سانحہ منیٰ! حرمین شریفین میں انتظامات (دوسری قسط)

سانحہ منیٰ! حرمین شریفین میں انتظامات (دوسری قسط)
سانحہ منیٰ! حرمین شریفین میں انتظامات (دوسری قسط)

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

حج 2015ء میں کرین کے حادثہ اور منیٰ کے سانحہ کے حوالے سے بڑے افسوس کے ساتھ عرض کروں گا بہت بڑی صحافتی بددیانتی ہوئی ہے۔ منیٰ کے المناک واقعہ کو ہر دوسرا فرد شیطانوں کو کنکریاں مارتے وقت قرار دے رہا ہے۔ یعنی کہا گیا 10ذوالحج کو سانحہ منیٰ جمرات کے قریب پیش آیا جو نہ صرف حقائق کے منافی ہے بلکہ خبر دینے والوں کی بہت بڑی زیادتی ہے۔ سانحہ منیٰ جمرات سے کم از کم دو کلومیٹر دور پیش آیا اگر اڑھائی کلومیٹر یا اس سے بھی زیادہ کہہ لیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ جمرات کے حوالے سے عرض کر چکا ہوں اس وقت پانچ منزلہ ایسی عمارت بنا دی گئی ہے جس میں کم از کم 50لاکھ افراد ایک ساتھ کنکریاں مار سکتے ہیں۔ سعودی حکومت اور خادم حرمین شریفین کو سلام پیش کروں گا۔ اتنے بڑے اور اتنے اعلیٰ انتظامات ،ایک بات جس کا تذکرہ کر چکا ہوں 1932ء سے سعودی حکومت کے قیام سے حج 2015ء تک خادم حرمین شریفین نے ہر آنے والے حج میں انتظامات کو بہتر سے بہتر ہی کیا ہے۔ ایک سال ہونے والی غلطی کو اگلے سال دوبارہ دہرانے کے لئے نہیں چھوڑا گیا۔ کرین کے حادثہ کی رپورٹنگ بھی درست انداز میں نہیں کی گئی۔ پاکستانی صحافت کی بھیڑ چال دیکھ کر مجھے سعودی بادشاہت اور آمریت ہی اچھی لگنے لگی ہے۔ وہ اچھا کرتے ہیں۔ قرآن عظیم الشان کے احکامات کی روشنی میں پہلے تصدیق کرتے ہیں پھر حقائق سامنے لاتے ہیں یہی فرمان خداوندی بھی ہے، جس میں کہا گیااگر کوئی فاسق فاجر خبر لے کر آئے تو تصدیق کر لیا کرو ایسا نہ ہو کہ کسی کو نقصان پہنچا بیٹھو بغیرتصدیق عمل کرنے کو اعمال ضائع کرنے سے تشبیہ دی گئی ہے۔افسوسناک پہلو کا ایک رخ یہ بھی ہے خبر کو منفی انداز میں پیش کرنے کو وطیرہ بنا لیا جاتاہے۔ سنسنی خیزی ہمارے اندر راسخ ہو گئی ہے۔ درست اقدام کے لئے ہم تیار ہی نہیں ہو پا رہے۔ اللہ کی توفیق سے حج کے موقع پر منیٰ میں موجود تھا بائی لائن خبر دینے کے چکر میں میں بھی کئی دن تک لیڈیں لگوا سکتا تھا۔ اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں ہمیں ایسی صحافت کا سبق ہی نہیں دیا گیا جو معاشرے اور امت میں بگاڑ کا سبب بن سکے۔ حرمین شریفین کے خلاف طاغوتی قوتوں نے کن کن سازشوں کا آغاز کر رکھا ہے اس کی مثال مکہ میں سامنے آئی سعودی ذرائع نے بتایا مسلمان مخالف اور سعودی حکومت مخالف طاقتیں حرمین شریفین میں ہر صورت بدامنی اور انتشار پیدا کرنا چاہتی ہیں اس کے لئے کوئی لمحہ ضائع نہیں کرتیں۔ بتایا گیا روزانہ ایسے لوگ پکڑے جاتے ہیں جو طواف کرنے کے لیے آتے ہیں اور جیبوں میں نوک دار کنکریاں ڈال لاتے ہیں۔ ہفتے میں ایک دو دفعہ مرد خواتین سیکیورٹی سے نظریں بچا کر کنکریاں اپنی جیبوں میں لے جاتے ہیں اور طواف کے دوران خطرناک کنکریاں جیب سے نکال کر مطاف میں گرا دیتے ہیں۔ ننگے پاؤں طواف کرنے والی عورتیں بچے اور مرد حضرات کو اس وقت پتہ چلتا ہے جب ان کے پیروں سے خون نکل آتا ہے۔ زخمی ہونے والے ایسے افراد رکتے ہیں دھکم پیل شروع ہوتی ہے بھگڈر مچتی ہے شور مچتا ہے افراد زخمی ہوتے ہیں طواف متاثر ہوتا ہے نظریاتی مخالفین یہی بدامنی چاہتے ہیں۔ سعودی ذرائع نے بتایا طواف کے دوران ایسی شرارتیں معمول ہیں بات دوسری طرف نکل گئی۔