سینئر ڈاکٹر ز کا نجی پریکٹس کیخلاف قانون منطور ہونے پر احتجا ج کا اعلان ، ڈاکٹر تنظیموں کے رابطے شروع

سینئر ڈاکٹر ز کا نجی پریکٹس کیخلاف قانون منطور ہونے پر احتجا ج کا اعلان ، ...

لاہور(جاوید اقبال)ڈاکٹروں کی تنظیموں نے پنجاب میں سینئر ڈاکٹرز کی نجی پریکٹس پر پابندی عائد کرنے کیلئے محکمہ صحت کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ حکومت سرکاری ڈاکٹرز کی نجی پریکٹس پر پابندی کا قانون بنانے سے گریز کرے وگرنہ اس فیصلے کیخلاف صوبہبھر میں احتجاجی تحریک چلائی جائے گی،ذرائع کے مطابق اس ضمن میں ڈاکٹرز تنظیموں نے آپس میں رابطے شروع کردئیے ہیں۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ڈاکٹر حامد بٹ نے اس حوالے سے بتایا کہ حکومت پنجاب اور خصوصا صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد ڈاکٹرز کو سڑکوں پر آنے پر مجبور مت کرے ۔انہوں نے کہا کہ سینئر ڈاکٹرز محکمہ صحت کے24 گھنٹے کے ملازم نہیں ہیں لہٰذاینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سمجھتی ہے کہ حکومت کا یہ اقدام ڈاکٹروں کی آزادی سلب کرنے کے مترادف ہوگا۔انہوں نے کہا کہ وزیر صحت کہتی ہیں کہ آغاز سے قبل پنجاب اسمبلی میں پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنل کا بل منظور کروایا جائے گا اور بعد میں فیصلے پر عملدرآمد کا آغاز پانچ میڈیکل یونیورسٹیوں سے کیا جائے گا۔ڈاکٹر حامد نے کہا کہ حکومت کے ڈاکٹر دشمن اقدام کے مثبت نتائج نہیں ہوں گے اس لئے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن حکومت کے متوقع اقدام کو مسترد کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے سینئر ڈاکٹروں کی نجی پریکٹس پر پابندے لگانے کیلئے کسی بھی متوقع اقدام بارے پاکستا ن میڈیکل ایسوسی ایشن اورینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سمیت سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا گیا نہ ہی مشاورت کی گئی لہٰذا ہم کسی صورت بھی اس قانون کو لاگو نہیں ہونے دیں گے جبکہ حکومت کے کسی بھی ایسے اقدام کی صورت میں نہ صرف ہڑتال بلکہ سڑکوں پر بھی احتجاج کرینگے۔ڈاکٹر حامد نے مزید کہا کہ حکومت ڈاکٹروں میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ اور درپیش مسائل حل کرے ۔

ڈاکٹراعلان

مزید : صفحہ اول