پارٹی میں چند افراد کی آمریت ہے ، احتساب ہونا چاہیے : فاروق ستار

پارٹی میں چند افراد کی آمریت ہے ، احتساب ہونا چاہیے : فاروق ستار

کراچی(اسٹاف رپورٹر)ایم کیوایم پاکستان کے سینئررہنماڈاکٹرفاروق ستار نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم میں میں چند افراد کی آمریت ہے، پارٹی میں احتساب کا نظام ہونا چاہئے، پارٹی رہنما کارکنوں کے سامنے اثاثے ظاہر کریں۔ میرے ساتھ جو بھی سیلفی بنائے گا اس کو 10 درخت لگانے ہوں گے۔ پیرکوکراچی میں ایم کیو ایم رہنماؤں کے خلاف لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے کے متعلق مقدمات کی سماعت ہوئی،جس میں ڈاکٹر فاروق ستار جوڈیشل مجسٹریٹ اینڈ سول جج ایسٹ کی عدالت میں پیش ہوئے۔دوران سماعت عدالت نے فاروق ستار سے استفسار کیا کہ ڈاکٹر صاحب آپ ہمیشہ تاخیر سے آتے ہیں، جس پر انہوں نے جواب دیا کہ میرا کیس 11 بجے لگا ہوا تھا، اس لئے اپنے وقت پر آیا ہوں۔بعد ازاں عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے فاروق ستار نے ملک میں شجرکاری مہم چلانے کے لئے انوکھا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میرے ساتھ جو بھی سیلفی بنائے گا اس کو 10 درخت لگانے ہوں گے کیوں کہ ہمیں زمین اپنی اور زمین کی بہتری کے لئے زیادہ سے زیادہ درخت لگانے چاہیے، سٹی کورٹ میں موجود شہری بھی پیچھے نہ رہے اور سیلفیاں بنانا شروع کردیں۔صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ موسم کے ساتھ ساتھ سیاست دانوں کے رویے کیوں تبدیل ہوتے ہیں جس پر فاروق ستار نے کہا کہ سیاست دان موسم خود بناتے ہے کبھی گرم تو کبھی سرد اور سیاست دانوں کا رویہ بھی بالکل اسٹاک ایکسچینج کی طرح ہوتا ہے کبھی اوپر تو کبھی نیچے۔انہوں نے کہا کہ متحدہ میں چند افراد کی آمریت ہے، پارٹی میں احتساب کا نظام ہونا چاہئے، پارٹی رہنما کارکنوں کے سامنے اثاثے ظاہر کریں۔میئر کراچی کو 9 ارب روپے کا حساب دینا پڑے گا، تحقیقات کر رہا تھا اسی لئے راستے سے ہٹا دیا گیا، پی ایس پی میں جانے والے واپس آئیں گے۔ انہوں نے کہا میرے خلاف دو عدالتوں میں مقدمات درج ہے، ایک مقدمے کا تو ریکارڈ ہی نہیں مل رہا، وزیراعظم نے کراچی کیلیے کوئی بات نہیں کی۔فاروق ستار نے کہا کہ چین کے سفیر سے کراچی کے منصوبے پر بات چل رہی ہیں، ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے جاگیرداروں کو حساب دینا ہوگا، چند لوگ ایم کیو ایم پر قبضہ کر کے بیٹھے ہیں، اگر میں رابطہ کمیٹی میں رہتا تو اراکین کو مجھ سے خوف رہتا۔

مزید : کراچی صفحہ اول