دھرنوں اور مظاہرین سے نمٹنے کا مستقل حل تلاش کرینگے : فواد چودھری

دھرنوں اور مظاہرین سے نمٹنے کا مستقل حل تلاش کرینگے : فواد چودھری

لاہور/اسلام آباد(جنرل رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی،اے این پی)وفاقی وزیراطلاعات ونشریات فواد چودھری نے کہاہے کہ دھرنوں سے نمٹنے میں اپوزیشن جماعتوں نے تعاون کیا مگر فسادی سیاستدانوں کو خلا میں بھیج دینا چاہئے۔لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیرنے کہا کہ چند روز قبل ہونیوالے دھرنوں سے نمٹنے کیلئے اپوزیشن کوساتھ لے کر چلے کیونکہ اپوزیشن جماعتوں کیساتھ ہمارا کوئی بڑا جھگڑا نہیں تاہم اگر اپوزیشن چاہتی ہے کہ ان کے خلاف کرپشن کے کیسز آگے نہ بڑھائے جائیں تو کوئی توقع نہ کرے کہ ہم مقدمات روکیں گے،ہم کسی کو این آر او نہیں دے سکتے کیونکہ پاکستان کا پیساواپس کرنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ ہمارے خلائی پروگرام میں پیشرفت ہوئی ہے، 2022 میں چین کے خلائی پروگرام کے تحت پہلا پاکستانی خلا باز خلا میں جائے گا جبکہ اگلے سال سپارکو خلا میں جانے کے خواہش مند افراد سے درخواستیں وصول کرے گا اور میں سپارکو سے درخواست کروں گا کہ سائنس دانوں کی بجائے کچھ سیاست دانوں سمیت بعض فسادیوں کو خلا میں چھوڑ کر واپس آجائیں کیونکہ یہی ان کا علاج ہے، اس اقدام سے ہماری بھی بچت ہوجائے گی اور پاکستان کی جان بھی چھوٹ جائے گی۔فواد چودھری نے کہا کہ پاک چین تجارت ڈالر کی بجائے چینی کرنسی میں ہوگی اور یہ چین کی جانب سے پاکستانی معیشت کو سہارا دینے کی کوشش کا حصہ ہے جبکہ ڈالر میں پیسہ دینے کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوجاتے تھے اور خزانے پر بوجھ پڑتا تھا۔فواد چوہدری نے کہا کہ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہنگامہ آرائی کی تمام صورتحال میں اپوزیشن جماعتوں نے ذمے داری کا مظاہرہ کیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ملکی تعلقات شخصیات سے نہیں جڑے ہوتے جبکہ (ن) لیگ کے سابق وزرا ء ہر چیز کا کریڈٹ شریف فیملی سے جوڑ دیتے ہیں، شہبازشریف نے کہا مجھ پرمقدمہ بننے سے چین، سعودی عرب سے تعلقات خراب ہوجائیں گے مگرعالمی برادری وزیراعظم عمران خان پر اعتماد کررہی ہے۔وفاقی وزیراطلاعات نے کہاکہ مسلم امہ کے تنازعات کو ختم کرنا ہماری خارجہ پالیسی کا ایک اہم حصہ ہے، یمن کے معاملے پر ہماری بات چیت آگے بڑھی ہے اور اس میں دیگر فریقین کوبھی شامل کیا ہے جبکہ یمن معاملے پر او آئی سی بھی کردار ادا کرے کیونکہ یمن تنازع ختم ہونے سے پوری مسلم امہ کو فائدہ ہوگا۔وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ صوبائی حکومتوں کو املاک کے نقصان کی تفصیل جمع کرانے اورشرپسند عناصر کا پتہ لگانے کا حکم دیا ہے، جن لوگوں کا نقصان ہوا ہے اس کا مداوا کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ دھرنوں میں غریب طالب علم کے پھل چھین لئے گئے، خواتین کی بھی بے حرمتی کی گئی، ایسے لوگوں کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کہتی ہے این آر او مگر ہم کہتے ہیں نہ رو، این آر او کسی کو نہیں ملے گا۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں احتساب کے نام پر سیاست ہوئی، احتساب کو انتقام کیلئے نہیں استعمال کرنا چاہیے۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ صحافتی تنظیموں کے ساتھ ہم کھڑے ہیں،پاکستان کے اندر میڈیا ایک انڈسٹری ہے اورہم اشتہار کو بطور رشوت استعمال کرنے کو بالکل تیار نہیں ہیں جبکہ پی ایم ایل (ن) نے اشتہاروں کو بطور رشوت استعمال کیا تھا۔علاوہ ازیں نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ دھرنوں اور مظاہرین سے نمٹنے کا کوئی مستقل حل تلاش کریں گے جبکہ کئی برسوں سے جاری ان مسائل پر قابو پانے کیلئے حکومت بالکل درست سمت پر گامزن ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انتہا پسندی صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ دنیا بھر کے ممالک کا اپنے مقامی معاملات کے حساب سے ایک مسئلہ ہے کیونکہ بھارت ، جرمنی، امریکہ اور برطانیہ میں بھی انتہا پسندی کے مسائل موجود ہیں جن کا ہر ملک اپنے اپنے طریقے سے مقابلہ کر رہا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ پولیس کے شعبے میں بھی اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ مقامی تھانہ اپنی مینجمنٹ خود کر سکے، اس کے علاوہ ایک جامع سوچ بھی چاہئے تبھی نیشنل ایکشن پلان کے مقاصد حاصل ہو سکیں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے مظاہرین کے ساتھ جو معاہدہ کیا ہے وہ آئین و قانون کے مطابق ہے اس معاہدے میں کچھ بھی ایسا نہیں جو آئین سے باہر ہو جیسے کہ ریویو پٹیشن دائر کرنی ہے تو وہ آئینی حق ہے کیونکہ اگر کوئی ریویو پٹیشن دائر کرنا چاہتا ہے تو ہم تو اسے نہیں روک سکتے، اسی طرح اگر ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں نام ڈالنے کیلئے قانونی ضرورتیں پوری ہیں تو حکومت نام ضرور ڈالے گی لیکن قانونی ضرورتیں پوری کرنا ہمارا کام نہیں بلکہ متاثرہ فریقین کا کام ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے ابھی صرف فائر فائٹنگ کی ہے کیونکہ شہر بند تھے اور لوگوں کو مشکلات کا سامنا تھا، شہر بند ہوں تو پھر ریاست کے پاس دو راستے ہوتے ہیں ، مذاکرات کی راہ اختیار کی جائے یا ریاست اپنی طاقت استعمال کرے ۔ اگر طاقت استعمال کرتے ہیں تو تشدد کا خطرہ ہوتا ہے اور یہ بھی خطرہ ہوتا ہے کہ اس دوران جانیں نہ چلی جائیں جس سے معاملات ہاتھ سے نہ نکل جائیں اس لیے ہم نے پہلے یہی کوشش کی کہ معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کریں اور شہروں کو کھولا جائے جس میں کامیابی کے بعد پرامن طریقے سے شہروں کو کھول دیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم یہ بھی واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ املاک کو نقصان پہنچانے والوں اور تشدد کرنے والوں کو معاف نہیں کیا جائے گا اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور قانون اپنا راستہ لے گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایسے مظاہرین کو سڑکوں تک نہ پہنچنے دینا پولیس کا کام ہے لیکن ہمارے ہاں پولیس میں اتنی صلاحیت ہی نہیں جس کی وجہ سے اینٹی رائٹس کیلئے ہمیں رینجرز سمیت دیگر ایسے اداروں کے پاس جانا پڑتا ہے جن کا یہ کام ہی نہیں۔ فواد چودھری نے مزید کہاکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی گزشتہ حکومت نے اربوں روپیہ پولیس کے نئے یونٹس اور ڈولفن فورس بنانے پہ ضائع کیے لیکن جہاں استعداد کار بڑھانے کی ضرورت تھی وہاں انہوں نے کچھ بھی نہیں کیا اور اینٹی رائٹ فورسز جو کہ بنانی چاہئے تھیں وہ بنائی نہیں اس لیے10سے15برسوں کی تباہی کو سمیٹنے میں وقت تو لگے گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق ہم نے پہلے خیبرپختونخوا میں پولیس کے نظام کو بہتر بنایا اور اب پنجاب میں بھی پولیس کے نظام کو بہتر بنائیں گے۔

فواد چودھری

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)پیپلز پارٹی کے رہنما سیدخورشید شاہ نے کہا ہے کہ جمہوری نظام کی مضبوطی کیلئے کوشاں ہیں،ہم کوئی ایسی تحریک چلانے کے موڈ میں نہیں جس سے سسٹم لپیٹا جائے۔وفاقی وزیر فواد چودھری کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ ایک شخص مسلسل ایسی بات کررہا ہے جس سے سیاسی نظام کو سپورٹ نہیں مل رہی کیونکہ ایک صوبہ لپیٹ میں آیا تو سارا نظام لپیٹ میں آتا ہے، امید ہے کہ حکومت کوئی غیر آئینی اقدام نہیں کرے گی جس سے سسٹم کو لپیٹا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ فواد چودھری کی بات پر کیا تبصرہ کروں؟ کوئی سینئر پارلیمنٹیرین ایسی بات کرتا تو کچھ کہتا، میں نہیں سمجھتا تحریک انصاف کے لوگ ایسا کام کریں گے۔

مزید : صفحہ اول