خیبر پختونخوا میں سیاسی بنیادوں پر بھرتی افراد کی 22دخواستیں مسترد

خیبر پختونخوا میں سیاسی بنیادوں پر بھرتی افراد کی 22دخواستیں مسترد

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، نیوز ایجنسیاں) سپریم کورٹ نے اے این پی کے دور میں خیبرپختونخوا میں سیاسی بنیادوں پر بھرتیوں کے معاملے میں نکالے جانیوالے افراد کی 22د ر خو ا ستیں مسترد کردیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا یہ سیاسی بنیادوں پر تقرریاں تھیں ایسی تقرریوں کیلئے باقاعدہ اشتہار دیا جاتا ہے۔ پیر کو سپریم کورٹ میں اے این پی کے دور میں خیبر پختو نخوا میں سیاسی بنیادوں پر بھرتیوں کے معاملہ کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے نکالے جانیوالے افراد کی 22 درخواستیں مسترد کردیں۔ پی ٹی آئی حکومت نے 2014 میں بھرتیوں کو ختم کردیا تھا۔ و کیل درخواست نے موقف اختیار کیا جس پوسٹ پر مجھے تعینات کیا گیا اس کا کبھی اشتہار نہیں دیا گیا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا یہ سیاسی بنیادوں پر تقرریاں تھیں جو صوبائی سروس ٹریبونل نے ختم کیں۔ ایسی تقرریوں کیلئے باقاعدہ اشتہار دیا جاتا ہے۔ امیدوار کو مسابقتی عمل سے گزرنا پڑتا ہے ،جسٹس سجاد نے کہا ایک حکومت نے تقرریاں کیں د و سری کے دور میں ٹریبونل نے کالعدم کردیں ،وزیراعلیٰ کے پو لیٹیکل سیکر ٹری نے عدالت کو فہرست دی۔بعدازاں سپریم کورٹ نے وزراء اور سرکاری افسران کی لگژری گاڑیوں سے متعلق کیس میں کے پی حکومت کو تین دن میں رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔دوران سماعت ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا وفا ق نے 33گاڑیاں واپس لے لی ہیں کابینہ کے پاس سترہ گاڑیاں تھیں پندرہ گاڑیوں کو پروٹوکول کے پول میں ڈال دیا ہے، دو گاڑیاں نیلام کردی ہیں دیگر سولہ بھی نیلام کی جائیں گی۔ 354 گاڑیوں کے چیسز ٹیمپر کئے گئے۔ 294 گاڑیاں ایف بی آر اورکابینہ ڈویژن کے پاس ہیں۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا پنجاب میں 38لگژری گا ڑ یاں واپس لی گئیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا 56 کمپنیوں کی گاڑیاں کہاں ہیں؟ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا دو سو ایک گاڑیوں میں سے اڑتیس لگژری تھیں ۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا سندھ کے پاس 149 لگژری گاڑیاں تھیں کابینہ فیصلہ کرے گی گاڑیاں نیلام کرنی ہیں یا رکھنی ہیں جبکہ 45 لگژری گاڑیاں واپس لی گئی ہیں۔ کے پی حکومت نے متعلقہ ڈیٹا پر مبنی رپورٹ پیش کرنے کیلئے وقت مانگ لیا۔

سپریم کورٹ نے ہدایت کی کہ تین دن میں رپورٹ جمع کرائیں ۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلو چستان نے بتایا بلوچستان میں 551 لگژری گاڑیاں ہیں ستر فیصد گاڑیاں اپنی عمر گزار چکی ہیں، تیس فیصد گاڑیوں کی سروس ہونا باقی ہے ،صوبائی وزراء کو تین گاڑیاں رکھنے کی اجا ز ت ہے۔ رپورٹ جمع کرانے کیلئے وقت درکار ہے۔

سپریم کورٹ

مزید : علاقائی