امریکہ کا نیا صدر کون؟انتخاب کیسے ہوتا ہے؟

امریکہ کا نیا صدر کون؟انتخاب کیسے ہوتا ہے؟
امریکہ کا نیا صدر کون؟انتخاب کیسے ہوتا ہے؟

  

 8نومبر کودنیا کی طاقتور قوم کے طاقتور   صدر کا انتخاب ہونے جارہا ہے،دنیا بھر کی طرح پاکستانیوں کو بھی امریکی صدارتی انتخاب میں گہری دلچسپی ہے اور وہ ڈونلڈ ٹرمپ یا ہلیری کلنٹن کے نت نئے تنازعات اور سکینڈلوں سے اپنے آپ کو نہ صرف باخبر رکھتے ہیں بلکہ محفلوں میں اس پر زوردار بحث و مباحثہ بھی ہوتا رہتا ہے،عام پاکستانیوں کیلئے جاننا بھی ضروری ہے کہ صدر کا انتخاب ہوتا کیسے ہے؟

سب سے پہلے تو جاننا ضروری ہے کہ کون امریکہ کا صدر بن سکتا ہے،بات بہت سادہ ہے وہ شخص جو امریکہ میں پیدا ہوا ہو،14سال سے امریکہ میں مقیم ہو اور اس کی عمر 35سال سے کم نہ ہو امریکی صدر کا امیدوار بن سکتا ہے،یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ 1933ءسے گورنر،سینیٹر او ر پانچ ستارہ جنرل ہی امریکی صدارت کے امیدواربنتے آرہے ہیں،اس سے قبل ایسی صورتحال نہیں تھی،حالیہ انتخابات میں10امیدواروں میں گورنرز یا  سابق گورنرز،10سینیٹرز نے اپنے نامزدگی کاغذات جمع کروائے،ایک امیدوار ریپلکن اور ایک امیدوار ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے نامزد کیا جاتا ہے جن کا آخری ٹاکرا ہوتا ہے،اس وقت ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے ہیلری کلنٹن اور ری پبلکن کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ میدان میں ہیں۔

اب باری آتی ہے کہ امریکی صدر کا انتخاب کیسے ہوتا ہے،امریکی صدر کا انتخاب طویل انتخابی مہم کے بعد عمل آتا ہے،اس انتخابی مہم کے دوران امیدواروں کو کئی پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں،یہ طریقہ انتخاب دنیا کا طویل ترین طریقہ ہے۔

امریکی صدر کا انتخاب دو مرحلوں میں مکمل ہوتا ہے،پہلے مرحلے میں پرائمری الیکشن اور کاوکسز کی جانب سے نامزدگی کے لیے ووٹنگ ہوتی ہے، جو مختلف ریاستوں میں مختلف دِنوں پر منعقد ہوتے ہیں صدارتی پرائمری الیکشن یا کاوکسز ہر ایک امریکی ریاست اور علاقے میں ہوتے ہیں، جو امریکی صدارتی انتخابات  میں نامزدگی کے عمل کا ایک حصہ ہے۔کچھ ریاستوں میں صرف پرائمری انتخابات ہوتے ہیں، کچھ میں صرف کاوکسز ہوتے ہیں، جب کہ دیگر میں دونوں ہی ہوتے ہیں۔پرائمریز اور کاوکسز جنوری سے جون کے مہینوں کے دوران ہوتے ہیں، جس کے بعد نومبر میں عام انتخابات منعقد ہوتے ہیں۔

پرائمری الیکشن ریاست یا مقامی حکومتوں کی جانب سے کرائے جاتے ہیں، جب کہ کاوکسز نجی معاملہ ہے، جنھیں سیاسی جماعتیں اپنے طور پر براہِ راست منعقد کرتی ہیں۔مقامی حکومتوں کے فنڈ کی مدد سے اسی طرح پرائمری انتخابات کرائے جاتے ہیں جیسے موسمِ خزاں میں عام انتخابات ہوتے ہیں۔ ووٹروں کے لیے پولنگ کا مقام، رائے دہی کا استعمال اور تعطیل یکساں طریقے کے ہوتے ہیں۔کاوکس میں وہ افراد جو کسی جماعت میں پسندیدہ خیال ہوتے ہیں، ان کی ڈیلیگٹ کے طور پر شناخت ہوتی ہے۔ تفصیلی غور و خوض اور مباحثے کے بعد غیر رسمی ووٹ کے ذریعے یہ طے ہوتا ہے کہ نیشنل پارٹی کنوینشن میں کون ڈیلیگٹ کے فرائض انجام دے گا۔

جولائی سے ستمبر کے آغاز تک پارٹیاں اپنے اپنے فائنل امیدواروں کو نامزد کرتی ہیں،اس کے بعد دونوں جماعتوں کی جانب سے نامزد کردہ امیدواروں کے مابین مباحثے ہوتے ہیں،نومبر کے آغاز میں پولنگ ڈے ہوتا ہے جو عموماً دوسرے ہفتے کے پیر کو ہی ہوتا ہے،اس مرتبہ 8نومبر کو رکھا ہے جو امریکہ میں پیر کا روز ہوگا،اس دن 34سینیٹرز اورایوان نمائندگان کی تمام نشستوں کا بھی انتخاب ہوگا،جنوری2017ءکے شروع میںکانگریس کی جانب سے ووٹوں کی گنتی کی جائے گی اور 20جنوری کو وائٹ ہاﺅس کے نئے مکین یعنی نومنتخب امریکی صدرحلف اٹھائیں گے،امریکہ کا نیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ بنے یا ہیلری کلنٹن۔ دونوں صورتوں میں امریکہ میں تاریخ رقم ہونے جارہی ہے،اگر ہیلری کلنٹن صدر بنتی ہیں تو امریکہ کی پہلی خاتون صدر ہونگی اور اگر عوام ڈونلڈ ٹرمپ کو منتخب کرتے ہیں تو یہ تاریخ کے پہلے یہودی امریکی صدر ہونگے،امریکہ کا نیا صدر کون ہوگا؟ اس کے لئے پولنگ ڈے کا انتظار کرنا ہوگا۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -