آسیہ کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ (6)

آسیہ کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ (6)

22۔

شکایت کنندہ فریق کی جانب سے متذکرہ بالا اہم حقیقت کی پردہ پوشی مقدمے کے جائز درست اور شفاف فیصلے کی راہ میں حائل رکاوٹ ہے۔ مقدمے کا ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ اپیل گزار اور اس کے آباؤ اجداد 1947ء میں قیام پاکستان سے پہلے سے اس ہی گاؤں میں رہائش پذیر ہیں اور اس تمام عرصے میں کبھی بھی وہاں رہنے والوں کے درمیان مذہبی معاملے پر کوئی جھگڑا نہیں ہوا ہے۔ اس ضمن میں اپیل گزار کے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت دیئے گئے بیان کو یہاں ایک بار پھر پڑھنا مفید ہوگا۔

’’میں ایک شادی شدہ خاتون اور دو بچوں کی ماں ہوں میرا خاوند ایک غریب مزدور ہے میں محمد ادریس کے کھیتوں میں دیگر کئی خواتین کے ہمراہ روزانہ کی اجرت کے عوض فالسے چننے جایا کرتی تھی مبینہ وقوعہ کے روز میں دیگر کئی خواتین کے ہمراہ کھیتوں میں کام کررہی تھی مسماۃ معافیہ اور مسماۃ اسماء بی بی(گواہان استغاثہ) کے ساتھ پانی بھر کے لانے پر جھگڑا ہوگیا جو میں نے ان کو پیش کرنا چاہا لیکن انہوں نے یہ کہہ کر منع کردیا چونکہ میں عیسائی ہوں اس لئے وہ کبھی بھی میرے ہاتھ سے پانی نہیں پیئے گی اس بات پر میرے اور استغاثہ کی گواہان خواتین کے درمیان جھگڑا ہوا اور کچھ سخت الفاظ کا تبادلہ ہوا اور اس کے بعد استغاثہ کی گواہان قاری سلام / شکایت گزار تک اس کی بیوی کے ذریعے پہنچی جو ان دونوں خواتین کو قرآن پڑھاتی تھی ان استغاثہ کے گواہان نے قاری سلام سے مل کر سازش کے تحت میرے خلاف ایک جھوٹا مقدمہ گھڑا۔ میں نے پولیس کو کہا کہ میں بائیبل پر حلف اٹھانے کو تیار ہوں کہ میں نے کبھی حضرت محمدؐ کے متعلق توہین آمیز الفاظ بیان نہیں کئے میں قرآن اور اللہ کے پیغمبرؐ کیلئے دل میں عزت اور احترام رکھتی ہوں لیکن چونکہ پولیس بھی شکایت گزار سے ملی ہوئی تھی اس لئے پولیس نے مجھے اس مقدمے میں غلط طور پر پھنسایا۔ استغاثہ کی گواہان سگی بہنیں ہیں اور اس مقدمے میں مجھے بدنیتی سے پھنسانے میں دلچسپی رکھتی ہیں کیونکہ ان دونوں کو میرے ساتھ جھگڑے اور سخت الفاظ کے تبادلے کی وجہ سے بے عزتی اور ذلت کا سامنا کرنا پڑا تھا قاری سلام / شکایت گزار بھی مقدمے میں اپنا مفاد رکھتا ہے کیونکہ یہ دونوں خواتین اس کی زوجہ سے قرآن پڑھتی رہی تھیں۔ میرے آباؤ اجداد اس گاؤں میں قیام پاکستان سے رہائش پذیر ہیں میں بھی تقریباً چالیس برس کی ہوں وقوعے سے پہلے ہمارے خلاف کبھی بھی اس قسم کی کوئی شکایت نہیں کی گئی۔ میں عیسائی مذہب سے تعلق رکھتی ہوں اور گاؤں میں رہتی ہوں لہٰذا اسلامی تعلیمات سے نابلد ہونے کی وجہ سے میں کیسے اللہ کے نبیؐ اور الہامی کتاب یعنی قرآن پاک کے بارے میں توہین آمیز الفاظ استعمال کرتے ہوئے بے ادبی کی مرتکب ہوسکتی ہوں۔ استغاثہ کا گواہ ادریس بھی ایسا گواہ ہے جو مقدمے میں اپنا مفادرکھتا ہے۔ کیونکہ اس کا متذکرہ بالا خواتین سے قریبی تعلق ہے‘‘۔

اپیل گزار کے بیان کے تناظر میں استغاثہ کی جانب سے پانی پلانے کے معاملے پر جھگڑا ہونے کی حقیقت کو چھپانے اور عدالتی گواہ اور اعلیٰ تفتیشی آفیسر کے بیان میں مذکورہ جھگڑے کی تصدیق کے متعلق دو امکانات ہیں جو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں اولاً اپیل گزارنے اشتعال انگیز الفاظ میں اپنی ساتھی مسلمان خواتین کے ہاتھوں اپنے مذہب کی توہین اور اپنے مذہبی جذبات مجروح ہونے کے بعد کہے یا دوئم، اپیل گزار اور اس کی مسلمان ساتھی خواتین کے درمیان جھگڑا ہونے کی وجہ سے اپیل گزار کی جانب سے کوئی اشتعال انگیز الفاظ استعمال نہ کرنے کے باوجود مسلمان خواتین نے اپنے جھگڑے کے متعلق دوسروں کو بتایا جنہوں نے معاملے پر پانچ روز تک غور و فکر کرنے کے بعد فیصلہ کیا کہ وہ اپیل گزار کو توہین رسالتؐ کے جھوٹے الزام میں پھنسائیں گے ان دونوں ممکنات کا جائزہ لیا جانا ضرور ی ہے۔

23۔ محمد ادریس (CW1) اور محمد امین بخاری‘ ایس پی انوسٹی گیشن (PW6) نے ابتدائی عدالت سماعت کے روبرو جو بیان دیا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مبینہ توہین رسالتؐ کا ارتکاب عیسائی اپیل گزار نے اپنی مسلمان ساتھی خواتین کے ہاتھوں اپنے مذہب کی توہین کرنے اور اپنے مذہبی جذبات مجروح ہونے کے بعد کیا کیونکہ وہ یسوح مسیح پر یقین رکھتی تھی اور حضرت عیسیٰؑ کی پیروکار تھی۔ قرآن کریم کے مطابق ایک مسلمان کا عقیدہ اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک وہ نبی کریمؐ کی ذات پاک اور اللہ کے دیگر پیغمبروں جن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام (ابن مریم) بھی شامل ہیں یہ اور تمام الہامی کتب بشمول انجیل (Bible) پر یقین نہ رکھے۔ اس تناظر میں اپیل گزار کے مذہب کی مسلمان ساتھی خواتین کی جانب سے توہین بھی مذہب کی توہین (blasphemous) سے کم نہ ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ جو تمام مخلوق کا خالق ہے جانتا ہے کہ ایک انسان کے مذہب یا مذہبی جذبات کی توہین کرنا مشتعل کرنے کے مترادف ہے اور اس وجہ سے قرآن کریم میں حکم دیا گیا کہ:

ترجمہ:اور جن لوگوں کو یہ مشرک خدا کے سوا پکارتے ہیں ان کو برا نہ کہنا کہ یہ بھی کہیں خدا کو بے ادبی سے بے سمجھے برا(نہ)کہہ بیٹھیں اس طرح ہم نے ہر ایک فرقے کے اعمال (انکی نظروں میں) اچھے کردکھائے ہیں پھر انکو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانا ہے تب وہ انکو بتائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے(سورۃ الانعام آیت108)

اپیل گزار کی مسلمان ساتھیوں سے اپیل گزار کے مذہب جس کی وہ پیروی کرتی ہیں اور معبود پر اس یقین کی توہین کرتے ہوئے اللہ تبارک تعالیٰ کے احکامات کی خلاف ورزی اور اگر اپیل گزار کے خلاف لگائے گئے الزامات کو درست مان لیاجائے تب بھی اپیل گزار کا بیان کردہ عمل اس سے مختلف نہیں تھا جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے تنبیہ کی ہے۔

