صدر صدام حسین کیخلاف کوئی سفارتکار سی آئی اے سے تعاون نہ کرتاتواسے نکلوادیتے تھے: سابق وزیرخارجہ عراق

صدر صدام حسین کیخلاف کوئی سفارتکار سی آئی اے سے تعاون نہ کرتاتواسے نکلوادیتے ...
صدر صدام حسین کیخلاف کوئی سفارتکار سی آئی اے سے تعاون نہ کرتاتواسے نکلوادیتے تھے: سابق وزیرخارجہ عراق

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

بغداد(مانیٹرنگ ڈیسک) عراق کے سابق وزیرخارجہ ناجی صبری الحدیثی نے دعویٰ کیاہے کہ سی آئی اے سمیت کئی غیرملکی خفیہ ایجنسیوں نے سابق صدر صدام حسین کے خلاف کام کے لیے عراقی سفارت کاروں کی خدمات لینے کی کوشش کی تھی لیکن سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کے لیے کام سے انکار پر ایسے سفارتکاروں کومیزبان ممالک سے بے دخل کرادیاجاتاتھا۔
العربیہ کے مطابق صبری الحدیثی صدام حسین کے دورحکومت میں 2001ءسے 2003ءتک وزیرخارجہ رہے تھے۔اُنہوں نے العربیہ کے پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے بتایاکہ 2002ءکے آخر میں امریکی اور برطانوی خفیہ اداروں نے بیرون ملک عراقی سفارت کاروںکو ترغیب وتحریص کے ذریعے اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ وہ ان کے لیے صدر صدام حسین کے خلاف کام کریں،سب سے پہلے افریقی ملک مالی میں تعینات سفیر سے رابطہ کیاگیا لیکن انکار پر اسے ناپسندیدہ شخصیت قراردے کر مالی سے نکلوادیاگیا۔
اُنہوں نے کہاکہ صرف سفارتکاروں سے نہیں بلکہ جوہری سائنسدانوں کو بھی ساتھ ملانے کی کوشش کی اور ایسے ہی امریکی سی آئی اے کے ایک اہلکار نے عراق کے جوہری سائنسدان جعفر ضیاءسے رابطہ کیا تھا اور انھیں ایجنسی کے لیے کام پر آمادہ کرنے کی تجویز پیش کی تھی لیکن انھوں نے اس کو مسترد کردیا تھاجبکہ خودان کی بطور وزیر خارجہ وفاداری خریدنے کی کوشش کی گئی تھی۔