6نومبر یوم شہدائے جموں

6نومبر یوم شہدائے جموں
6نومبر یوم شہدائے جموں

  

14اگست1947ء کو مملکت خداداد پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد ریاست جموں وکشمیر کے مسلمانوں نے بے حد خوشی و مسرت کا اظہار کیا اور جشن منایا ۔

ریاست جموں و کشمیر کے مسلمانوں کی نمائندہ سیاسی جماعت مسلم کانفرنس نے 19 جولائی 1947ء کوقیام پاکستان سے قبل الحاق پاکستان کی قراردادمنظور کی تھی، اس لحاظ سے پاکستان کے قیام پر اہلِ کشمیرنے جلسے اور جلوس منعقد کئے اور فضا نعرۂ تکبیر، نعرۂ رسالت، پاکستان زندہ باد، قائداعظم زندہ باد ، کشمیر بنے گا پاکستان کے پُرجوش نعروں سے گونج اُٹھی۔

ہندوؤں اور ڈوگروں پر مسلمانانِ کشمیر کاجذبہ دیکھ کرخوف طاری ہو گیا۔ انہوں نے مسلمانوں کو ختم کرنے کا منصوبہ بنایا،چنانچہ اودھم پور، ریاسی، کٹھوعہ، رام نگر سمیت دیگر علاقوں میں ہزاروں افراد کو دھوکے اور فریب کے ذریعے گھروں سے باہر نکال کر گولیوں سے نشانہ بنایا گیا۔

اس طرح جموں میں اگست کے مہینے میں مہاراجہ کے ایماء پر آر ایس ایس کے رضا کار اور پنجاب کے سکھوں میں رائفلیں تقسیم کی گئیں اور انہیں ہدایت دی گئی کہ وہ مسلمانوں کا قتل عام شروع کردیں، جس پرمسلمانوں نے ڈوگرہ کے خلاف مقابلے کا فیصلہ کر لیا تو حالات کی خرابی دیکھ کر4نومبر 1947ء کو مہاراجہ پٹیالہ سردار بلدیو سنگھ اور سردار پیٹل سنگھ کی طرف سے لاؤڈ سپیکر کے ذریعے اعلان کیا گیا کہ جو مسلمان پاکستان جاناچاہتے ہیں وہ جموں پولیس لائن گراؤنڈ میں جمع ہو جائیں،انہیں پولیس اور فوج کی سرپرستی میں لاریوں ، بسوں اور ٹرکوں کے ذریعے پاکستان پہنچانے کا انتظام کر لیا گیا ہے۔

یہ اعلان سنتے ہی مسلمانانِ جموں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے پولیس لائن گراؤنڈ میں جمع ہونا شروع ہو گئے، جہاں سے 5 نومبر کو 36گاڑیوں اور ٹرکوں پر مشتمل ایک قافلہ چیت گڑھ سیالکوٹ کے لئے روانہ ہوا، ایک ایک گاڑی میں 70سے 80 مسلمان سوار تھے، ابھی یہ قافلہ چند ہی کلو میٹر تک گیا تھا کہ اس کا رخ سانبہ کی طرف موڑ دیا گیا،قافلہ سانیہ سے آگے ستواری پہنچا تو وہاں سڑک کے دونوں جانب اور پہاڑیوں کی اوٹ میں چھپے ہندوؤں اورسکھوں کے جتھوں نے مسلمانوں پر حملہ کر دیا۔ ٹرکوں کو روک کر ہندو فوجیوں نے مسلمانوں پر فائر کھول دیا،قافلے سے نقدی اور زیورات چھین لئے گئے، جو ان عورتوں کو اغوا کر لیا،اس طرح اگلے روز وہی گاڑیاں 6 نومبر کو مسلمانوں کو لے کر آئیں تو اسی جگہ ہندو درندوں نے گولیوں، برچھیوں، کلہاڑوں، تلواروں کا بے دریغ استعمال کر کے مسلمانوں کو مولی گاجر کی طرح کاٹ دیا گیا۔

پولیس انسپکٹر راجہ صحبت علی اور ڈپٹی کمشنر اودھم پور راجہ سرور خان مسلمانوں کے قافلوں کو بچاتے بچاتے خود بھی شہید ہو گئے۔یہ صورت حال ریاست کے دیگر علاقوں میں پھیل گئی،جس نے قتل وغارت کی واردداتوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

ایک انگریزی اخبار نے اپنی رپورٹ میں تحریرکیا تھا کہ ان واقعات میں 2 لاکھ 37 ہزار مسلمانوں کو قتل کر دیا گیا۔

