پنجاب۔۔۔ ملکی معشیت کے انجن کا انتھک ڈرائیور

پنجاب۔۔۔ ملکی معشیت کے انجن کا انتھک ڈرائیور

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

تحریر: محمد عمران اسلم:


اہتمام:غلام سرور:

کیا یہ کہنا غلط ہو گا کہ پنجاب پاکستانی معیشت کے انجن کو چلا رہا ہے ؟یقیناًملکی معیشت کے فروغ اور استحکام میں صوبہ پنجاب گرانقدر خدمات سرانجام دے رہا ہے جہاں 68 ہزار انڈسٹریل یونٹ، 39 ہزار سمال اور کاٹیج انڈسٹری، 14 ہزارسے زائد ٹیکسٹائل یونٹ، 7ہزارکے قریب جننگ انڈسٹریز، 7 ماڈرن انڈسٹریل اسٹیٹ اور پانچ ماڈرن ائیرپورٹ صنعت و حرفت کے پہیے کو رواں دواں رکھے ہوئے ہیں ۔ گذشتہ دہائی میں پاکستانی معیشت میں آنے والی نمایاں بڑھوتری میں پنجاب کا تاریخی اور کلیدی کردار ہے۔ 10کروڑ نفوس پر مشتمل صوبہ پنجاب کا حصہ ملکی معیشت میں تقریبا 60 فیصد ہے ۔ عالمی بنک کی اکنامک رپورٹ کے مطابق پنجاب کی اکانومی گزشتہ پانچ دہائیوں میں چار گنا سے زیادہ بڑھ چکی ہے جس میں سروسز اور مینو فیکچرنگ سیکٹر کا نمایاں کردار ہے ۔ یہ امر بھی ناقابل تردید ہے کہ پنجاب کی فنی اور پیشہ وارانہ تربیت یافتہ افرادی قوت ملک کے کونے کونے میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کر کے ملکی معیشت کو سنوار رہی ہے ۔
صوبہ کی جی ڈی پی گروتھ میں انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اہم کردار اد کر رہی ہیں ۔ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ میں سڑکوں کے وسیع و عریض نیٹ ورک کا فروغ ، پلوں کی تعمیر ، آبپاشی کے لئے نہروں کی تعمیر و مرمت ، شہری ٹرانسپورٹ سسٹم کی بہتری کے لئے اقدمات اور توانائی سیکٹر پراجیکٹ شامل ہیں ۔ حکومت پنجاب ملکی و صوبائی اکانومی کے فروغ کے لئے نجی سرمایہ کاری اور پرائیویٹ پبلک پارٹنر شپ کی حوصلہ افزائی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔ حکومت پنجاب کی طرف سے اختیار کردہ اصلاحات میں شفافیت اور گڈ گورننس کی پالیسی کی وجہ سے سرمایہ کاری کے لئے ماحول موزوں اور ساز گار ہے ۔ ملک بھر میں پنجاب کے معاشی اعشارئیے متاثر کن ہونے کے باوجود حکومت اسے جاری کاوش قرار دے کر مزید بہتر کرنے کیلئے کوشاں ہے ۔ صوبہ پنجاب کی اکنامک گروتھ سٹرٹیجی2014-2018ء میں ہنر مند افرادی قوت میں اضافہ ،توانائی بحران کا خاتمہ اور پیداوارمیں اضافہ اہم اہداف ہیں ۔ حکومت پنجاب انسانی وسائل کی ترقی ، تعلیم ، صحت اورسروس ڈلیوری میں بہتری کی ترجیحات پر عمل پیرا ہے ۔ صوبہ پنجاب کے48اہم سیکٹرزمیں 6556 ملین ڈالرکی سرمایہ کاری کیلئے ماحول سازگار اور دوستانہ ہے ۔
