سانحہ سندر میں جان بحق ہونیوالوں کی تعداد 25ہو گئی، فیکٹری کے ملبے تلے دبے 100افراد کو بچانے کی کوششیں

سانحہ سندر میں جان بحق ہونیوالوں کی تعداد 25ہو گئی، فیکٹری کے ملبے تلے دبے ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور ، مانگا منڈی (کرائم سیل، نمائندہ خصوصی) سندر انڈسٹریل اسٹیٹ میں فیکٹری کی چھت گرنے سے تقریباً12گھنٹے میں ملبے تلے دبے 25 مزدوروں کی لاشیں اور 105کے قریب زخمیوں کو زندہ نکال لیا گیا ہے، ڈی سی اولاہور کیپٹن (ر) عثمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ملبے کو مکمل صاف کرنے میں 2دن لگ سکتے ہیں۔ملبے میں دبے ہوئے افراد کی تعداد 100کے قریب ہے، زخمی نوجوان اور کم عمر بچوں کو ریسکیو 1122کی100 رکنی امدادی ٹیم ملبے تلے سے نکالے جانے والوں اور پاک فوج کے تربیت یاقتہ نوجوان زخمیوں کو نکال کر ریسکیو1122کی گاڑیوں میں ڈال کر مختلف ہسپتالوں میں پہنچا رہے ہیں۔ کئی زخمیوں کو نزدیکی شریف سٹی ہسپتال پہنچایا گیا اور ایمرجنسی لگا دی گئی جبکہ کچھ زخمیوں کو رات گئے جناح ہسپتال، جنرل ہسپتال لاہور پہنچایا گیا ہے۔ شریف سٹی ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر امجد بٹ نے بتایا کہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے اور چھٹی پر گئے ہوئے ڈاکٹروں کو بھی واپس بلا لیا گیا ہے، زخمیوں کی وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے حکم پر بہت اچھی دیکھ بھال کی جا رہی ہے، بریگیڈیئر (ر)رشید ضیاء نے بتایا کہ رات گئے ایک نوجوان ابرار حسین کو زندہ نکال لیا گیا ہے، قریبی فیکٹریوں کے ملازموں کے مطابق اس فیکٹری میں تقریباً12سال سے لیکر 16سال کی عمر تک کے بچے بھی کام کرتے ہیں جو غیرقانونی ہے بچوں کو اس لیے رکھا جاتا ہے کہ وہ کام پورا کرتے ہیں اور ان کی تنخواہ کم ہوتی ہے، دوسرے روز تقریباً18گھنٹے بعد 8زخمیوں کو نکال لیا گیا ہے۔ ڈی سی اولاہور کیپٹن (ر) عثمان نے بتایا کہ ملبے کو تو بہت جلد اٹھا لیا جائے گا مگر اس میں نقصان ہو سکتا ہے ہم ٹیکنکل طریقہ سے کام کررہے ہیں کہ فیکٹری کے اندر دبے ہوئے مزدوروں کو کسی نہ کسی طرح زندہ نکال لیا جائے، اب لینٹر کو توڑ کر راستہ بنا رہے ہیں۔ ضلعی حکومت نے جائے وقوعہ پر ہیلپ ڈسک بنا رکھا ہے، لواحقین ہیلپ لائن نمبر1129پر رابطہ کریں۔ جان بحق ہونے والوں میں محمد سلیم، صدام حسین، جاوید اقبال،انتظار حسین،غلام مرتضیٰ، رضا حسین،عرفان علی،ساجد حسین، اورنگزیب، شاہد حسین، فریاد حسین،علی عمران ،ساجد علی،عمران یوسف، راحیل احمد، زاہد حسین،اکرم علی،آصف علی ،عمرداز شامل ہیں، اندر دبے ہوئے لیاقت علی کو 9گھنٹے بعد رات گئے زندہ نکال لیا گیا ہے ۔ لیاقت علی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے کہا کہ زلزلہ آنے کی وجہ سے فیکٹری کی دیواروں اور چھت میں دراڑیں پر چکی تھیں فیکٹری کے مالک کو کئی دوستوں اور کئی دوسری فیکٹری مالکوں نے روکا کہ اس کے اوپر چوتھی منزل نہ بنائیں مگر اس نے کسی کی نہ سنی اور اوپر چوتھی منزل بنانا شروع کر دی تھی جس کی وجہ سے یہ عمارت چوتھی منزل کو وزن پڑنے پر زمین بوس ہو گئی۔ فیکٹری میں تین شفٹوں میں کام ہوتا تھا ملازمین کی رہائش گاہیں بھی اس فیکٹری میں ہیں، اس فیکٹری میں پلاسٹک کے تھیلے تیار ہوتے ہیں تقریباً1شفٹ میں 250 کے قریب نوجوان اور بچے مزدوری کرتے تھے موقع پر قریبی فیکٹریوں کے ملازمین نے بتایا کہ فیکٹری گری تو تقریباً24گھنٹے گزر چکے ہیں ابھی تک ملبے تلے دبے مزدروں کو نکالنے کا کام جاری ہے اس وقت بھی سینکڑوں کی تعداد میں پولیس موقع پر ہے جبکہ ڈی سی اولاہور کیپٹن (ر) عثمان اور سی سی پی او لاہور امین ونیس بھی موقع پر موجود رہے، اس کے علاوہ سینکڑوں کی تعداد میں فیکٹریوں کے ملازمین بھی وہاں ہیں۔ لواحقین اپنے پیاروں کی تلاش میں جگہ جگہ چکر لگا رہے ہیں۔ ڈی سی اولاہور کیپٹن (ر) عثمان اور پولیس کے اعلیٰ حکام نے بتایا کہ کئی لاشوں کو لواحقین کے حوالے کر دیا گیا اس وقت تقریباً8کرینیں ملبہ ہٹانے کا کام کر رہی ہیں جبکہ ریسکیو 1122کی25 کے قریب گاڑیاں بھی کام کر رہی ہیں ملبے دتے دبے ہوئے افراد کے لواحقین پریشان ہو کر احتجاج کر رہے ہیں۔ فیکٹری کے ملبے سے زخمیوں کو نکالنے کا کام جاری ہے اوراب تک ا105 مزدوروں کو ریسکیو کر لیا گیا ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ اب بھی سو کے قریب افراد ملبے تلے موجود ہیں۔ جائے حادثہ پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ریسکیو کی تیس گاڑیاں‘ آٹھ کرینیں، ایک سو ساٹھ کارکن‘ تین سے زائد ایمبولینسز امدادی کاموں میں مصروف ہیں جبکہ پاک فوج کے دو سو پچاس جوان بھی ریسکیوآپریشن میں شریک ہیں۔ فیکٹری حادثے میں زخمی ہونے والوں کا جنرل‘ جناح‘ سروسز ہسپتال اور شریف میڈیکل سٹی میں علاج جاری ہے۔را ت گئے تک لواحقین تک اپنے پیاروں کی زندگی کی رو رو کر دعا کرتے رہے۔ ضلعی انتظامیہ لاہور کے مطابق ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو نے صورتحال کو کنٹرول سے باہر ہوتا دیکھ کر پاک آرمی سے مدد طلب کی۔ جس کے بعد اربن ریسکیو اینڈ ریلیف یونٹ کے جوانوں نے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔امدادی سرگرمیوں میں ان کے علاوہ ایدھی فاؤنڈیشن، فلاح انسانیت فاؤنڈیشن سمیت متعدد تنظیموں کے کارکنان نے بھی حصہ لیا جبکہ سراغ رساں کتوں سے بھی مدد لی گئی۔جنرل آفیسر کمانڈنگ میجر جنرل طارق امان نے جائے حادثہ کا دورہ کر کے ریسکیو آپریشن کا جائزہ لیا، جبکہ ڈی سی او لاہور کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان کا کہنا ہے کہ ابھی تک ایک سو دس افراد کو ملبہ سے نکالا جاچکا ہے۔ جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے،جبکہ چار افراد کی لاشیں ملبے تلے موجود ہونے کی اطلاعات ہیں۔ لاہور کے4ہسپتالوں میں سندر فیکٹری حادثہ کے 49زخمی مزدور زیر علاج ہیں جن میں سے آٹھ کو زیادہ زخم آئے ہیں جناح ہسپتال میں 23مزدور زیر علاج ہیں،ان میں لودھراں سے تعلق رکھنے والے25سالہ اظہر ولد غلام حسین کی دونوں ٹانگیں ٹوٹ چکی ہیں اور انہیں آئی سی یو میں رکھا گیا ہے۔باقی 22کی حالت خطرے سے باہر ہے، شریف میڈیکل سٹی میں 31زخمی زیر علاج تھے جن میں سے7کو گزشتہ روز صحت یاب ہونے پر ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا اب بھی وہاں 24زخمی موجود ہیں۔ اے ایم ایس ڈاکٹر امجد کا کہنا ہے کہ تین کی حالت خطرے میں ہے اس طرح سروسز ہسپتال میں زخمی عمران کو دماغ میں چوٹ کے باعث ایمر جنسی سے نیورو سرجری میں منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ لاہور جنرل ہسپتال میں بھی غلام مرتضی زیر علاج ہے جس کے دماغ میں چوٹ آئی،زخمیوں کی اکثریت معذور ہو چکی ہے۔اس حوالے سے زیر علاج مرتضی،عمران،لیاقت اور طارق نے بتایا کہ زلزلے سے عمارت میں دراڑیں پڑ چکی تھیں۔مالکان اور افسران سے بار بار کہا گیا کہ بلڈنگ کی مرمت کی جائے لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوئے۔اگر مزدوروں کی آواز سن لی جاتی تو آج یہ صدمہ نہ سہنا پڑتا۔آخری اطلاعات کے مطابق ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے رات گئے چھت کا لینٹر توڑنے کا سلسلہ جاری تھااس حادثہ کے باعث معمول کی زندگی اچانک رک گئی ،ہنستے بولتے کام کرتے اچانک مٹی میں مٹی ہو گئے جو گھروں سے کام کے لیے فیکٹری پہنچے تھے اب لاش بن کر اپنے گھر والوں کے منتظر ہیں۔40گھنٹے ہونے کو آئے ابھی بھی ملبے تلے دبے متعدد افراددبے ہوئے ہیں ،کتنے زندہ رہ گئے ہوں گے ،کتنے دنیا چھوڑ گئے یہ تو وقت گزرنے کے ساتھ ہی پتہ چلے گا لیکن عینی شاہدین کہتے ہیں کہ اس فیکٹری میں بچے بھی کام کر رہے تھے جو کہ فیکٹری میں 24گھنٹے موجود رہتے تھے ،کن ماؤں کے لعل تھے وہ ،کن آنکھوں کا نور تھے ،اب کس حال میں ہیں ،والدین پر کیا گزر رہی ہے ،کچھ کا خیال ہے کہ عمارت کی تعمیر ناقص تھی ،کچھ کا خیال ہے کہ 26اکتوبر کے زلزلہ کے بعد عمارت کمزور ہو گئی تھی ،کچھ کا دعویٰ ہے کہ عمارت کی خستہ حالی پر مالک کو تین ماہ سے آگاہ کیا جا رہا تھا ۔غلطی جس کی بھی ہو ،کئی گھرانوں کے چراغ گل ہو گئے ،ملبے تلے سے لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری ہے ۔آخری اخری اطلاعات آنے تک ملبے تلے سے 105کے لگ بھگ افراد کو نکالا جا چکا ہے جن میں75افراد کو زخمی حالت میں قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا شہر بھر کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور جناح ہسپتال سے 34 ایمولینسیں جائے وقوعہ پر ہر وقت موجود ہیں اس کے علاوہ ریسکیو 1122،ایدھی اور بحریہ ٹاؤن کی ریسکیو ٹیمیں بھی جائے وقوعہ پر امدادی کاموں میں مصروف عمل ہیں ۔

مزید :

صفحہ اول -