نیشنل ایکشن پلان نئے پاکستان سے متعلق ہماری سوچ ہے, اب پاکستان ویسےچلے گا جیسے عوام چاہتے ہیں :وزیراعظم

نیشنل ایکشن پلان نئے پاکستان سے متعلق ہماری سوچ ہے, اب پاکستان ویسےچلے گا ...
نیشنل ایکشن پلان نئے پاکستان سے متعلق ہماری سوچ ہے, اب پاکستان ویسےچلے گا جیسے عوام چاہتے ہیں :وزیراعظم

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

سیالکوٹ (مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستان کیلئے نہ تو ڈکٹیٹروں نے کچھ کیا نہ ہی کسی اور حکومت نے سب ہمارے لیئے چھوڑ گئے ،وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ مذہب کے نام پر گلے کاٹنے والوں کو کوئی معافی نہیں دی جائے گی ،فرقہ ورانہ جماعتوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ان خیالات ا اظہار انہوں نے دورہ سیالکوٹ کے موقع پر کیا ۔دورے کے دوران انہوں نے سہولت مرکزکا افتتاح کیا،انہیں ائیرپورٹ توسیعی منصوبے پر بریفنگ دی گئی ۔اس موقع پر منعقد کی گئی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیالکوٹ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ان کا کہنا تھا کہ سیالکوٹ کے عوام سے خصوصی لگاﺅ ہے یہاں آکر خوشی محسوس کر رہا ہوں ۔سیالکوٹ سالانہ دوارب روپے کماتا ہے آج اسے موٹر وے کا تحفہ دے رہے ہیں ۔وزیراعظم نے بجلی بحران پر بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 15سال سے کسی نے بجلی کے مسئلے پر کچھ نہیں ہوا ،دہشتگردی ، بجلی بحران ،جگہ جگہ رکاوٹیں ہیں جنہیں عبور کرنا آسان نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ پانی کوئلے اور ایل این جی سے بجلی بنائیں گے ،خواہش ہے کہ سب کو سستی بجلی ملے اور2018تک ہزاروں میگاواٹ بجلی سسٹم میں لے آئیں گے تو سب کو سستی بجلی ملے گی۔کسان پیکج کے حوالے سے انکا کہناتھا کہ کاشتکار قومی خزانے میں مرکزی اہمیت کے حامل ہیں ،اس لیئے ان کے لیئے کسان پیکج پیش کیا گیا، فی یوریا کھاد کی بوری میں 500روپے کی کمی کوئی معمولی بات نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ لودھراں میں ایک بندے سے پوچھا باباجی کسان پیکج کی امدادی رقم سے کچھ بنے گا کہ نہیں تو بابا جی نے کہا کہ "بلے بلے "ہو گئی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ کسان پیکج پر تنقید کرنے والے عدالتوں میں جانے والے پیکج پر عملدرآمد میں تاخیر کا سبب بنے ہیں ۔کینٹینر پرکھڑے لوگوں نے اپنی ریٹنگ بڑھانے کے چکر میں تھے لیکن بڑھی نہیں وہ چاہتے تھے کہ کسانوں تک 341ارب نہ پہنچیں ۔وزیراعظم نے دہشتگردی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کا ناسور ملک بھر میں پھیل چکا تھا ۔ہم اللہ کا نام لیکر دہشتگردوں کے پیچھے پڑ گئے ۔دہشتگردی سے آنکھوں سے آنکھیں ملا کر سامنا کیا اور الحمداللہ اب اس میں نمایاں کمی آئی ہے ۔وزیراعظم نے کہا کہ فرقہ ورانہ مخاصمت کرنے والوں اور اور مذہب کے نام پر گلے کاٹنے والوں کو کوئی معافی نہیں دی جائے گی۔دہشتگردی کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھوں گا ۔کراچی کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی کی کھوئی ہوئی روشنیوں کو بحال کرنے کیلئے کراچی آپریشن کیا جس کی حمایت صحافیوں ،تاجروں اور سیاست دانوں سمیت سب نے کی اور آج کراچی کے حالات پہلے سے بہت بہتر ہیں ۔کراچی کی روشنیاں بحال ہونا شروع ہو گئی ہیں ۔اب ہم لاہور کراچی موٹر وے بنا رہے ہیں ۔خارجہ امور پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ چاہتے ہیں ہمسائیوں سے اچھے تعلقات ہوں لیکن یہ ان کی بھی خواہش ہونی چاہئے۔ افغانستان کے معاملات میں ہر ممکن اور بھرپور مدد کرنا چاہتے ہیں ۔دیگر ممالک کے ساتھ بھی اچھے تعلقات کے خواہا ں ہیں ۔وزیراعظم نے کہا کہ یہ ہے نیا پاکستان جو بن رہا ہے ،نیا پاکستان اس کو کہتے ہیں ،کیا یہ نیا پاکستان نہیں ہے؟وزیراعظم نے کہا اب کوئی یہ نہ سوچے کہ جو جیسا چاہے گا ویسا ہو گا بلکہ اب پاکستان اس طرح چلے گا جیسے عوام چاہتے ہیں نیشنل ایکشن پلان نئے پاکستان سے متعلق ہماری سوچ ہے ۔میرا مشن سیاست نہیں خدمت کرنا ہے ۔دنیا ہماری معاشی کارکردگی کی معترف ہے ۔لوکل باڈیز الیکشن کا نتیجہ سب نے دیکھ لیا آپ کا کام صاف ہو گیا۔موجودہ حکومت کرپٹ نہیں ہے دیانتداری س کام کر رہی ہے ۔مسائل تیز ہیں ترقی کی رفتار بھی بڑھانا ہو گی ۔2018میں قوم کے سامنے سرخرو ہوںگا۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ میر ے لودھراں جانے پر بھی اعتراض کیا گیا،انہوں نے نام لیئے بغیر تحریک انصاف کو سے کہا کہ سیاسی لڑائی لڑنے کی ہمت نہیں ہے تو حیلے بہانے تو مت کرو۔

مزید :

قومی -Headlines -