دس کروڑ آبادی کاسب سے بڑاصوبہ پنجاب ملک کی جی ڈی پی میں 60 فیصدحصہ رکھتا ہے۔ پنجاب دیگر صوبوں کی نسبت 39.36 فیصد نیشنل پاور کپیسٹی رکھتا ہے یعنی توانائی کا تقریبا 40فیصد حصہ پنجاب میں پیدا ہو رہا ہے جبکہ پنجاب میں توانائی کی طلب تقریبا 68 فیصد ہے ۔ طلب اور رسد کے درمیان 4 ہزار میگا واٹ کا فرق انرجی سیکٹر میں سرمایہ کاری کرنے والے اداروں کے لئے بہترین مواقع فراہم کر رہا ہے ۔ حکومت پنجاب نے توانائی بحران پر قابو پانے کے لئے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں جن میں پنجاب پاور ڈویلپمنٹ کمپنی کا قیام بھی شامل ہے تا کہ پبلک سیکٹر اورپبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت پاورپراجیکٹس کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکے ۔ سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کے لئے ون ونڈو آپریشن کی غرض سے پنجاب پاورڈویلپمنٹ بورڈ بھی قائم کیا گیا ہے ۔ حکومت پنجاب پاور پالیسی کے تحت پبلک اور نجی سیکٹر کے علاوہ مشترکہ یعنی جائنٹ پراجیکٹ کے مواقع فراہم کر رہی ہے ۔ جس کے ذریعے ہائیڈرل ، کول، سولر،ونڈ اور بائیو ماس سے بجلی کی پیداوار کے منصوبے مکمل کئے جائیں گے ۔ حکومت پنجاب سرمایہ کاروں کو ترغیب دینے کے لئے بہت سی رعایتوں اور سہولتوں کی پیش کش بھی کر رہی ہے جن میں آلات اور پلانٹ امپورٹ کرنے پر پانچ فیصد ڈیوٹی کی ادائیگی اور سیلز ٹیکس سے استثنی شامل ہے ۔ نیٹ ٹیکسز پر کم ازکم 15 فیصد آر او ای اور دیگر رعایتیں بھی شامل ہیں ۔ توانا ئی کی پیداوار کے لئے حکومت پنجاب کے اہم پراجیکٹس میں قائد اعظم سولرپارک ، کول پاور پراجیکٹ اور ہائیڈرو پاورپراجیکٹس شامل ہیں ۔ پنجاب کے ہائیڈرل پاورپراجیکٹس میں 3.58میگا واٹ اپرچناب کینال لو ہیڈ ہائیڈرل پاورپراجیکٹ، اوکاڑہ ہائیڈروپاورپراجیکٹ، لوئرچناب کینال لو ہیڈ ہائیڈل پراجیکٹ، نیوخانکی بیراج لوہیڈ ہائیڈل پراجیکٹ، قادر آباد بلو کی لنک کینال لو ہیڈہائیڈ ل پاورپراجیکٹ، قادرآباد بیراج لو ہیڈ ہائیڈل پاور پراجیکٹ، تونسہ ہائیڈرو پاورپراجیکٹ شامل ہیں جبکہ کول پاور پراجیکٹ میں سمال کول پاور پراجیکٹ بہاولپور ، سمال کول فائرپاور پراجیکٹ گوجرانوالہ، سمال کول فائر پاور پراجیکٹ گجرات، سمال کول فائر پاور پراجیکٹ بھلوال /سرگودھا ، شیخوپورہ ، وہاڑی، سولر پاورپلانٹ برائے واسا فیصل آباد، مینجمنٹ اینڈ پروفیشنل ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں سولر سسٹم کے ذریعے بجلی کی سپلائی کا منصوبہ شامل ہے ۔
پنجاب میں انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کے متعدد منصوبے زیر تکمیل ہیں ۔ پاک چائینہ اکنامک کوریڈور، کراچی لاہورموٹروے ، اورنج لائن میٹروٹرین اور انرجی پراجیکٹس سمیت متعددمنصوبے شامل ہیں ۔ حکومت پنجاب نے خادم پنجاب دیہی روڈز پروگرام کے نام سے ملکی تاریخ کا سب سے بڑا منصوبہ شروع کیا ہے جس کے تحت صوبہ بھر کی دیہی روڈز کی تعمیر و مرمت کی جائے گی جس سے صوبائی اور نیشنل ہائی ویز کے ساتھ رابطہ سڑکیں آمد ورفت میں آسانی پیدا کریں گی ۔ تین سالہ پراجیکٹ پر 150 ارب روپے لاگت آئے گی۔ کمیونیکیشن اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ صوبہ بھر میں سرکاری عمارتوں کی تعمیر و مرمت کے متعدد منصوبے مکمل کر رہا ہے ۔ گوجرانوالہ جی ٹی روڈ پر فلائی اوور ، لاہور کلمہ چوک فلائی اوور ، راولپنڈی میں پیر ودھائی فلائی اوور ، بہاولپور میں قائد اعظم سولر پارک کی رابطہ سڑک کی تعمیر ، فیض پور انٹرچینج سے منڈی فیض آباد لاہور جڑانوالہ روڈ ،مسلم ٹاؤن فلائی اوور ، بھوانہ چنیوٹ کے درمیان پل کی تعمیر کے منصوبے مکمل ہو چکے ہیں جبکہ قصور دیپالپور روڈ دو رویہ سڑک، مریدکے نارووال دو رویہ سڑک ، گجرات تاسالم انٹرچینج سڑک، بہاولپور حاصل پورروڈ دورویہ سڑک، عزیز کراس گوجرانوالہ
فلائی اوور، لاہور سدرن بائی پاس کی تعمیر کے متعدد منصوبے زیر تکمیل ہیں ۔
آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہونے کی وجہ سے پنجاب میں رہائشی سہولتوں کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ حکومت پنجاب ہاؤسنگ کے شعبے میں متعددنئے منصوبے متعارف کروا رہی ہے تا کہ دیہات سے شہروں میں آبادی کا دباؤ کم کیا جا سکے ۔ ان میں موٹر وے کے متوازی نئے شہر اور انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کے منصوبے بھی شامل ہیں ۔
پنجاب کی 32 فیصد سے زائد آبادی شہروں میں مقیم ہے ۔ 3 کروڑ20 لاکھ سے لگ بھگ افراد شہروں میں رہائش اختیار کر چکے ہیں جبکہ 2025 ء یہ تعداد3 کروڑ 90 لاکھ اور 2040 ء تک شہروں میں آبادی 5 کروڑ10 لاکھ ہونے کی توقع ہے ۔ آبادی کا بڑھتا ہوا دباؤ جدید اور بہترین ٹرانسپورٹ سسٹم کا متقاضی ہے ۔ حکومت پنجاب کا ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ عوام کی آمد ورفت اور مال و اسباب کی منتقلی کے لئے پالیسیز ، لاز اور ریگولیشنزتیار کرنے کا ذمہ دار ہے ۔ ماس ٹرانزٹ سسٹم کے ذریعے ٹریفک کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حکومت پنجاب لاہور اور راولپنڈی میں میٹروبس سروس کے قیام کی کامیاب کاوش کر چکی ہے جبکہ ملتان میں سنٹرل لائن ،لاہور بلیو لائن اورپرپل لائن کے منصوبے بھی جلد شروع کئے جائیں گے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ جدید ترین وہیکل اینڈ سرٹیفکیشن سسٹم متعارف کرا رہا ہے جبکہ ٹھوکرنیازبیگ ، شاہدرہ اورگجومتہ پر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ملٹی ماڈل انٹرسٹی بس ٹرمینل بھی بنائے جائیں گے۔ لاہور ریلوے اسٹیشن پر بس ٹرمینل کمرشل کمپلیکس کا منصوبہ بھی جلد شروع کیا جائے گا ۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ لاہور میں گزشتہ دس سال کے دوران 312 جدید ترین بسیں لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کے زیر انتظام چلائی جا رہی ہیں ۔
