کوہاٹ ، ڈی ایچ کیو کا نرسنگ سٹاف ڈی ایم ایس کے احکامات کے باعث ذہنی مریض

کوہاٹ ، ڈی ایچ کیو کا نرسنگ سٹاف ڈی ایم ایس کے احکامات کے باعث ذہنی مریض

کوھاٹ (بیورو رپورٹ) ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کوھاٹ کا نرسنگ سٹاف خود ساختہ ڈی ایم ایس کے من مانے احکامات کے باعث ذہنی مریض بن گیا ڈاکٹر کے مقدس پیشے کو ڈاکٹر فضل الرحمان نے داؤ پر لگادیا ہے نرسنگ کے شعبے کو انا پرست لوگوں کے رحم وکرم پر چھوڑنا اس پیشے کی توہین ہے نرسنگ سٹاف کے خلاف شکایات ہوں تو اسکے خلاف قانونی کاروائی کرنے کے حق میں ہیں مگر انہیں بلاوجہ تنگ کرنا برداشت نہیں کریں گے یہ باتیں کوھاٹ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نرسنگ ایسوسی ایشن کوھاٹ کے صدر ظفر اقبال‘ نائب صدر سیما خان اور دیگر نے کیا اس موقعہ پر فی میل نرس فضیلت شیخ ‘ثمینہ ‘مہوش وحید اور سیکرٹری اطلاعات وسیم احمد اور جائنٹ سیکرٹری محفوظ احمد بھی موجود تھے ظفر اقبال کاکہنا تھا کہ اس وقت ہمارے پاس تقریباً دو سو میل اور فی میل نرسز کے ڈی اے اور لیاقت ہسپتال میں اپنی خدمات جانفشانی سے انجام دے رہی ہیں ڈی ایچ کیو ہسپتال کے تمام وارڈز‘ آئی سی یواور ٹراماسنٹرز میں یہ سٹاف اپنے فرائض ایمانداری سے انجام دے رہاہے سیکرٹری کی طرف سے چارج نرس ناصرہ کا نرسنگ سپرنٹنڈنٹ کے طورپر تعیناتی کے آرڈز ہوئے مگر انا پرست ڈی ایم ایس نے اس عہدے پر قائمقام نرس کو بٹھا رکھا ہے اور اسے نائٹ ڈیوٹی کا چارج دے رکھاہے جس سے انہیں چھٹی بھی نہیں ملتی علاوہ ازیں ڈیوٹی روسٹر کے مطابق جب کسی اور کی روٹین کے مطابق ڈیوٹی لگائی جاتی ہے تو ڈاکٹر فضل الرحمان اسے تبدیل کردیتاہے یعنی وہ کھلم کھلا ہمارے معاملات میں مداخلت کرکے اس نظام کو لپیٹنے کے درپے ہے انہوں نے کہا کہ لیبارٹری سے آنے والی آمدنی کو اپنے مصارف میں لارہا ہے ہسپتال میں ڈائریکٹ آکسیجن لائن تو ڈال دی گئی ہے مگرا س خودغرض انسان کی وجہ سے وہ عدم فعال ہے انہوں نے کہا کہ ہم مذاکرات کے ذریعے ان مسائل کا حل چاہتے ہیں مگر فریاد سننے والا کوئی نہیں لہٰذا ہم سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاج کرنے پرمجبور ہوئے ہیں ہمارام طالبہ ہے کہ نرسنگ سٹاف خصوصاً فی میل نرسز کو تنگ نہ کیاجائے اور دیانتداری سے ڈیوٹی کی انجام دہی کے لئے چھوڑا جائے ۔بلکہ سابقہ شکایات کی طرح ڈاکٹر فضل الرحمان کو ڈی ایچ کیو سے تبدیل کیاجائے ہم انتظامیہ کو تین دن کی ڈیڈ لائن دیتے ہیں بصورت دیگر مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنے پرمجبور ہوں گے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر