حصارِ وقت میں جیتے جاگتے کردار

حصارِ وقت میں جیتے جاگتے کردار
حصارِ وقت میں جیتے جاگتے کردار

  

حضرت صدیق ِ اکبر کی صداقت- حضرت عمر فاروق کی فلاحی ریاست – حضرت عثمان کی سخاوت اور حضرت علی کی شجاعت   کے حوالے دیتے  مفتیان   جب نہیں تھکتے تو میں سوچتا ہوں  کہ وہ کیا جانیں  خالی پیٹ پہ بندھے ہوئے اس پتھر کا وزن  ، وہ خندق اور  وہ   اِ ک ہلکا سا بدن جس کے کاندھوں  پہ پڑی  بھاری ذمہ داری انہیں ؐ  ہر وقت مصروف ِ عمل رکھتی ہے – وہی جن کی تعلیمات نے دینِ اسلام کو وہ ستارے بخشے  ہیں کہ وہ آج بھی  مشعلِ راہ ہیں-  ان حالات میں  تو بات شجاعت ، صداقت ، سخاوت اور اسلامی فلاحی ریاست  کی شاید اس لئے کی جاتی ہے کہ عوام  ایسے حکمرانوں کو ان   ہی بر گزیدہ ہستیوں کا  پیرو کار سمجھیں  جو زمیں کے طول و عرض پہ حاکم پر اصل میں اپنی رعایا کے خادم تھے پر  آج کے خادم  فقط نام کے خادم ہیں کہ جن کے  دامن میں نہ سادگی ہے اور نہ  ہی کوئی دردِ دل- ایک رعونت ہے ایک شان و شوکت ہے-لمبے لمبے پروٹوکول ہیں کہ چشم زدن میں عوام کو ایک طرف دھکیلتے  ایسے گزر جائیں  کہ جو بھی خاک اڑائیں آپ کے منتظر  اس میں سانس   ہی نہ لے پائیں- وقت کے  شاہ   جن  کے ٹیکس سے قارون کے خزانوں کی سی  عالیشان مراعات پائیں اور علاج کے لئے  جب  چاہے لندن کے مہنگے ترین  ہسپتالوں   میں داخل ہو جائیں  وہ خون پسینہ بہاتے  بر لب ِ سڑک ہی  آپ کے  ودیعت کردہ مثالی  علاج  کے حق دار ٹھہرائے جائیں  اور وہ بھی ایسے کہ   قرون اولیٰ کے  باسی بھی شرما جا ئیں-

 محترم وزیرِ اعلیٰ   پنجاب صاحب لاہور کی سڑکوں پہ جا بجا کھلے یہ مطب کہ جن میں متعین  نہ کوئی  طبیب ، نہ کوئی  ڈاکٹر اور نہ  کوئی نرس بس سوہنے رب کے سہارے زچہ بچہ کی  وہ  خدمت انجام دے رہے ہیں کہ  آپ کے اقبال کی  سر بلندی  کے لئے دعا گو  ہیں   اور آپ کے پرجوش  خطابات کے کچھ حصے ایک دوسرے کو پڑھ پڑھ کے سنا رہے ہیں – شاید عوام کے لوٹے خزانے آپ  کو یہ یقین دلا رہے ہیں کہ رب العزت کے سامنے  انہی سے آپ کا چھٹکارا ممکن ہو جائے گا- میرے سرکارؐ کا تو فرمان ہے کہ  اگر انصاف نہ کرو گے تو ایک دن پکڑے جاؤ گے اور بے شک رب کی پکڑ بہت مضبوط ہے-                                                                                    

