سی پیک سرمایہ کاری کا نیا دروازہ : عمران خان ، وزیر اعظم کی روسی منصب سے ملاقات ، دوطرفہ تعلقات ، سٹرٹیجک تعاون بڑھانے پر اتفاق

سی پیک سرمایہ کاری کا نیا دروازہ : عمران خان ، وزیر اعظم کی روسی منصب سے ...

شنگھائی( مانیٹرنگ ڈیسک ،آئی این پی ) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری(سی پیک) منصوبہ مشرق وسطی اور خلیجی ممالک کے درمیان رابطے بڑھانے کا باعث بنے گا،سی پیک سے چین اورپاکستان دونوں کومعاشی اور تجارتی فائدہ ہو،سی پیک کے ذریعے فاصلوں میں کمی آئے گی، ، قراقرم ہائی وے شاہراہوں کے عالمی نیٹ ورک میں شامل ہوگئی ہے، سی پیک سے سرمایہ کاری کے تازہ مواقع میسرآئیں گے،پاکستان میں احتساب اور ہر شعبے میں شفافیت کا نظام رائج کرنا چاہتے ہیں، انتخابات میں ہماری پارٹی نے تبدیلی کیلئے کام کیا،پاکستان ٹیکسٹائل اور کھیلوں کا سامان برآمد کرنے والا اہم ملک ہے، پاکستان سے طبی سامان کی برآمد بھی اہم ہے ۔ چین کے شہر شنگھائی میں انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے چین کی مہمان نوازی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہماری حکومت نئے پاکستان کا نعرہ لگا کرآئی ہے، ہم ہرشعبے میں تبدیلیاں لارہے ہیں، پاکستان ہرلحاظ کے مواقع سے بھر پورملک ہے، سی پیک سے چین اورپاکستان دونوں کو معاشی اور تجارتی فائدہ ہوگا جب کہ پاک چین اقتصادی راہداری مشرق وسطی اور خلیجی ممالک کے درمیان رابطے بڑھانے کا باعث بنے گا۔وزیراعظم عمران خان نے پاک۔چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کو چین اور وسطی ایشیا کے جوڑنے کا منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے یہ منصوبہ نئی سرمایہ کاری کا دروازہ ہے جونئی مارکیٹ اور نئے راستے کھول رہا ہے۔۔وزیراعظم نے کہا کہ ‘سی پیک دوریوں اور لاگت کو کم کرے گا اور اہم ضروری وسائل پیدا کرنے اور صارفین کے لیے نئی اشیا کی پیداوار میں اضافہ کرے گا’۔پاکستان تحریک انصاف کے انتخابی منشور کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘میری جماعت پی ٹی آئی نے انتخابات میں تبدیلی کے لیے مہم چلائی اور اب ہم اقتدار میں ہیں اور موثر اصلاحات کر رہے ہیں’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم شفافیت اور احتساب کو بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں، کاروبار اور حکومت چلانے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کررہے ہیں’۔وزیراعظم نے کہا کہ 'ہم پاکستان میں وسائل سے مالامال ہیں جس میں زرخیز زمین، 12 کلامیٹک زونز پر مشتمل ایک زمین ہے'۔انہوں نے کہا کہ 'ہم ٹیکسٹائل، کھیلوں اور انجینئرنگ کی اشیا، آئی ٹی کی خدمات اور سرجیکل آلات سمیت میڈیکل ٹیکنالوجی بھی بنا رہے ہیں'۔انہوں نے کہا کہ ‘افرادی قوت میں بھی ہم مالامال ہیں، ہمارے پاکستان میں 10 کروڑ افراد 35 سال سے کم عمر ہیں اور اسی طرح نیا پاکستان کاروبار کے لیے اہم جگہ ہوگی، وزیر اعظم نے کہا کہ پوری دنیا کے اقتصادیات پر قبضہ کرنے کی خواہش رکھنے والی چند طاقتوں نے عالمی تجارت پر حملہ کر دیا ہے ۔ اس غاصبانہ کوشش کو چین نے توڑنے کی کوشش کی ہے اور پاکستان اس بڑے عمل میں چین کے ہم رکاب ہے ۔پاکستان اور چین مل کر عالمی تجارت کا تحفظ کریں گے۔۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب عالمی تجارت حملے کی زد میں ہے ۔