نئی پالیسی ، کوئی نام تین سال تک ای سی ایل میں رکھا جا سکتا ہے،وزارت داخلہ

نئی پالیسی ، کوئی نام تین سال تک ای سی ایل میں رکھا جا سکتا ہے،وزارت داخلہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)ترجمان وزارتِ داخلہ نے 29اکتوبر2015کو میڈیا کے چند حلقوں میں چھپنے والی اس خبرکہ جس میں کہا گیا تھا کہ وزارتِ داخلہ نے نیب کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے میگا سکینڈلز میں ملوث 300سے زائد افراد کے نام ای سی ایل سے خارج کر دیے ہیں کے حوالے سے کہا ہے کہ وزارتِ داخلہ کی جانب سے اعلان کردہ نئی ای سی ایل پالیسی کے تحت سپریم کورٹ، ہائی کورٹس، ٹرابیونلز جن کا درجہ ہائی کورٹ کے برابر ہو، ڈیفنس ہیڈ کوراٹرز، حساس اداروں، نیب، ایف آئی اے اور وفاقی حکومت کی سفارش پر ہی ای سی ایل میں نام ڈالے جا سکتے ہیں۔ نئی پالیسی کے تحت کوئی نام زیادہ سے زیادہ تین سال تک ای سی ایل میں رکھا جا سکتا ہے ما سوائے دہشت گردی، جاسوسی، بغاوت، اینٹی ٹیریرزم ایکٹ فورتھ شیڈول، ملک خلاف، منشیات اور انسانی سمگلنگ کیسیزکے۔ ترجمان نے کہا کہ نئی پالیسی کو تمام سٹیک ہولڈرز اور ماہر ین قوانین کی مشاور ت اور اس بات کو مدنظر رکھ کر بنایا گیا ہے کہ پرانے ضابطہ کار کے مطابق لوگوں کے نام پچیس پچیس سال سے بھی زائد عرصے تک ای سی ایل میں پڑے رہتے تھے۔پرانے ضابطہ کار میں نہ تو ای سی ایل سے نام نکالے جانے کا طریقہ کار مقرر تھا اور نہ ہی اس بات کا ریکارڈ رکھا جاتا تھا کہ کوئی نام کب ای سی ایل میں ڈالا گیا اور کتنے عرصے کے لئے ڈالا گیا۔ یہ بات بھی محسوس کی گئی کہ ای سی ایل میں نام ڈلوانے کے بعد متعلقہ محکمے ایک لمبے عرصے کے لئے خاموشی اختیار کر لیتے تھے۔ اعلیٰ عدالتوں نے بھی متعدد کیسیز کی سماعت کے دوران یہ بات کہی کہ کسی کو بنیادی حقوق سے محروم کرنا ملک کے آئین کے منافی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ہر تفتیشی ادارے کو قانونی طور پر اختیار حاصل ہے کہ وہ جرائم میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرے یا تفتیش کے لئے یا پھر ملزم کو تفتیش کا حصہ بنانے کے لئے دیگر قانونی راستے اختیار کرے۔ ترجمان نے کہا کہ ای سی ایل کا استعمال بہت احتیاط سے کرنے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ اس سے کسی کی آزادانہ نقل و حمل جیسے بنیادی حق پر پابندی لگائی جاتی ہے۔ترجمان نے مزید کہا کہ تمام ڈیپارٹمنس اور سٹیک ہولڈرز میں نئی ای سی ایل پالیسی کے قواعد و ضوابط کی تشہیر کی گئی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ نیب کے نمائندگان بھی نئی ای سی ایل پالیسی کے سلسلے میں منعقدہ بریفنگز اور میٹینگز میں موجود ہوتے تھے اور ان میٹینگز میں واضح طور پر مطلع کیا گیا کہ ایسے تمام لوگوں کے نام ای سی ایل سے نکال دیے جائیں گے جو تین سال سے زائد عرصے سے ای سی ایل میں موجود ہیں ماسوائے ان ناموں کے جو خصوصی طور پر اس سے برعکس کیلئے منظور کئے جائیں گے۔ترجمان نے کہا کہ آئندہ کوئی نام بھی ای سی ایل میں ڈالنے کیلئے نئی ای سی ایل پالیسی کے قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل کیا جائے گا ۔