حج 2015ء میں سعودی حکومت کی طرف سے کئے گئے انتظامات پر بات کرناچاہتا تھا۔ حج کے موقع پر کتنی بڑی مخلوق ہوتی ہے اس سال سعودی ذرائع کے مطابق تقریباً 20لاکھ کے قریب خوش قسمت حضرات نے فریضہ حج کی ادائیگی کی ہے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں منیٰ، عرفات، مزدلفہ میں 20لاکھ افراد ایک ساتھ موجود رہے ایک آدمی ایک وقت میں ایک روٹی کھائے تو 20لاکھ روٹیاں ایک وقت میں درکار ہوتی تھیں ایک چائے کا کپ ایک فرد پئے تو 20لاکھ چائے کے کپ درکار ہوتے تھے۔20لاکھ افراد کوباتھ روم جانے کی حاجت بھی ہوتی تھی۔20لاکھ افراد حج کا ناشتہ بھی کرتے رہے دوپہر کا کھانا بھی کھاتے رہے رات کو ڈنر بھی کرتے رہے۔ 20لاکھ افراد نمازیں بھی پڑھتے رہے۔ 20 لاکھ میں سے ایک فرد کی شکایت سامنے نہیں آئی اس کو ایک وقت کا کھانا نہیں ملا اس کو چائے کی طلب ہوئی اس کو چائے نہیں ملی اس نے فروٹ کی خواہش کی اس کو فروٹ نہیں ملا۔ اس نے آئس کریم کھانی تھی اس کو نہیں مل سکی۔20لاکھ افراد کے لئے کھانے پینے کے علاوہ رات گزارنے کے لئے محفوظ ترین رہائش گاہیں موجود تھیں۔ منیٰ سے عرفات جانے کے لئے ٹرانسپورٹ موجود تھی۔کسی جگہ کسی کو لوٹنے پرس چھیننے کی شکایت سامنے نہیں آئی۔ منیٰ میں علیحدہ انتظامات تھے۔ عرفات میں ایک دن گزارنے کے لئے علیحدہ انتظامات موجود تھے۔ مزدلفہ سے 20لاکھ افراد نے 70کے حساب سے فی کس کنکریاں بھی اٹھائیں کسی جگہ کوڑا جمع نہیں نظر آیا۔ کسی جگہ پانی جمع نظر نہیں آیا۔ 20لاکھ افراد کی فول پروف سیکیورٹی کے لئے ڈیڑھ لاکھ مستند افراد پر مشتمل سیکیورٹی موجود تھی۔23 ہزار خدام الحجاج رہنمائی کے لئے موجود تھے 8ہزار گائیڈ ڈیوٹیوں پر موجود رہے حج کی عظیم بستی کے لئے 43ہزار سے زائد آگ سے محفوظ رہنے والے خیمے موجود تھے۔ 40ہزار بسیں حجاج کرام کو ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنے کے لئے موجود تھیں۔5روزہ حج آپریشن کے لئے 25ہسپتال قائم کئے گئے۔155ڈسپنسریاں بنائی گئیں 5دنوں میں 400افراد کے دل کے آپریشن کئے گئے ۔ 555 ایمبولینس خدمات انجام دیتی رہیں۔3800ٹرک سامان کی ترسیل کے لئے کام کرتے رہے۔ خوبصورت بستی کی فضائی نگرانی کے لئے 18ہیلی کاپٹر فضا میں محو پرواز رہے۔43ہزار خیموں کے ساتھ 20لاکھ ا فراد کے لئے باتھ روم بنائے گئے تھے۔ رضا کاروں کے دفاتر موجود تھے پانی کی لاکھوں بوتلوں کی فراہمی کے لئے ہر سڑک پر سبیلیں موجود تھیں۔ ایسا خوبصورت اور جامع انتظام تھا کہ کنکریاں مارنے کے لئے جانے والے کا کسی سے ٹکراؤ ممکن نہیں تھا۔ سوائے اس کے جان بوجھ کر ٹکراؤ یا تصادم کی سازش کی جاتی۔
آغاز میں بتا چکا ہوں 1975میں گیس سلنڈر پھٹنے سے لے کر 2006 تک جمرات کے مقام پر منیٰ کے دوران بھگڈر کے نتیجے میں 360افراد کی ہلاکتوں کے بعد جمرات کے مقام پر بھگڈر ممکن نہیں رہی اس کا حج پر جانے والے بتا سکتے ہیں سوق العرب سے کنکریاں مارنے کے لئے جانے والوں کو اپنے مکتب میں آنے کے لئے دو کلومیٹر کا اضافی فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے وہ اس لئے کہ کسی کا کسی کے ساتھ تصادم تو درکنار سامنا ہی نہ ہو سکے۔ایسے انتظامات کئے گئے ہیں کرین حادثہ اور سانحہ منیٰ سوچی سمجھی بہت بڑی سازش تھی آہستہ آہستہ حقائق سامنے آ رہے ہیں۔ انشاء اللہ اگلے کالم میں کرین حادثہ اور سانحہ منیٰ کی تفصیل آخری قسط میں تحریر کروں گا۔(جاری ہے)

مزید :

کالم -