اختلاف رائے پر تشدد کا کوئی جواز نہیں ،من موہن سنگھ بھی بول پڑے

اختلاف رائے پر تشدد کا کوئی جواز نہیں ،من موہن سنگھ بھی بول پڑے
اختلاف رائے پر تشدد کا کوئی جواز نہیں ،من موہن سنگھ بھی بول پڑے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک )سابق بھارتی وزیر عظم من موہن سنگھ بھی بھارت میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور حالیہ انتہا پسندانہ واقعات پر بول پڑے ۔تفصیلات کے مطابق ایک تقریب سے خطاب ب کرتے ہوئے سابق بھارتی وزیر اعظم نے حالیہ انتہا پسندانہ اقدامات کی شدید تحفظا ت کا اظہار کتے ہوئے کہا ہے کہ سیکولرزم بھارتی آئین کی روح ہے جوتمام شہریوں کے بنیادی حقوق کاتحفظ کرتی ہے۔مذہب ہر شخص کا ذاتی معاملہ ہے جس میں ریاست بھی مداخلت نہیں کرسکتی۔انہوں نے مزید کہا کہ اختلاف رائے کے باعث کسی پرتشددکرنے یاکسی کوقتل کرنےکا کوئی جواز نہیں دیا جاسکتا۔
واضح رہے کہ مودی سرکار کے آنے کے بعد سے بھارت میں انتہاپسندی کو ایک نیا عروج ملا ہے ۔اقلیتوں کے حقوق کی پامالی،مذہبی منافرت اور تعصب نے دنیسا کے سامنے بھارت کا چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔بھارت کے اس رویے سے دنیا بھرمیں اس کی بدنامی ہورہی ہے لکہ خود بھارت میں موجود ادیب،شعراءسائنسدان اور فنکار نہ صرف تنقید کر رہے ہیں بلکہ کئی معروف شخصیات نے حکومتوں سے لیئے گئے ایوارڈز تک واپس کر دیئے ہیں ۔