مودی کی مقبوضہ کشمیر آمد،پوری وادی فوجی چھاﺅنی میں تبدیل

مودی کی مقبوضہ کشمیر آمد،پوری وادی فوجی چھاﺅنی میں تبدیل
مودی کی مقبوضہ کشمیر آمد،پوری وادی فوجی چھاﺅنی میں تبدیل

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

سری نگر(مانیٹرنگ ڈیسک )مقبوضہ کشمیر میں بھارتی وزیراعظم کی آمد پر پوری وادی فوجی چھاونی میں بدل دی گئی ہے، حریت رہنماوں نے مودی کی آمد پر ملین مارچ کی کال دی ہے۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہفتے کو مقبوضہ کشمیر پہنچیں گے اس موقع پر وادی بھر میں سیکورٹی انتہائی سخت کردی گئی ہے، جگہ جگہ گاڑیوں کی تلاشی لی جارہی ہے۔مودی شیر کشمیر کرکٹ اسٹیڈیم میں ریلی سے خطاب کریں گے وہاں انتہائی سخت حفاظتی اقدامات کیئے گئے ہیں، حریت رہنماوں نے آج مظاہروں اور ہفتے کو ملین مارچ کا اعلان کیا ہے۔احتجاج ناکام بنانے کے لیے سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق، یاسین ملک،شبیر شاہ ،آسیہ اندرابی سمیت ایک ہزار سے زائد حریت رہنماوں اور کارکنوں کو گرفتار یا نظر بند کردیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سنیچر کو بھارتی زیرانتظام کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں عوامی اجتماع سے خطاب کریں گے لیکن اسی روز حریت  پسندوں نے ملین مارچ کی کال دی تھی اور کہا تھا کہ یہ مارچ کشمیریوں کی حقیقی سیاسی خواہشات کا مظاہرہ ہوگا۔

حکومت نے علیحدگی پسندوں کو گھروں میں نظر بند یا جیلوں میں قید کردیا ہے جبکہ ان کے سینکڑوں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس دوران پورے سرینگر شہر کی ناکہ بندی کردی گئی ہے۔

نریندر مودی کے دورے سے قبل بے مثال سیکورٹی پابندیوں کے باعث کشمیرمیں ریل سروس معطل ہے اور تعلیمی اور کارباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوگئی ہیں۔ حکومت نے یونیورسٹی سطح کے امتحانات اور نوکریوں کے لیے مجوزہ انٹرویوز بھی ملتوی کردیے ہیں۔

میرواعظ عمر فاروق نے جمعے کی ہڑتال کو کشمیری کے جذبات کا اظہار قرار دیتے ہوئے نریندر مودی کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سابق بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے نقش و قدم پر چل کر کشمیر کا مسلہ حل کرنے میں پہل کریں۔ اس کے لیے انھوں نے کہا ہے ’تمام فریقوں کو غیرمشروط مذاکرات کے لیے تیار رہنا چاہیے۔‘جمعہ کے روز میرواعظ عمرفاروق نے جامع مسجد میں ایک یکجہتی مارچ کا بھی اعلان کیا تھا، تاہم جامع مسجد اور اس کے گرد و نواح کے تمام علاقوں کی ناکہ بندی کردی گئی۔

دریں اثنا نریندر مودی کے دورے سے دو روز قبل جمعرات کو ایک بم حملے میں دس سے زائد نیم فوجی اہلکار زخمی ہوگئے۔ یہ حملہ اُس جگہ سے ایک کلومیٹر کی دُوری پر ہوا جہاں نریندر مودی جلسے سے خطاب کریں گے۔