شہدائے جموں کی قربانیوں کا یہ نذرانہ تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے۔ایک دن اور ایک رات میں انسانی جانوں کی اتنی قربانیاں کہیں بھی نہیں دی گئیں۔ سانحہ جموں کے چشم دیدہ گواہ میجر (ر) راجہ عبدالرحمن خان کوسابق کمشنر راجہ امجد پرویز علی خان اپنے عرصہ میرپور تعیناتی کے دوران 6نومبر یوم شہدائے جموں کے مواقع پر اکثر اوقاف میرپور لاتے رہے اور ان کی زبانی آنکھوں دیکھا حال اور درد ناک سانحہ کی داستان بیان کرتے رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ظالم اور درندہ صفت ہندوؤں نے انسپکٹرجموں راجہ صحبت علی سمیت پاکستان جانے والے مسلمانوں کو، جن میں مرد، عورتیں بچے اور بوڑھے شامل تھے، جس بے دردی سے شہید کیا اس کی مثال نہیں ملتی۔

دریائے توی کے کنارے مسلمانوں کے اعضاء بکھرے پڑے تھے۔ انسپکٹر راجہ صحبت علی کی نعش سے سونے کی انگوٹھیاں ان کی انگلیاں کاٹ کر اتار لیں۔ان واقعات میں مسلمانوں کو مولی گاجر کی طرح کاٹ دیا گیا، خواتین کی عصمت دری کی گئی، ہر طرف خون کا دریا بہہ رہا تھا۔ 6نومبر کا دن جب بھی آتا ہے تو وہ منظر سامنے آ کرکلیجہ منہ کو آتا ہے۔سانحہ جموں کا واقعہ تحریک آزادی کشمیر کاگیٹ وے ہے۔

اس واقعہ کو سامنے رکھتے ہوئے کشمیریوں کو تحریک آزادی کشمیر اسی تناظر میں اُجاگر کرنے کے لئے ایک متفقہ لائحہ عمل اختیار کرنا چاہئے اور اتحاد و یکجہتی کی فضا کو فروغ دینا چاہئے۔ انسانی حقوق کے علمبرداروں اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کو مسئلہ کشمیر کی اصل صورتِ حال سے آگاہ کرنا چاہئے۔

آج بھی مقبوضہ وادی میں بھارت کی 8 لاکھ فوج ظلم کا پہاڑ توڑ رہی ہے۔ تحریک آزادی کشمیرکو دبانے کے لئے اب بھارتی افواج نے پیلٹ گنوں کا استعمال کر کے اہلِ کشمیر کو آنکھوں کی بصارت سے محروم کرنے کی مہم شروع کر رکھی ہے تاکہ دوسرے کشمیری نوجوان نشان عبرت بن سکیں۔

6نومبر1947ء کے دلخراش واقعہ کی طرح بھارت مقبوضہ وادی میں انسانیت سوز مظالم ڈھا کر تحریک آزادئ کشمیرکا رخ موڑنے کی مذموم کارروائیاں کر رہا ہے،جس نے گزشتہ 70 برسوں سے تحریک آزادئ کشمیرکا راستہ روکنے کا ہر حربہ استعمال کر کے دیکھ لیا، لیکن اسے اپنے مقاصدمیں بری طرح ناکامی ہوئی ہے۔

آج بھی بھارتی افواج کی سفاکی کا نشانہ بننے والے کشمیریوں کو پاکستانی پرچم کے کفن میں دفن کیا جاتا ہے اور اہلِ کشمیر دیوانہ وار جنازوں میں پاکستانی پرچم ، اللہ اکبر اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں۔

ضرورت اس امرکی ہے کہ مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کے عوام کو ان کاپیدائشی حق خودارادیت دلانے کے لئے بھارت کی طرف سے نہتے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو بے نقاب کیا جائے۔ اِس سلسلے میں بیرون ممالک سفارت کاری میں مسئلہ کشمیر کو ترجیح دی جائے، یورپ، امریکہ ، برطانیہ کے ایوانوں سمیت اسلامی ممالک میں مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں بھرپور لابنگ کی جائے،جبکہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم کو سوشل میڈیا،ای میل، ٹویٹر، فیس بک، واٹس اَپ سمیت دیگر الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا ذرائع سے دُنیا کو آگاہ کیا جائے تاکہ گزشتہ 70برسوں سے حق خودارادیت کے حصول میں لاکھوں کے حساب سے جانوں کی قربانی دینے والے کشمیریوں کو ان کا پیدائشی حق خودارادیت مل سکے اور کشمیری 19 جولائی 1947ء کی قرارداد الحاق پاکستان کو پایۂ تکمیل تک پہنچا سکیں۔

مزید :

کالم -