صوبائی خود مختاری اور سندھ کی پسماندگی

صوبائی خود مختاری اور سندھ کی پسماندگی
صوبائی خود مختاری اور سندھ کی پسماندگی

  

کچھ عرصہ پہلے وزیر اعظم عمران خان نے اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک کا وزیر اعظم چاروں صوبوں کا وزیر اعظم ہوتا ہے، اُسے چاروں صوبوں کا خیال رکھنا ہوتا ہے اور اگر کسی صوبے میں بُری گورننس ہے تو اُسے ٹھیک کرنے کا اختیار بھی وزیر اعظم کو حاصل ہے۔ عمران خان نے یہ بڑی اہم بات کی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت وفاق کو پیچھے کیا گیا ہے اور صوبے آگے آگئے ہیں۔ کسی بھی دورِ حکومت کو اُس کے وزیر اعظم کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ بات بے نظیر بھٹو کی ہوتی ہے یا نواز شریف کی، اب عمران خان کی ہو رہی ہے۔ کراچی کے عوام بھی اپنے ہر مسئلے کا طعنہ اب عمران خان کو دیتے ہیں، حالانکہ سندھ میں حکومت پیپلز پارٹی کی ہے۔ جس طرح وزیر اعظم عمران خان دیگر مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر اقدامات اٹھا رہے ہیں، لگتا ہے صوبائی حکومتوں کی کارکردگی پر بھی وہ نظر رکھیں گے۔ وفاق اگر این ایف سی ایوارڈ کے تحت اربوں روپے صوبوں کو دیتا ہے تو اس کا یہ فرض بنتا ہے کہ اُن کے ساتھ عمال پر بھی نظر رکھے۔ تھوڑا سا اور وقت گزرے گا تو عمران خان اس پہلو پر بھی کڑی نظر رکھیں گے، ابھی تو وہ ملک کو معاشی گرداب سے نکالنے کے لئے کوشش کررہے ہیں۔

ابھی سے لگ رہا ہے کہ وہ سندھ پر مکمل توجہ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ایک تو وہاں تحریک انصاف کو بھرپور نمائندگی ملی ہے اور دوسرا کراچی سمیت سندھ کے مسائل پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ حالات بہت دگرگوں ہیں۔ شاید اسی لئے پیپلز پارٹی آج کل خاصی پریشان ہے، وہ خود ہی یہ شوشے چھوڑ رہی ہے کہ وفاقی حکومت سندھ میں گورنر راج لگانا چاہتی ہے۔ صوبائی خود مختاری میں مداخلت کر رہی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ وزیر اعظم عمران خان پہلے ہی اس بات کی وضاحت کرچکے ہیں کہ میں سندھ کا بھی وزیر اعظم ہوں، سندھ کوئی الگ ملک نہیں۔۔۔ اگر تھر میں بچے مریں گے تو سندھ حکومت سے جواب مانگا جائے گا، اگر وہاں امن و امان کی صورت حال دگرگوں ہوگی تو وفاقی حکومت باز پُرس کرے گی، اب یہ ایک نیا بیانیہ ہے، اُن لوگوں کے لئے جنہوں نے صوبوں کو اپنی جاگیر سمجھ کر چلایا۔۔۔ گزشتہ دورِ حکومت میں تو نوبت یہاں تک آگئی تھی کہ ایف آئی اے کو کراچی اور سندھ میں کام کرنے سے روک دیا گیا اور ستم ظریفی یہ کہ اسے بھی صوبائی خودمختار میں مداخلت کا نام دیا گیا۔

اٹھارویں ترمیم کا ذکر بہت ہوتا ہے اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وفاقی حکومت اٹھارویں ترمیم ختم کرنا چاہتی ہے، جبکہ تحریک انصاف کی طرف سے انکار کیا جاتا ہے، جسے پیپلز پارٹی خاص طور پر تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور بضد ہے کہ حکومت چاہتی ہے یہ ترمیم ختم ہو جائے۔ کیا حرج ہے اگر تمام جماعتیں اس پہلو پر غور کریں کہ اس ترمیم کے بعد ملک میں کیا تبدیلی آئی، حالات بہتر ہوئے یا مزید خراب ہوگئے۔ صوبوں کو جو خود مختاری ملی، اُس نے کرپشن کو فروغ دیا یا اُس میں کمی آئی، عوام کو اُن کے حقوق ملے یا پہلے سے ملنے والے حقوق بھی چھن گئے۔ کیا صوبوں نے اپنی حدود میں یکساں ترقی کا فارمولا اپنایا یا چند مخصوص شہروں اور علاقوں کو ترقی دی، سارے وسائل اُن پر خرچ کردیئے، امن و امان کی صورت حال بہتر ہوئی یا اُس میں بھی خرابی دو چند ہوگئی۔ وفاق اس ترمیم سے مضبوط ہوا یا صوبوں کی من مانیاں بڑھ گئیں،

