی نقشہ نہیں ہے ،بلڈنگ کی تعمیر میں انتہائی ناقص میٹریل استعمال کیا گیا تھا۔یہ رپورٹ حکومت کی طرف سے تشکیل دی گئی تحقیقاتی کمیٹی کے کنونئیر سیکرٹری انڈسٹریز نے پیش کی ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلڈنگ کی چوتھی منزل غیر قانونی تھی اور جب بلڈنگ گری تو اس وقت اس میں 300کے لگ بھگ مزدور کام کر رہے تھے۔جن میں فیکٹری کے اندر بنائے گئے سرونٹ کوارٹر میں 50سے زائد مزدور سو رہے تھے۔ذرائع نے بتایا کہ تحقیقات میں محکمہ لیبر،سوشل ویلفئیر،انڈسٹریز کی نااہلی اور نالائقی کا ذکر بھی کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ فیکٹری میں کم سن بچوں کی بڑی تعداد کام کرتی تھی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ریسکیو آپریشن کے دوران 103مزدوروں کو ملبے تلے سے زندہ نکال لیا گیا اور75سے زائد مزدور ابھی تک ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔مزید کہا گیا ہے کہ بلڈنگ کا نقشہ نے ہونے کی وجہ سے ریسکیوآپریشن کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

مزید :

صفحہ اول -