24۔ استغاثہ کی جانب سے دی گئی شہادتوں میں موجود سنگین تضادات کے تناظر میں یہ یکساں طورپر معقول محسوس ہوتا ہے کہ اپیل گزار اور اسکی مسلم ساتھی خواتین کے مابین جائے وقوعہ پر ایک جھگڑا ہوا جس میں اپیل گزارنے کسی قسم کے توہین آمیز الفاظ نہیں کہے مسلم خواتین نے جھگڑے کی اطلاع دیگر افراد کو دی جنہوں نے پانچ دن کے طویل عرصے اس پر غور وفکر اور منصوبہ بندی کی اور اپیل گزار کے خلاف توہین رسالتﷺ کا جھوٹا الزام لگانے کا فیصلہ کیااگر ایسا تھا تو مقدمہ ہذا کی مسلمان گواہان نے ہمار ے پیارے نبیﷺ کے عیسائی مذہب کے پیروکاروں سے کہے گئے میثاق کی خلاف ورزی کی جان اے مورو نے اپنی کتاب''پیغمبر اسلام حضرت محمدﷺ کے دنیا کے عیسائی مسلمانوں سے کئے گئے معاہدات(شائع شدہ اینجلکیو پریس01/09/2013) میں ایسے بہت سے معاہدات جو پیغمبر خدا حضرت محمدﷺ نے عیسائی مذہب کے پیروکاروں سے کئے کا تذکرہ اور اندراج کیا ہے ان میں سے ایک معاہدہ جبل سینا کے راہبان سے حضرت محمدﷺ کا میثاق کہلاتا ہے 628 ہجری کے قریب سینٹ کیتھرین کی خانقاہ جو دنیا کی قدیم ترین خانقاہ ہے اور مصر کے جبل سینا کے دامن میں واقع ہے کا ایک وفد نبی کریمﷺ کے پاس آیا اور اپنے تحفظ کی درخواست کی جو منظور کرلی گئی اورانکوایک میثاق حقوق عطا کیاگیا مذکورہ میثاق حقوق جس کو سینٹ کیتھرین سے عہد بھی کہاجاتا ہے عربی زبان سے انگریزی زبان میں ڈاکٹر اے ظہور اورڈاکٹر زیڈ حق نے اس طرح ترجمہ کیا یہ محمدﷺابن عبداللہ کی جانب سے دور ونزدیک بسنے والے ان افراد جنہوں نے عیسائی مذہب اختیار کیا کے لئے پیغام(معاہدے کی صورت) ہے کہ ہم انکے ساتھ ہیں حقیقت میں خود خدمتگار اور مددگار اورمیرے پیروکاران کا دفاع کرینگے کیونکہ عیسائی میرے شہری ہیں اور خدا کی قسم میں ہر اس عمل کیخلاف ہوں جو انہیں ناخوش کرے گا۔ ان پر کوئی پابندی نہیں نہ ہی ان کے منصفین کو اپنے عہدوں سے ہٹایا جائے گا اور نہ ہی ان کے راہبان کو ان کی خانقاہوں سے الگ کیا جائے گا۔ کسی کو بھی ان کے گھروں کو تباہ کرنے نقصان پہنچانے اور وہاں سے کچھ اٹھاکر مسلمانوں کے گھر لے جانے کی اجازت نہ ہوگی۔ جو کوئی ان میں سے کچھ لے کر جائے گا وہ اللہ سے معاہدہ شکنی کرے گا اور اس کے پیغمبر کی نافرمانی کرے گا۔ در حقیقت وہ میرے دوست ہیں اور ہر وہ شخص جو ان سے نفرت کرتا ہے سے تحفظ کے لئے ان کے ہمراہ میری میثاق ہے۔ کوئی بھی ان کو نقل مکانی پر مجبور نہیں کرے گا اور نہ ہی ان پر جنگ لڑنے کے لئے دباؤ ڈالے گا۔ مسلمان ان کے لئے لڑیں گے اگر کوئی عیسائی خاتون کسی مسلمان سے شادی کرتی ہے تو ایسا اس (خاتون) کی مرضی کے بغیر نہیں ہونا چاہئے اور اس کو عباد ت کے لئے چرچ جانے سے نہیں روکا جائے گا۔ ان کے چرچ (عبادت گاہوں) کی عزت کی جائے گی۔ ان کو نہ تو کبھی عبادتگاہوں کی مرمت سے ر وکا جائے گا اور نہ ہی ان کے مقدس معاہدوں سے قوم(مسلمانان) میں سے کوئی بھی قیامت کے دن تک اس میثاق سے نافرمانی /روگردانی کرے گا۔‘‘

یہ عہد دائمی اور عالمگیری ہے اور محض سینٹ کیتھرین تک محدود نہیں ہے۔ مذکورہ میثاق کے تحت پیغمبرِ خدا کی جانب سے دئیے گئے حقوق حتمی ہیں اور نبی کریم ؐ نے قرار دیا ہے کہ تمام عیسائی آپ ؐ کے رفقاء میں سے ہیں اور آپؐ نے عیسائیوں کے ساتھ ناروا سلوک کو اللہ کی میثاق سے روگردانی قرار دیا۔ یہ قابل ذکر ہے کہ مذکورہ میثاق میں عیسائیوں پر استحقاق کے حصول کے لئے کوئی شرط عائد نہیں کی گئی اور یہ ہی کافی ہے کہ وہ عیسائی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کو اپنے عقائد میں ردوبدل کی ضرورت نہیں نہ ہی کوئی قیمت ادا کرنی ہے اور نہ ہی ان پر کوئی ذمہ داری ہے۔ یہ میثاق حقوق کے متعلق ہے بغیر فرائض کے یہ واضح طور پر حق جائیداد، آزادی مذہب، آزادی عمل اور شخصی حقوق کو تحفظ دیتا ہے۔

25۔ یہ بدقسمتی ہے کہ زیر نظر مقدمے میں ناموس رسالتؐ (پیغمبریت کی تعظیم اور تقدس) کے مقدس نظریے کو استعمال کرتے ہوئے پیغمبرؐ خدا حضرت محمد ﷺ کے متذکرہ عہد جو آپؐ نے عیسائی فرقے سے تعلق رکھنے والوں سے کیا تھا کی پاسداری نہ کی گئی۔ ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ فالسے کے کھیت میں ہونے والے جھگڑے کے بعد دروغ گوئی کی دعوتِ عام ہوئی اور شکایت کنندہ فریق جس کی قیادت قاری محمد سلام شکایت گزار کررہا تھا نے قرآن کریم میں درج اللہ تبارک تعالیٰ کے درج ذیل حکم کی جانب کوئی توجہ نہ دی جو اس طرح ہے:

ترجمہ":اے ایمان والو! انصاف پر قائم رہو اور خدا کیلئے سچی گواہی دو خواہ (اس میں تمہارا یا تمہارے ماں باپ اور رشتہ داروں کا نقصان ہی ہو۔ اگر کوئی امیر ہے یا فقیر تو خدا ان کا خیر خواہ ہے تو تم خواہش نفس کے پیچھے چل کر عدل کو نہ چھوڑ دینا۔ اگر تم پیچیدہ شہادت دو گے یا (شہادت سے) بچنا چاہو گے تو (جان رکھو) خدا تمہارے سب کاموں سے واقف ہے (سورۃ النساء آیت 135)

حتیٰ کہ اگر مقدمہ ہذا میں اپیل گزار کے خلاف عائد الزامات میں ذرا بھر بھی سچائی ہے تب بھی استغاثہ کی شہادتوں میں اوپر بیان کردہ سنگین تضادات واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ مقدمہ ہذا میں سچائی کو بہت سی ایسی باتوں سے گڈ مڈ کیا گیا ہے جو سچ نہیں ہیں۔ یہاں تک کہ شکایت کنندہ فریق کے مسلمان گواہان نے درج ذیل قرآنی آیت میں دیئے گئے اللہ تبارک تعالیٰ کے حکم کو فراموش کر دیا:

ترجمہ:اور حق کو باطل کے ساتھ نہ ملا اور سچی بات کو جان بوجھ کر نہ چھپا

(سورۃ البقرہ آیت 42)

توہین رسالتؐ ایک سنگین جرم ہے لیکن شکایت کنندہ فریق کی جانب سے اپیل گزار کے مذہب اور مذہبی احساسات کی توہین اور پھر اللہ کے نبی ؐ کے نام پر سچ میں جھوٹ کو ملانا بھی توہین رسالت ؐ سے کم نہیں۔ یہ ایک سنگین مذاق ہے کہ عربی زبان میں ’’آسیہ‘‘ لفظ کے معنی ’’گنہگار‘‘ ہیں لیکن زیر نظر مقدمے میں اس کا کردار شیکسپیئر کے ناول کنگ لیئر King learکے الفاظ میں ’’گناہ کرنے سے زیادہ گناہ کا شکار‘‘ جیسا ہے۔

26۔ جو کچھ بھی اوپر بیان کیا گیا ہے کہ ا س کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کرنے میں کوئی عار نہیں کہ استغاثہ اپیل گزار کے خلاف اپنا مقدمہ بلا شک و شبہ ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ لہٰذا اپیل ہذا کو منظور کیا جاتا ہے۔ ذیلی عدالتوں کی جانب سے اپیل گزار کو دی گئی اور برقرار رکھی گئی سزا ختم کی جاتی ہے اور اس کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے الزام سے بری کیا جاتا ہے۔ اگر اس کو کسی دوسرے مقدمے میں جیل میں رکھنا مقصود نہ ہو تو اس کو فوری طور پر جیل سے رہا کیا جائے گا۔

جسٹس آصف سعید خان کھوسہ 133جج

(اختتام)

مزید : کامرس