یہ سب پہلو غوروفکر کے متقاضی ہیں، لیکن صرف یہی رٹ لگا کر اس موضوع پر مٹی ڈال دی جاتی ہے کہ اٹھارویں ترمیم کو ختم کرنے سے جمہوریت پر بھونچال آجائے گا، اب کراچی میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے سندھ حکومت کی کارکردگی پر تنقید کی ہے تو سندھ کے وزراء نے اسے سندھ پر قبضے کی سازش اور پیپلز پارٹی کی حکومت ختم کرنے کی منصوبہ بندی قرار دیا ہے۔ یہ بیانیہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ سندھ میں سب سے زیادہ کرپشن ہے، اس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کے ثبوت سندھ سے ملے ہیں، ساری منصوبہ بندی سندھ ہی میں کی گئی اور سب کردار بھی وہیں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک طرف یہ حال ہے تو دوسری طرف سندھ پسماندگی کی آگ میں جل رہا ہے، کوئی شہر بھی ایسا نہیں جسے آئیڈیل کہا جاسکے۔ ہر شہر کے لوگ مسائل کی دہائی دے رہے ہیں، تھر میں مرتے بچوں کی تصویریں سندھ اسمبلی میں دکھائی جاتی ہیں، مگر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ سندھ میں حکومت ہماری ہے اور کوئی پوچھ گچھ نہیں کرسکتا، کرے گا تو صوبائی خود مختاری میں مداخلت کا الزام لگا دیں گے۔

میرا نہیں خیال کہ وزیر اعظم عمران خان سندھ حکومت کو گھر بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہوں۔ وہ ماورائے آئین کوئی قدم نہیں اُٹھائیں گے، لیکن یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ وہ سندھ میں ہونے والی کرپشن، وڈیرا شاہی کے مظالم اور عوام کی حالت زار پر آنکھیں بند کرلیں۔ ایک تو انہیں سندھ سے اچھا خاصا ووٹ ملا ہے، دوسرا وہ اپنے مزاج کے برعکس کام نہیں کرسکتے۔ وہ اپنے انتخابی جلسوں میں سندھ کی حالت زار اور کرپشن پر اظہار خیال کرتے رہے ہیں۔ وہ کراچی کے حالات بھی بدلنا چاہتے ہیں، اس مقصد کے لئے وہ وفاقی حکومت کی طرف سے بڑے پیکیج کا اعلان بھی کرنے والے ہیں۔ کراچی میں پاکستان ریلوے کی طرف سے لوکل ٹرین چلانے کا فیصلہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے، جس کا آغاز بھی ہوچکا ہے۔ ظاہر ہے ان سب کاموں کے لئے سندھ حکومت کا تعاون درکار ہوگا، اگر سندھ حکومت صرف اس وجہ سے وفاق کے پیکیج میں روڑے اٹکاتی ہے کہ وہ اُس کے ذریعے کیوں نہیں دیا جا رہا تو یہ منفی اقدام ہوگا۔ صوبائی حکومت کی کوشش تو یہ ہونی چاہئے کہ وہ مرکزی حکومت سے بڑھ کر کام کرائے۔

