سردار خالد ابراہیم: بااصول سیاست کا درخشاں ستارہ جو ڈوب گیا

سردار خالد ابراہیم: بااصول سیاست کا درخشاں ستارہ جو ڈوب گیا
سردار خالد ابراہیم: بااصول سیاست کا درخشاں ستارہ جو ڈوب گیا

  

آج اتوار کی صبح اٹھتے ہی ایک افسوس ناک خبر ملی کہ آزاد کشمیر کے بانی صدر اور قابل قدر سیاستدان غازی ملت جناب سردار ابراہیم صاحب کے فرزند ارجمند ممبر آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی اور جموں و کشمیر پیپلز پارٹی کے صدر خالد ابراہیم صاحب اس دار فانی سے کوچ کرگئے ہیں۔ اللہ تعالی ان کو اپنی جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے آمین۔ 5 نومبر 1948 ء میں پیدا ہو کر 4 نومبر 2018ء کو واپس اپنے خالق حقیقی سے جاملنے والے سردار خالد ابراہیم صاحب آزادکشمیر کے وہ واحد سیاستدان تھے، جو ریاست کے طول و عرض میں اپنی اصول پسندی سے جانے اور پہچانے جاتے تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی اصولوں پر سودے بازی نہیں کی اور مفاداتی سیاست سے ہمیشہ کنارہ کش رہے۔ سردار خالد ابراہیم نے اپنے اصولوں کی بہت بھاری قیمت بھی ادا کی۔ ویسے تو پونچھ کی دھرتی شہیدوں اور غازیوں کی دھرتی ہے، لیکن سیاست کے خارزاروں میں سردار خالد ابراہیم کا کوئی ہم سر پیدا نہیں ہوا۔ سردار خالد ابراہیم کے والد سردار ابراہیم سدھن قبیلے اور راولاکوٹ کے بے تاج بادشاہ تھے اور پونچھ کے اندر ان کے فیصلوں سے انکار کسی کے بس میں نہیں ہوتا تھا۔ آزادکشمیر میں پاکستان پیپلزپارٹی کی بنیاد بھی سردار ابراہیم نے رکھی تھی اور 1990ء تک وہ پاکستان پیپلزپارٹی آزادکشمیر کے صدر رہے۔

جب محترمہ بینظیر صاحبہ نے 90 19ئکے انتخابات میں پیپلزپارٹی کی کامیابی کے بعد سردار صاحب کے بجائے ممتاز راٹھور صاحب کو وزیراعظم نامزد کیا، بعدازاں پیپلزپارٹی آزادکشمیر کی حکومت نے سردار ابراہیم صاحب کو مکمل نظر انداز کر دیا اور آزادکشمیر کی سیاست مفاداتی دور میں داخل ہوگئی اور کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کے بجائے مفادات کے گرد گھومنے لگی تو پھر سردار ابراہیم نے جموں و کشمیر پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی دی۔ خود سردار خالد ابراہیم نے کئی بار اپنی سیٹ سے بھی ہاتھ دھوئے، لیکن آپ نے اصول اور اپنی دیانت پر کبھی حرف نہیں آنے دیا۔ حالیہ دنوں بھی انہیں توہین عدالت کا سامنا تھا، لیکن ان کا موقف تھا کہ پہلے عدالتیں خود کو آئینی اور قانونی ثابت کرلیں، پھر میں بھی عدالت کے احترام میں حاضر ہو جاؤں گا۔ موجودہ صورت حال میں عدالت کو مجھے بلانے کا اختیار نہیں ہے۔

وہ درویش پارلیمنٹیرین جنہوں نے کہا تھا کہ پندرہ ہزار روپے تنخواہ لینے والے سپاہی کے ساتھ جیل جاؤں گا، لیکن ان ججوں کے سامنے پیش نہیں ہوں گا، جنہیں آئینی اورقانونی طور پر مجھے طلب کرنے کااختیار نہیں ہے۔ عدالت عظمیٰ نے انہیں 8 نومبر تک گرفتار کرکے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تو کوئی ایک افسر یا سپاہی اخلاقی طور پر ان کے ہاتھوں میں ہتھکڑی نہیں ڈال پا رہا تھا ،تاہم نوکری بچانے کے لئے کسی نہ کسی نے انہیں گرفتار کرکے عدالت میں پیش کرنا تھا، اس لئے اللہ نے درویش کے لفظوں کی لاج رکھ لی اورانہیں اپنی عدالت میں بلالیا اور ان ججوں کے سامنے پیش نہ ہونے دیا، جن کے سامنے وہ پیش نہیں ہونا چاہتے تھے۔خالد صاحب آپ امر ہوگئے، آپ نے ’’طاقت‘‘ اور ’’کردار‘‘ کے درمیان لکیرکھینچ دی ہے۔

