راولپنڈی بلدیاتی انتخابات مہم عروج پر پی ٹی آئی کے ٹکٹ جاری ،ن لیگ پریشان

راولپنڈی بلدیاتی انتخابات مہم عروج پر پی ٹی آئی کے ٹکٹ جاری ،ن لیگ پریشان

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 راولپنڈی(سید گلزار ساقی سے) ضلع راولپنڈی میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کی مہم عروج پر پہنچ گئی، مسلم لیگ(ن) اختلافات کا شکار،پی ٹی آئی اور عوامی مسلم لیگ نے این اے 55کے ٹکٹ جاری کر کے حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کو مشکلات میں ڈال دیا ، مسلم لیگ(ق)منظر عام سے غائب جبکہ جماعت اسلامی خاموشی سے ڈور ٹو ڈور انتخابی مہم چلا رہی ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن آزاد اُمیدوار کی حیثیت سے میدان میں اُتریں گے، انجم فاروق پراچہ آزاد اُمیدوار کی حیثیت سے اپنی انتخابی مہم چلا رہے ہیں،تفصیلات کے مطابق 5دسمبر کو پنجاب میں تیسرے مرحلے میں ہونے والے انتخابات میں انتخابی مہم عروج پر پہنچ چکی ہے شہر بھر میں رنگ برنگے بینرز اور پینا فلیکس لگ گئے ہیں، این اے56میں پاکستان مسلم لیگ(ن) کے سابق ممبر قومی اسمبلی اپنے گروپ کو نوازنے کیلئے دن رات کوشش کر رہے ہیں جبکہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے ہی ایم پی اے راجہ حنیف ایڈووکیٹ اپنے گروپ کو میدان میں اتارنے کیلئے صف بندی کر رہے ہیں حنیف عباسی اور راجہ حنیف ایڈووکیٹ کے درمیان اختلافات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں چند روز قبل پاکستان مسلم لیگ(ن) کا نظریاتی گروپ منظر پر آچکا ہے،نظریاتی گروپ کے راہنماؤں نے جن میں تنویر اختر شیخ،راجہ ناصر محفوظ بھی شامل ہیں اُنہوں نے ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے سابق ایم این اے حنیف عباسی، ساب ایم این اے ملک شکیل اعوان،سابق ایم پی اے سردار نسیم، سابق ایم پی اے ضیاء اللہ شاہ، ایم پی اے راجہ حنیف ایڈووکیٹ کو من پسند اُمیدواروں کو ٹکٹ جاری کرنے کا گرین سگنل دیا ہے، پاکستان مسلم لیگ(ن) نظریاتی گروپ نے الزام عائد کیا ہے کہ اِن راہنماؤں نے ایسے اُمیدواروں کو ٹکٹ دینے کیلئے یقین دہانی کرائی ہے کہ جو مسلم لیگ(ن) بنیادی ممبر ہی نہیں ہیں،نظریاتی کارکنوں کو نظر انداز کر کے ایک مخصوص ٹولے کو مسلم لیگ(ن) کے کارکنوں پر مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اس پریس کانفرنس کے بعد مسلم لیگ(ن) کی اعلیٰ قیادت نے ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے مرتب کیا جانیوالا لائحہ عمل اور ممکنہ اُمیدواروں کی چھان بین اور نظریاتی کارکنوں کی شکایت کو سامنے رکھتے ہوئے دو رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کی اس کمیٹی میں ایم این اے ملک ابرار اور ایم این اے طاہرہ اورنگزیب شامل ہیں یہ دو رکنی کمیٹی نظریاتی کارکنوں کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کر کے مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت کو بھیجے گی اور ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے اِسی کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کرایا جائے گا جبکہ راولپنڈی کی سیاست پر راج کرنے والے سابق وفاقی وزیر عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے این اے 55میں پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی سے ملکر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بلدیاتی انتخابات پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے توقع کی جارہی ہے کہ این اے55میں سہ رکنی اتحاد کے اُمیدوار کامیاب ہوں گے اور اگر این اے 55اور این اے56 میں سہ رکنی اتحاد کو کامیابی مل جاتی ہے تو بلدیہ عظمہ اعلیٰ میں میئر کیلئے شیخ راشد شفیق جو کہ سابق ناظم راول ٹاؤن بھی ہیں، اِن کی پوزیشن بہتر ہو جائے گی، پاکستان پیپلز پارٹی جس کے کارکنوں کی راولپنڈی میں بڑی تعداد موجود ہے،محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی راولپنڈی میں شہادت ہونے کے باوجود پاکستان پیپلز پارٹی مرکزی،صوبائی اور ضلعی قیادت اُمیدواروں کو پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے میدان میں نہیں اُتار سکی جبکہ ماضی میں اِسی شہر میں پاکستان پیپلز پارٹی نے صوبائی اسمبلی کی 2نشستیں حاصل کی تھیں لیکن محترمہ شہاد ت کے باوجود پاکستان پیپلز پارٹی کو این اے 55اوراین اے 56میں اُمیدوار نہیں مل رہے البتہ پاکستان پیپلز پارٹی کے دیرینہ کارکن تیر کے نشان کو چھوڑ کر آزاد حیثیت سے میدان میں اُترنے کیلئے صف بندی کر رہے ہیں لیکن پیپلز پارٹی کی مرکزی ،صوبائی ،ضلعی اور سٹی قیادت کی مایوس کن کارکردگی کی وجہ سے پیپلز پارٹی کا راولپنڈی میں بھی گراف گر چکا ہے 5دسمبر کو ہونے والے بلدیات انتخابات میں پیپلز پارٹی راولپنڈی کی کارکردگی مایوس کن نظر آرہی ہے جبکہ دیگر مذہبی جماعتیں جماعت اہلسنت،جمعیت علماء پاکستان،جمعیت علماء اسلام نے ابھی تک بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے اپنے کارکنوں کسی قسم ہدایات جاری نہیں کیں جس کی وجہ سے اِن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اُمیدوار بھی اپنے طور پر دیگر جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اُمیدواروں کی پسِ پردہ حمایت کر رہے ہیں، راولپنڈی میں پاکستان مسلم لیگ(ن) اصل مقابلہ اپنے سیاسی حریف پاکستان تحریک انصاف،عوامی مسلم لیگ سے ہو گا۔