پنجاب میں ترقیاتی اور صنعتی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے انڈسٹریل ڈویلپمنٹ زون قائم کئے جا رہے ہیں جن میں انڈسٹریل اسٹیٹ ، سپیشل اکنامک زون ، موٹروے ، ٹیکنالوجی پارکس ، ایکسپوسنٹر اور بزنس کمپلیکس شامل ہیں ۔ جدید ترین انڈسٹریل اسٹیٹ میں ہسپتال ، بنک سکوائر ، سیکورٹی سسٹم، پٹرول پمپس، فوڈ اوردیگر یوٹیلٹی میسر ہوں گی ۔ صنعت کے پہیے کی حرکت کو تیز تر کرنے کے لئے رحیم یار خان انڈسٹریل اسٹیٹ ، بھلوال انڈسٹریل اسٹیٹ ، وہاڑی انڈسٹریل اسٹیٹ، فیصل آباد میں ایم ٹو انڈسٹریل اسٹیٹ ، بہاولپور انڈسٹریل اسٹیٹ، چونیاں انڈسٹریل اسٹیٹ، گجرات انڈسٹریل اسٹیٹ ،قائد اعظم اپرل پارک شیخوپورہ ، راولپنڈی انڈسٹریل اسٹیٹ، فیصل آباد میں پنسیرا گوجرہ روڈ انڈسٹریل اسٹیٹ، ڈیرہ غازی خان انڈسٹریل اسٹیٹ، جھنگ اور شور کوٹ انڈسٹریل اسٹیٹ ، وزیر آباد انڈسٹریل اسٹیٹ، ساہیوال انڈسٹریل اسٹیٹ، اوکاڑہ انڈسٹریل اسٹیٹ اور چکوال انڈسٹریل اسٹیٹ کے منصوبے پنجاب میں صنعتی ترقی کو عروج تک پہنچانے میں اہم کردا رادا کریں گے ۔
حکومت پنجاب صوبہ میں معدنیات او رکان کنی کے فروغ کے لئے اہم اقدامات اٹھا رہی ہے جس سے سیمنٹ، سوڈا ایشن، کاسٹک سوڈا، فرٹیلائزر، گلاس، سرامکس، سنگ مرمر، لوکل کول ، خام لوہا، لائم سٹون، راک سالٹ وغیرہ کی انڈسٹری تیزی سے فروغ پا رہی ہے ۔ پنجاب منرل کمپنی صوبہ میں آئرن اور کاپر کی کان کنی اور سٹیل ملز کے قیام کے لئے کام کر رہی ہے ۔ سالٹ رینج میں کاسٹک سوڈا ، اور سوڈا ایش کے لئے پلانٹس کا قیام۔ سالٹ رینج میں سیمنٹ پلانٹس کا قیام ، لوکل کول فائر ڈ پاور پلانٹ کے منصوبے شامل ہیں ۔
پنجاب میں کاروباری مواقع پربین الاقوامی سیمینارآج (6نومبر) لاہور میں شروع ہو گا۔ دو روزہ عالمی سیمینار میں پاکستان سمیت چین، ترکی اور دیگر دوست ممالک سے سرمایہ کار ، تاجر ، صنعتکار ، مالیاتی اداروں کے نمائندگان شرکت کریں گے۔ سیمینار سے صوبہ کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات روشن ہوں گے اور سرمایہ کاروں کو مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے لئے راغب کیا جا سکے گا۔ غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ سے معاشی استحکام اور ترقی کے مواقع پیدا ہوں گے اور بے روزگاری کے خاتمہ اور لوگوں کا معیار زندگی بلند کرنے کے لئے مدد ملے گی۔ کاروباری مواقع پر بین الاقوامی سیمینار میں توانائی، انفرسٹراکچر، ہاؤسنگ، ٹرانسپورٹ ، انڈسٹریل زون ڈویلپمنٹ ، معدنیات و کان کنی ودیگر شعبہ جات میں سرمایہ کاری کے لئے مفاہمتی قراردادوں پر دستخط کئے جائیں گے۔ پنجاب میں سرمایہ کاری سیمینار کا انعقاد تاریخی اہمیت کا حامل ہے جس میں زراعت، صنعت وتجارت سے وابستہ ماہرین خطاب کریں گے جن کی بدولت صوبہ پنجاب میں سرمایہ کاری کی نئی راہیں کھلیں گی اور صوبہ کی ترقی میں گرانقدر اضافہ ہو گا ۔ صوبہ پنجاب زرعی ، معدنی وسائل سے مالا مال ہے۔ ان شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال وقت کی ضرورت ہے ۔ بین الاقوامی ساکھ کے حامل سرمایہ کاروں کی آمد سے معاشی ترقی و خوشحالی کا نیا باب کھلے گا جس سے غربت کے خاتمے اور تربیت یافتہ افرادی قوت ملک کو میسر آئے گی جو صنعتی و معاشی ترقی میں فعال کردار ادا کر کے ملک کو خود کفالت سے ہمکنا رکریں گی۔

مزید :

ایڈیشن 1 -