اپنی کارکردگی کو بہتر بنائے، اب وہ حالات تو رہے نہیں کہ کراچی میں ایم کیو ایم کی اکثریت ہو اور وہ سندھ حکومت سے اپنا حصہ لے کر خاموش ہو جائے یا پھر کراچی کے علاقے بانٹ لئے گئے ہوں اور لوٹ مار کو منشور بنا لیا گیا ہو، اب تو کراچی میں تحریک انصاف کی اکثریت ہے اور وہ کام کرنا چاہتی ہے، اُس کی موجودگی میں پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت اگر اُسی طرزِ حکومت کو جاری رکھتی ہے، جو پچھلے دس برسوں سے کر رہی ہے تو پھر شاید اُسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ سندھ کے حوالے سے اگر پیپلز پارٹی یہ دلیل دیتی ہے کہ اُس کی بہتر کارکردگی کی وجہ سے عوام نے اُسے دوبارہ مینڈیٹ دیا ہے تو اس دلیل میں اس لئے زیادہ وزن نہیں کہ وہ بڑے شہروں سے آؤٹ ہوگئی ہے اور اندرون سندھ کے پسماندہ علاقوں سے، جہاں وڈیرازم اور جاگیر داری نظام پوری سفاکیت کے ساتھ موجود ہے، اُسے ووٹ ملے ہیں۔ اسمبلی میں اکثریت تو حاصل ہوگئی ہے، مگر عوام میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے حوالے سے کچھ زیادہ امیدیں وابستہ نہیں۔ اس پہلو پر پیپلز پارٹی کی قیادت کو گہرے غور و خوض کی ضرورت ہے۔ اب یہ حربہ شاید کارگر نہ ہو کہ آپ سندھ کارڈ استعمال کریں، سندھ کارڈ اُس وقت کارگر ہوتا تھا، جب پیپلز پارٹی کارکردگی کا مظاہرہ کرتی تھی اور اُسے اچھے کاموں سے روک دیا جاتا تھا۔

اسے اتفاق کہا جاسکتا ہے کہ ملک کے تین صوبوں میں ایسی حکومتیں ہیں، جن کا براہ راست وزیر اعظم عمران خان کے وژن سے تعلق ہے، وہاں نئے پاکستان کے حوالے سے وزیر اعظم کی حکمتِ عملی کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں، صرف سندھ ایک ایسا صوبہ ہے، جہاں ایسی حکومت موجود ہے جو وزیر اعظم عمران خان کے وژن کی نکتہ چیں ہے۔ جس کا وزیر اعلیٰ وزیر اعظم پر کھلی تنقید بھی کرتا ہے۔ ماضی میں تو یہ باتیں معمول سمجھ کر قبول کی جاتی رہی ہیں، تاہم وزیر اعظم عمران خان شاید اسے مصلحتاً قبول نہ کر پائیں۔ انہوں نے اسی لئے سندھ کی ترقی کے واسطے گورنر عمران اسماعیل کی سربراہی میں ایک ٹاسک فورس بھی قائم کر دی ہے، جس کے خلاف پیپلز پارٹی کی طرف سے ایک رد عمل بھی ظاہر کیا گیا، جسے تحریک انصاف نے مسترد کردیا۔

اگر دانشمندی کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو حالات کشیدگی کی طرف جائیں گے، جس کا نقصان کسی اور کو نہیں، بلکہ سندھ کے عوام کو ہوگا، تاہم سندھ حکومت کے ذمہ داروں کو اب یہ بات سمجھ جانی چاہئے کہ مرکزی حکومت کا اب وہ کردار نہیں رہے گا، جو گزشتہ ایک دہائی کے دوران رہا، اب وہ ایک بڑے اور بااختیار اسٹیک ہولڈر کی حیثیت سے میدان میں موجود رہے گی۔ بُری کارکردگی پر باز پرس بھی کرے گی اور این ایف سی کے تحت دیئے گئے، فنڈز کا حساب بھی مانگے گی۔ وفاقی حکومت کو گورنر راج لگانے کی اس لئے ضرورت نہیں کہ بہت سے دیگر آئینی طریقوں سے صوبائی حکومت کو من مانی کرنے سے روکا جاسکتا ہے۔ اس تناظر میں دونوں حکومتوں کے لئے بہتر راستہ تو یہی ہے کہ مل جل کر سندھ کو ترقی دینے کے مشترکہ ایجنڈے پر کام کیا جائے۔ کراچی میں جو زمینوں کی لوٹ مار ہوئی ہے، قبضے کئے گئے ہیں، اُس کے ماسٹر پلان کا حلیہ بگاڑا گیا ہے، اُس پر کام کیا جائے اور عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے پر توجہ دی جائے۔ 2018ء کے انتخابات نے واضح کر دیا ہے کہ عوام اب لسانی یا علاقائی حوالے سے فیصلے کرنے کو تیار نہیں، بلکہ اپنے مسائل و مشکلات کا حل چاہتے ہیں، جو بھی اس راستے میں رکاوٹ بنے گا، وہ عوام کے عتاب کا شکار ہو جائے گا۔

مزید : رائے /کالم