چینی صدر شی نے یہ اعلان کرکے پوری دنیا کو مطمئن کر دیا ہے کہ چین کے دروازے دنیا کے لئے کبھی بند نہیں ہوں گے بلکہ عالمی تجارت اور یکساں ترقی کے لئے ان دروازوں کو مزید وسیع کیا جائے گا ۔ پاکستان چینی صدر کے اس اعلان پر بہت مطمئن ہے اور ان کا شکرگزار ہے ۔ دریں اثنا وزیراعظم عمران خان نے روس کے وزیراعظم دمتری میدویدیف سے ملاقات کی اور انہیں دورہ پاکستان کی بھی دعوت دی دونوں وزرائے اعظم کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور اسٹریٹجک تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا۔ پیر کو وزیراعظم عمران خان نے شنگھائی میں عالمی سرمایہ کاری ایکسپو کانفرنس میں شرکت کی جہاں انہوں نے اپنے خطاب کے دوران چینی اور عالمی سرمایہ کاروں کو پاکستان آنے کی دعوت دی۔ کانفرنس کے دوران وزیراعظم عمران خان کی اپنے روسی ہم منصب سے سائیڈ لائن پر ملاقات ہوئی جس میں روس کے وزیراعظم نے عمران خان کو منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی۔اس موقع پر دونوں وزرائے اعظم کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور اسٹریٹجک تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا۔ وزیراعظم عمران خان نے روسی صدر کے لیے نیک خواہشات اور خیرسگالی کا خصوصی پیغام بھی دیا جب کہ روسی وزیراعظم کو دورہ پاکستان کی بھی دعوت دی۔

عمران خان

شنگھائی (مانیٹرنگ ڈیسک ، آئی این پی ) چین کے صدر شی جن پنگ نے کہاہے کہ گلوبلائزیشن نے جنگل کے قانون کا خاتمہ کر دیا، چین درآمدات بڑھا کر عالمی برادری سے تعلقات مزید مستحکم کرنا چاہتا ہے، تمام ممالک کیلئے ہمارے دروازے کھلے ہیں،، اس وقت دنیا بھر کے ممالک کو مشترکہ چیلنجز اور خطرات کا سامنا ہے،تمام ممالک کیلئے چین کے دروازے مزید وسیع کریں گے، د،چین دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی فرق ختم کرنا چاہتا ہے، تمام ممالک کو چاہیے کہ وہ یک طرفہ نظام کے خلاف متحدہ ہو جائیں،ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت نے دنیا میں انقلاب برپا کر رکھا ہے، چین دنیا کے لیے اپنے دروازے بند نہیں کرے گا، ہم اقوام عالم کے لیے تجارت کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کریں گے، چین دو طرفہ اور کثیرالجہتی تعاون کو فروغ دے گا،چین آئندہ 15 سال میں تین سو کھرب امریکی ڈالرزکی مصنوعات درآمد کرے گا اور سو کھرب ڈالرز خدمات درآمد کرنے کی مد میں صرف کئے جائیں گے۔چین کسٹم ڈیوٹی میں مزید کمی لائے گا اور درآمد کنندگان کی سہولت کے لئے اس نظام کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔چینی صدر مملکت شی جن پنگ نے پہلی چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو میں شرکت کی اور " تخلیق ، اشتراک اور کھلے پن پر مبنی عالمی معیشت کی مشترکہ تعمیر "کے مو ضوع پر خطاب کیا ۔ شی جن پنگ نے چینی حکومت اور عوام کی جانب سے ایکسپو میں شریک ایک سو بہتر ممالک ، علاقوں ، بین الاقوامی تنظیموں اور تین ہزار چھ سو سے زائد کاروباری اداروں سے آئے ہوئے افراد کا گرم جوشی سے خیر مقدم کیا ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مختلف ممالک کے دوست چین کی ترقی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بین الاقوامی اقتصادی و تجارتی تعاون کو فروغ دیتے ہوئے مشترکہ خوشحالی اور ترقی کے لئے کوششیں کریں گے ۔ انہوں نے کہا چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو درآمد ات کے موضوع پر دنیا کی پہلی قومی ایکسپو ہے۔ یہ بین الاقوامی تجارت کی ترقی کی تاریخ میں بڑا اقدام ہے۔شی جن پھنگ نے کہا ایکسپو کا انعقاد چین میں اصلاحات و کھلے پن کے نئے دور کو فروغ دینے کیلئے ایک اہم فیصلہ ہے۔ یہ چین کی جانب سے دنیا کے لیے اپنی مارکیٹ کھولنے کے لیے بھی اہم اقدام ہے۔ اس ایکسپو کے ذریعے کثیرالجہتی تجارتی نظام کی حمایت، آزاد تجارت کے فروغ کے حوالے سے چین کے موقف کا اظہار کیا گیا ہے۔ یہ کھلے عالمی معیشت کے فروغ اور اقتصادی گلوبلائزیشن کی حمایت کے لئے چین کا حقیقی اقدام ہے۔ انہوں نے کہا شنگھائی میں امید ظاہر کی کہ مختلف ممالک مزید ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کھلے پن اور تعاون کو مثبت انداز میں فروغ دیں گے اور مشترکہ ترقی پر عملدرآمد کریں گے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں عالمی معیشت میں گہری تبدیلیاں آرہی ہیں۔تحفظ پسندی اور یکطرفہ پسندی دوبارہ نظر آرہی ہیں۔اس وقت اقتصادی عالمگیریت کو متعدد چیلنچز درپیش ہیں۔ جن سے کثیرالطرفہ پسندی اور آزاد تجارتی نظام کو نقصان پہنچتا ہے۔ عدم استحکام اور غیر یقینی صورتحال میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔اس صورتحال میں لوگوں کو ضوابط اور ترقیاتی رجحان کے مطابق کھلے پن اور تعاون کے اعتماد کو مضبوط بنانا چاہیئے اور خطرات اور چیلنچز سے مشترکہ طور پر نمٹنا چاہیے۔شی جن پنگ نے پرزور الفاظ میں کہا کہ اقتصادی عالمیگریت ایک نا قابل واپسی تاریخی رجحان ہے۔ کھلے پن کی پالیسی اور تعاون عالمی اقتصادی و تجارتی وحدت کو قوت حیات بخشنے اور مضبوط بنانے کے لئے اہم قوتیں ہیں اور عالمی اقتصادی استحکام اور بحالی کو فروغ دینے کے حقیقی مطالبے ہیں اور انسانی معاشرے کی مسلسل ترقی کو آگے بڑھانے کے زمانی مطالبے ہیں۔صدر ملکت شی جن پنگ نے اپنے خطاب میں تمام ممالک سے اپیل کی کہ روابط اور تعاون کو توسیع دے کر تخلیق کو اہمیت دیتے ہوئے اشتراک اور مفادات کے مشترکہ حصول کی بنیاد پر ترقی کو آگے بڑھائیں ۔انہوں نے کہا کہ مختلف ممالک کو تجارتی تحفظ پسندی اور یک طرفہ پسندی کی مخالفت جبکہ کثیرالجہتی اور دو طرفہ تعاون کے معیار کو بلند کرنے کی حمایت کرنی چاہیئے اور کھلے پن پر مبنی عالمی معیشت کے قیام کی کوشش کرنی چاہیئے ۔ انہوں نے کہا کہ معقول ، منصفانہ اور شفاف بین الاقوامی اقتصادی و تجارتی نظام کے قیام اور آزاد تجارت اور سرمایہ کاری کے عمل کو آگے بڑھانے کے لئے کوشش کی جا نی چاہیے ۔ شی جن پنگ نے مزید کہا کہ مختلف ممالک کو سائنسی و تکنیکی انقلاب کے نئے دور کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈیجیٹل معیشت ،مصنوعی انٹیلی جنس اور نینو ٹیکنالوجی سمیت جدیدتریں شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا چاہیئے ۔ انہوں نے کہا کہ اشتراک ، تعاون اور مشترکہ مفادات کے حصول کی بنیاد پر مشترکہ ترقی دنیا کے لئے درست راستہ ہے ۔ شی نے کہا کہ کھلے پن کی پالیسی موجودہ چین کا منفرد نشان بن گیا ہے۔ اصلاحات و کھلے پن پر عمل درآمد کے چالیس برسوں میں چین اپنی مارکیٹ کو کھول کر ترقی کو فروغ دینے کے راستے پر گامزن ہے۔ جس سے چین میں بند یا نیم بند کرنے سے مکمل کھولنے تک کی عظیم تاریخی تبدیلی آئی ۔ چین کھلے پن کو مسلسل فروغ دیتا رہا ہے۔ جس سے نہ صرف اپنی ترقی کو مضبوط بنایا گیا، بلکہ پوری دنیا کی ترقی کے لئے مدد بھی فراہم کی گئی ہے۔ اعلی سطحی کھلے پن کے فروغ، کھلی عالمی معیشت کی تعمیر اور انسانیت کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کے حوالے سے چین کا یہ اقدام جاری رہیگا۔ انہوں نے پرزور الفاظ میں کہا کہ چین باہمی مفادات کی بنیاد پر کھلے پن کی حکمت عملی پر عمل درآمد کرتا رہے گا۔ چین ہمیشہ کے لئے عالمی اصلاحات و کھلے پن کا اہم شریک ہے، عالمی اقتصادی ترقی کی مستحکم قوت ہے، مختلف ملکوں کے درمیان تجارتی مواقع کو فروغ دینے والا ہے اور عالمی انتظامی اصلاحات کے لئے خدمات سرانجام دینے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ پندرہ برسوں کے دوران چین ایک محتاط اندازے کے مطابق چار سو کھرب امریکی ڈالرز کی درآمدات کرے گا۔ جن میں سے تین سو کھرب امریکی ڈالرزکی مصنوعات درآمد کی جائیں گی اور سو کھرب ڈالرز خدمات کی مد میں صرف کئے جائیں گے۔ ۔سرحد پارای کامرس سمیت دیگر نئی صنعتوں کی ترقی کو تیز رفتاری سے فروغ دیا جائے گا۔اس کے ساتھ ساتھ مالیاتی شعبے میں کھلے پن کو توسیع دی جائے گی اور تعلیمی اور طبی شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے تناسب میں اضافہ کیا جائے گا۔شی جن پنگ نے مزید کہا کہ چین چاہتا ہے کہ علاقائی جامع اقتصادی ساتھی کے تعلقات کے معاہدے کو جلد از جلد فروغ دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرمایہ کاری کے حوالے سے چین اور یورپ کے معاہدے سے متعلق بات چیت کو تیز کیا جائے گا اور چین-جاپان -جنوبی کوریا آزاد تجارتی زون سے متعلق مذاکرات کے عمل کو بھی تیز کیا جائے گا۔ انہوں کہا کہ کھلے پن کی پالیسی موجودہ چین کا منفرد نشان بن گیا ہے۔ اصلاحات و کھلے پن پر عمل درآمد کے چالیس برسوں میں چین اپنی مارکیٹ کو کھول کر ترقی کو فروغ دینے کے راستے پر گامزن ہے۔ جس سے چین میں بند یا نیم بند کرنے سے مکمل کھولنے تک کی عظیم تاریخی تبدیلی آئی ۔ چین کھلے پن کو مسلسل فروغ دیتا رہا ہے۔ جس سے نہ صرف اپنی ترقی کو مضبوط بنایا گیا، بلکہ پوری دنیا کی ترقی کے لئے مدد بھی فراہم کی گئی ہے۔ اعلی سطحی کھلے پن کے فروغ، کھلی عالمی معیشت کی تعمیر اور انسانیت کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کے حوالے سے چین کا یہ اقدام جاری رہیگا۔ انہوں نے پرزور الفاظ میں کہا کہ چین باہمی مفادات کی بنیاد پر کھلے پن کی حکمت عملی پر عمل درآمد کرتا رہے گا۔ چین ہمیشہ کے لئے عالمی اصلاحات و کھلے پن کا اہم شریک ہے، عالمی اقتصادی ترقی کی مستحکم قوت ہے، مختلف ملکوں کے درمیان تجارتی مواقع کو فروغ دینے والا ہے اور عالمی انتظامی اصلاحات کے لئے خدمات سرانجام دینے والا ہے۔چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ دنیا کی دوسری بڑی معیشتوں کے مقابلے میں چین کی اقتصادی ترقی کی شرح پیش پیش رہی ہے۔ اور طویل المدتی صحت مند ترقی کی پوری شرائط موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ چینی معیشت کی اچھی ترقی کا رجحان

جاری ہے۔چینی حکومت اصلاحات کو مزید گہرائی تک لے کے جائیگی۔

مزید : صفحہ اول