سانحہ سندر کے بعدپاکستان سے جی ایس پی پلس کا درجہ چھن سکتا

سانحہ سندر کے بعدپاکستان سے جی ایس پی پلس کا درجہ چھن سکتا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور(محمد نواز سنگرا) سندر انڈسٹریل اسٹیٹ میں ہونے والے دلخراش سانحہ کے بعد پاکستان سے جی ایس پی پلس کا درجہ چھن سکتا ہے۔یورپین یونین نے پاکستان کو جی ایس پی پلس (جنرل پریفرنس سسٹم)کا درجہ ملنے پر جہاں تاجروں اور حکومت کو ٹیکس فری تجارت کا موقع دیا گیا وہاں مزدور کا تحفظ بھی شرائط و ضوابط میں شامل ہے۔یورپین یونین کی طرف سے پاکستان کو جی ایس پی پلس کا درجہ دیا گیا ۔جس کے مطابق پاکستان یوپین منڈیوں میں ٹیکس ادا کیے بغیر ایکسپورٹ،امپورٹ کر سکتا ہے وہاں پاکستان میں مزدور کے تحفظ، انسانی حقوق کا تحفظ، کرپشن کا خاتمہ،ماحولیات کا تحفظ اور چائلڈ لیبر کا خاتمہ بھی شرائط کا حصہ ہے۔حالیہ سند ر انڈسٹریل اسٹیٹ میں فیکٹری کے منہدم ہونے سے پاکستان اور پنجاب حکومت کا پول کھل گیا ہے جس کی گونج پوری دنیا میں سنائی جا رہی ہے کہ پنجاب حکومت مزدور کیلئے کیا کام کر رہی ہے۔مزدور کے تمام حقوق جن میں کور لیبر سٹینڈرڈ، تنظیم سازی کا حق، اجتماعی سودہ کاری ،کام کی جگہ پر صحت اور تحفظ کی سہولیات ،چائلڈ لیبر کا خاتمہ،کام کے برابر تنخواہ جیسی تمام سہولیات کھل کر سامنے آگئی ہیں کہ لیبرکو ملک میں کون سی سہولیات مل رہی ہیں۔ابتدائی طور پر پاکستان کو 10سال کیلئے جی ایس پی پلس کادرجہ دیا گیا تھا لیکن اس میں جہاں تاجروں اور حکومت کو سہولیات دی گی تھیں وہاں مزدور کے حقوق اور تحفظ کی شرائط بھی شامل تھیں اور حالیہ واقعہ سے ثابت ہو گیا ہے کہ پاکستان جی ایس پی پلس کی شرائط پر پورا نہیں اتر رہا۔ تشویشاک بات یہ ہے کہ جنوری 2014میں پاکستان کو جی ایس پی پلس کا درجہ دیا گیا تھا تقریباً2سال کے دوران تاجروں نے تو بھر پور فائدہ اٹھایا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مزدور کیلئے کیاکیا گیا؟حالیہ واقعہ میں سب سے بڑی کوتاہی کے ذمہ دار انسپکشن ٹیمیں ہو سکتی ہیں جو موقع پرٹھیک جانچ پڑتال نہیں کرتیں۔دوسری طرف ایک محتاط اندازکے کے مطابق لاہور میں 5سے 6لاکھ بچے کام کر رہے ہیں جو پنجاب کے مختلف شہروں اور دیہاتوں سے آئے ہوئے ہیں اور اسی طرح چائلڈ لیبر کو بھی ختم نہیں کیا جا سکا۔
جی ایس پی پلس