 اکیسویں صدی کا  لاہور- اونچے  برجوں  کا لاہور ،اپنے  اندر کا جاہ و جلال سمیٹے  آپ کی کاوشوں سے ترقی کا ایک ایسا مینارہ کہ آپ اسے پیرس کی شکل دینے کے لئے ہمہ وقت مصروف ہیں- لاہور کی خوبصورتی اور رعنائی  جس کی آنکھ میں سمائی وہ اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا- اربوں کے قرضے اور ان قرضوں کے بل بوتے پہ ابھرتا آپ کا مثالی لاہور- بقول  لیگی راہنماؤں کے کہ جس کی ترقی سے  دوسرے شہر اور صوبے جلتے اور حسد کرتے ہیں – لیکن یہ بھی سچ ہے کہ مجھ جیسوں کے تو پر ہی جل جاتے ہیں اگر اس کی شان میں قصیدوں کے سوا کچھ نہ لکھیں – لیکن ان قرضوں سے حاصل بیرونی دولت کو جب امراء  اور اشرافیہ میں ہی بٹتے دیکھتا ہوں تو اپنا سا منہ لے کر رہ جاتا ہوں- میٹرو بس اور آپ کی ٹرینوں کے منصوبے  جب پایہ تکمیل کو پہنچیں تو شاید کچھ پردہ ہی مہیا کردیں ایک اس ماں کو جو بر لب سڑک یا آپ کے ہسپتالوں کی ایمرجینسی کے سامنے  مسیحاؤں کو آپ کی غلام گردشوں میں دوڑتے تو دیکھ سکتی ہے لیکن مدد کے لئے پکار نہیں سکتی- آپ کا مستقبل اپنے برتھ سرٹیفکیٹ  پہ جائے پیدائش کوئی ہسپتال لکھوائے یا ہسپتال کی  کوئی چار دیواری  یا اس شاہراہ کا پتہ دے کی جس پہ  مردوں کے درمیان اس کی آنکھ کھلی تو وہ آپ کے لاہور کو داد دیے بغیر نہ رہ سکے گا- آپ کے برسوں پرانے ہسپتال  اور ان ہسپتالوں میں  کام سے ہڑتال کیے ہوئے  مصروف  اوقات ِ کار  جہاں پرچی کی بجائے ایک  دلاسہ   سائل کا منتظرہو کہ اگلا ہسپتال  کچھ فاصلے پر ہے تو  وہ  سائل کیا کرے ؟کہاں جائے ؟– آپ ہمارے حاکم ہمارے مائی باپ  آپ کا کام اسمبلیوں میں قانون سازی اور قانون بھی وہ جس سے آپ کی سلطنت بچے  یا  توقیر  و عزت ورنہ وہ جائے تحقیر ہے کہ بمشکل اس کا کورم  ہی پورا ہو- ہر کوئی مشیر  ہے یا وزیر ، تنخواہوں میں اضافہ ہو یا الاؤنس یا اس الاؤنس پہ جاری ایک اور الاؤنس  لیکن جب یہ بھی کم پڑ جائے تو بڑے بڑے کاموں کے بڑے بڑے ٹھیکے کہ آپ حاکمِ وقت کی چھڑی یا ہاتھ کی گھڑی بنے ہر وقت ساتھ ساتھ  جہاں اس کی پوزیشن کو خطرہ آپ ہمراہ نظر آئیں اور  وہ  مضبوط جوڑ  لگائیں کہ کوئی توڑ ہی ممکن نہ ہو- ایسے میں خیر اور  عزتوں کی سیاست کہاں پروان چڑھے- آپ کو اپنے علاج ، معالجہ اورسکونت کے  لئے تو لندن کی پسند ہے لیکن حکومت  وہ  جو پاکستان کی   ہو کیونکہ وہاں کے طور طریقے ،  مروجہ قوانین  اور  اچھائیاں تو آپ وہیں چھوڑ آتے ہیں – مگر ساتھ آتا ہے آپ کا عہدہ ، شاہانہ طرزِ زندگی اور عام انسان پہ برستا مہنگائی کا تازیانہ – جب آپ کو سب کچھ سونے کے چمچ سے ملے تو کیوں بدلیں یہاں کے اطوار اور رسم و رواج کیوں سب کچھ تو اس ملک کا آپ کی تسکین کے لئے ہے اور ہم نسل در نسل ان  قوانین کو جوں کا توں مروج رکھنے پہ ہی مُصر – حالات نے  ماشاااللہ آپ کو بھی نظریاتی بنا دیا ہے – نظریاتی لوگ  وہ بہادر ہیں جو صداقت امانت  کے لئے شجاعت سے لڑتے ہیں اور سخاوت میں سکھ چین سب تج دیتے ہیں- سچائی پہ مرتے یہ لوگ تاریخ میں اپنا مقام بنا لیتے ہیں اور ان کے عمال سنہر ےالفاظ میں لکھے  جاتے ہیں- کون بھولا ہے اس ملک کی تاریخ کو اس ملک کے  ان محسنوں کو جو کبھی حکیم الامت کہلائے تو کبھی بابائے قوم   - ان کی زندگی میں ان کو بھی لوگوں نے متنازعہ بنایا  اور تیر ستم برسائے لیکن  سانچ کو کب آنچ ہوتی  ہے – ایک روپیہ مشاہرہ پہ  اس قوم کا وزن اٹھاتے یہ لوگ ہی در حقیقت اس قوم کے والی ہیں  ، وارث ہیں اور اسی مٹی میں سوئے  دوسروں کے لئے   مثالی ہیں – زندو جاوید یہ   دلوں کے حاکم آج بھی   دھرتی سے اپنی وفاؤں کی بدولت باعثِ تقلید  و احترام ہیں-            

 .

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