کرنسی کا کاروبار کرنیوالے 45 صرافوں کی گرفتار کالعدم

کرنسی کا کاروبار کرنیوالے 45 صرافوں کی گرفتار کالعدم

پشاور(نیوز رپورٹر)پشاور ہائیکورٹ نے ڈپٹی کمشنر پشاور کی جانب سے چوک یاد گار میں کرنسی کا کاروبار کرنے والے 45صرافوں کو 3 MPOکے تحت گرفتار کرنے کے اقدام کو کالعدم قرار دیدیا‘ چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس اشیاق ابراہیم پر مشتمل دو رکنی بنچ نے حاجی فرمان وغیرہ کی رٹ درخواستوں کی سماعت کی تو اس دوران ان کے وکلاء بیرسٹر امیر اللہ چمکنی‘ غلام محی الدین ملک ‘شاہ فیصل اتمانخیل‘ فرمان اللہ وغیرہ نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی اے نے مذکورہ صرافوں کو مبینہ طور پر ہنڈی کا غیر قانونی کاروبار کرنے کے الزام میں گرفتار کیاکیونکہ انہیں شبہ تھا کہ ہنڈی کے ذریعے رقم دہشت گردی کے واقعات میں مالی معاونت کیلئے استعمال ہوتی ہے حالانکہ اس حوالے سے ایک جامع قانون انسداد دہشت گردی ایکٹ کی صورت میں موجود ہے مگر ڈپٹی کمشنر پشاور نے ان تمام صرافوں کیخلاف 3 MPOکے تحت وارنٹ جاری کئے جو کہ غیر قانونی ہے کیونکہ اس حوالے سے ایف آئی آر درج ہونا لازمی ہے‘ دوسری جانب سرکاری کے وکیل نے رٹ درخواستوں کو خارج کرنے کے حق میں دلائل دئیے اور موقف اختیار کیا کہ یہ صراف غیر قانونی طریقے سے بیرون ممالک سے رقوم بھجوانے (ہنڈی) کے عمل میں ملوث ہیں لہٰذا ڈپٹی کمشنر کا حکم حقائق پر مبنی ہے ‘ عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر رٹ درخواستیں منظور کرتے ہوئے 3 MPOکے تحت ان کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیدیا ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر