فلیگ شپ ریفرنس ، نواز شریف کو بیان کیلئے سوالنامہ فرقاہم کرنے کی استدعا پر نیب کا اعتراض

فلیگ شپ ریفرنس ، نواز شریف کو بیان کیلئے سوالنامہ فرقاہم کرنے کی استدعا پر ...

اسلام آباد(آئی این پی ) احتساب عدالت میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کیخلاف فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کے بیان کیلئے ان کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت سے سوالنامہ فراہم کرنے کی استدعا کر تے ہوئے کہاہے کہ سوالنامہ فراہم کردیں تو اگلے دن جواب جمع کروا دیں گے،نیب پراسیکیوٹر نے ملزم کو سوالنامہ فراہم کیے جانے پر اعتراض ٹھادیا۔ احتساب عدالت میں گزشتہ روز نواز شریف کے خلاف فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت جج محمد ارشد ملک نے کی۔سابق وزیر اعظم احتساب عدالت میں پیش ہوئے جبکہ فلیگ شپ ریفرنس کے تفتیشی افسر کامران بھی عدالت میں موجود تھے۔عدالت میں سماعت کے دوران واجد ضیا نے کہا کہ نواز شریف نے بتایا وہ 2001ء سے 2008ء تک پاکستان میں نہیں تھے۔ جے آئی ٹی کے سربراہ اور استغاثہ کے گواہ واجد ضیا نے بتایا کہ نواز شریف نے 2001ء سے 2008ء کے دوران انکم ٹیکس نہیں دیا۔استغاثہ کے گواہ نے کہا کہ حسن نواز نے کمپنیوں کے ماڈل سے متعلق وضاحت دی تھی، حسن نواز نے بتایا ماڈل میں ہر کمپنی ایک مقصد کے تحت قائم کی جاتی ہے۔واجد ضیا نے بتایا کہ ماڈل میں بنائی گئی کمپنیوں سے ٹیکس کی مد میں بچت ہوتی ہے، ماڈل کے تحت خریدار جائیداد خریدنے کے بجائے وہ ملکیتی کمپنی خرید لیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کمپنی خریدنے سے ساری جائیداد کی الگ الگ اسٹیمپ ڈیوٹی نہیں ادا کرنی پڑتی، حسن نواز نے کہا کہ انہوں نے کاروبارشروع کیا تو کئی بینک اکا ؤ نٹ کھولے۔واجد ضیا نے مزید کہا کہ حسن نواز نے بتایا وہ جس بینک سے قرض طلب کرتے تو ذاتی اکانٹ کھولنے کا کہا جاتا۔عدالت میں نواز شریف کے بیان کیلئے ان کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت سے سوالنامہ فراہم کرنے کی استدعا کردی۔ خواجہ حارث نے کہا کہ سوالنامہ فراہم کردیں تو اگلے دن جواب جمع کروا دیں گے۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزم کو سوالنامہ فراہم کیے جانے پر ہمارا اعتراض ہے جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ پراسیکیوشن کو سوالنامہ فراہم کیا گیا ہے تو ہمیں بھی ملنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا پراسیکیوشن کو سوالنامہ فراہم کیا گیا ۔

فلیگ شپ ریفرنس

مزید : کراچی صفحہ اول