کاش عوام الناس ایسے لیڈروں کی قدر وقیمت جان جائیں کہ یہ گوہر صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ ورنہ اس نفسا نفسی کے دور اور وطن عزیز کی مفاداتی اور طاقت کی سیاست کے سمندر میں ہر کوئی مقدور بھر اشنان کرنے میں ایک دوسرے پر بازی لے جانے کی کوشش میں نظر آتا ہے، ابھی حال ہی میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک وزیر صاحب نے اپنی وزارت کی جو رٹ قائم کی ہے اور جھگیوں میں رہنے والے مزدوروں کو ان کی اوقات یاد دلانے کے لئے اسلام آباد میں قانون نافذ کرنے والے حاکم کی بھی چھٹی کروا کر اپنی وزارت کی طاقت کا لوہا منوایا ہے، اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وطن عزیز میں سیاست کیسے کی جاتی ہے؟ یہ وزیر موصوف نہ صرف تعلیمی لحاظ سے پی ایچ ڈی ہیں، بلکہ ایک لمبا عرصہ دنیا میں خود کو مہذب کہلانے والے اور پوری دنیا پر حکمرانی کرنے والے ملک امریکہ میں گزار کر آئے تھے، جہاں وزیر موصوف کا بہت بڑا کاروبار تھا۔

پاکستان آنے کے بعد اصولی سیاست کی رٹ لگانے والے مولانا کی مذہبی جماعت سے اپنی سیاست کا آغاز کچھ اس طرح کیا کہ امریکہ کے کاروبار سے کچھ رقم نکال کر پاکستان میں سیاسی کاروبار میں سرمایہ کاری کر دی اور اب پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے سینیٹر اور وزارت سے لطف اندوز ہو رہے ہیں ۔اسی طرح پاکستان کے اندر سیاستدانوں کی ایک بہت بڑی کھیپ ہے، جو نام تو جمہوریت کا جپتی ہے، لیکن رابطے ہمیشہ ان سے رکھتی ہے، جہاں سے سیاست کے موسم کا حال بتایا جاتا ہے اور یہ سیاستدان موسم بدلتے ہی نئے موسم کے حالات کے مطابق اپنا لباس اور اپنے سیاسی اوزار بدل لیتے ہیں، لیکن یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ مفاداتی سیاست کرنے والے لوگوں کے ٹوکرے بھر کر منڈی میں گوبھی کے پھولوں یا تربوزوں کے بھاو بیچا جا سکتا ہے، جبکہ سردار خالد ابراہیم صاحب جیسے گوہر نایاب مدتوں بعد پیدا ہوتے ہیں۔

اس خاکسار کی بہت دیرینہ خواہش تھی کہ خالد ابراہیم صاحب سے ملاقات کا شرف حاصل ہو اللہ کا شکر ہے کہ پچھلے دنوں مظفرآباد سے واپسی پر اسلام آباد میں مجھے خالد صاحب کے گھر ایف سکس میں ملاقات کا شرف حاصل ہوا، اور آپ سے تفصیلی گفتگو کا موقع ملا۔ ہمارے درمیان یہ طے ہوا تھا کہ نومبر سے ہم ایک دوسرے کے ساتھ اتحاد کریں گے، لیکن اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ آج ہر آنکھ اشکبار ہے اور آزادکشمیر کے تمام سیاستدانوں، بیوروکریسی اور عوام کو اندازہ ہوا ہے کہ آزادکشمیر کس بڑے رہنما سے محروم ہو گیا ہے اور حکومت آزادکشمیر نے ان کا سوگ سرکاری طور پر منانے کے لئے ملک بھر میں چھٹی کا اعلان کیا ہے، لیکن میں کہتا ہوں کہ افسوس خالد ابراہیم کی وفات کا نہیں، کیونکہ ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ افسوس ناک پہلو تو یہ ہے کہ ہم زندوں کی قدر نہیں کرتے، مرنے کے بعد اعزازات سے نوازتے اور ساری عمر ان کی تصویریں اپنے سرہانے رکھتے ہیں۔ یہ کب ممکن ہوگا کہ ہم اپنے اندر اتنی اخلاقی جرات پیدا کریں گے اور حق اور سچ کا ساتھ دیں گے؟

مزید :

رائے -کالم -