صوبائی حکومت کا 100روزہ پلان آئندہ پانچ سالوں کیلئے حکومتی ترجیحات کا آئینہ دار ہو گا : محمود خان

صوبائی حکومت کا 100روزہ پلان آئندہ پانچ سالوں کیلئے حکومتی ترجیحات کا آئینہ ...

پشاور( سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے صوبائی محکموں کے سو روزہ پلان پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کا سو روزہ پلان آئندہ پانچ سالوں کیلئے حکومتی ترجیحات کا آئینہ دار ہو گا ، پلان کے تحت عوامی فلاح کے منصوبوں پر کام ہو رہا ہے۔اُنہوں نے محکموں کے اعلیٰ انتظامی حکام کو ہدایت کی کہ وہ اپنے متعلقہ شعبوں میں سو روزہ پلان کے تحت اہداف کے بروقت حصول کیلئے اپنی تمام ترتوانائیاں صرف کریں ۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے آج سول سیکرٹریٹ پشاور میں سو روزہ پلان کے حوالے سے کابینہ کے خصوصی اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔ اجلاس میں وزیر اعظم کے مشیر برائے اسٹیبلشمنٹ ارباب شہزاد ، سینئر صوبائی وزیر عاطف خان، صوبائی وزیر بلدیات شہرام ترکئی ، وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا ، وزیر اطلاعات شوکت علی یوسفزئی، وزیر صحت ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان، چیف سیکرٹری نوید کامران بلوچ ، آئی جی پی صلاح الدین محسود اور سابقہ فاٹا کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کے علاوہ صوبائی سیکرٹریز نے شرکت کی۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر کہا کہ صوبائی حکومت سو روزہ پلان پر مصروف عمل ہے اور اُمید ظاہر کی کہ اس پلان کے نتیجے میں تمام شعبوں میں انقلابی اصلاحات کی جارہی ہیں جو عوام کی فلاح و بہبود پر منتج ہوں گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سو روزہ پلان امسال دسمبر تک مکمل ہوجائیگا انہوں نے کہا کہ مذکورہ پلان آئندہ پانچ سال کے لیئے حکومتی ترجیحات کا آئینہ دار ہوگا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سو روزہ پلان کے حوالے سے صوبائی اور مرکزی حکومت ایک پیج پرہیں ۔اُنہوں نے تمام انتظامی سیکرٹریز کو ہدایت دی کہ وہ اپنے متعلقہ شعبوں میں اہداف کے بروقت حصول کے لیئے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کریں۔ محمود خان نے سو روزہ پلان پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لئے آئندہ 7سے10روز میں اجلاس بلانے کا عندیہ دیا اور محکموں کو بھی ہدایت کی کہ وہ پلان پر پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے ریگولر اجلاس کا انعقاد کریں ۔ پلان ہر حوالے سے مکمل اور قابل عمل ہونے چاہئیں ۔ وزیراعظم کے مشیر ارباب شہزاد نے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی بہترین کارکردگی کی بدولت عوام نے پی ٹی آئی پر دوبارہ اعتماد کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ سو روزہ پلان پاکستان کی تقدیر بدل دے گا۔ اجلاس کو سو روزہ پلان کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ای گورننس جیسے اقدامات سو روزہ پلان کو مزید مستحکم بنائیں گے جس کے نتیجے میں عوام دوست پالیسیاں بنائی جا ئیں گی۔ سو روزہ پلان کی کامیابی کیساتھ ساتھ حکومت بی آرٹی کی بروقت تکمیل کے لیئے بھی کوشاں ہے اور آئندہ سال مارچ تک عوام اس کے ثمرات سے مستفید ہوں گے۔ سو روزہ پلان میں شامل کئی ایک اہداف حاصل کئے جا چکے ہیں جن کا بہت جلد افتتاح ہوگا۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ سو روزہ پلان کے حوالے سے ایک جامع رپورٹ تیار کی جائیگی جو آئندہ کی ترجیحات کو عملی جامہ پہنانے کیلئے مشعل راہ ثابت ہوگی۔اجلاس میں قبائلی اضلاع (سابق فاٹا) کی ترقی کے پلان پر خصوصی تبادلہ خیال کیا گیا قبائلی عوام کو فوری ریلیف دینے اور صوبائی محکموں کی نئے اضلاع تک توسیع کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے اور اس سلسلے میں متعلقہ وفاقی فورمز پر سنجیدہ کوششیں یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

پشاور( سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے محکمہ صحت کو ریفرل سسٹم کے آڈٹ کی ہدایت کرد ی ہے ۔ مریضوں کو غیر ضروری طور پر پشاور منتقل کرنے کی بجائے مقامی ہسپتالوں میں علاج کیا جائے ۔ اس اقدام سے نا صرف مریضوں کو درپیش مشکلات کا ازالہہوگا بلکہ بڑے ہسپتالوں پر مریضوں کا بوجھ بھی کم ہو گا۔ یہ ہدایات اُنہوں نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کے اچانک دورہ کے دوران متعلقہ حکام کو جاری کیں ۔ وزیراطلاعات شوکت یوسفزئی اورایم پی اے میاں جمشید الدین کاکا خیل بھی وزیراعلیٰ کے ہمراہ تھے ۔وزیر اعلیٰ نے آج لیڈی ریڈنگ ہسپتال کا اچانک دورہ کیاجہاں اُنہوں نے او پی ڈی اور شعبہ حادثات کے مختلف وارڈز کا معائنہ کیا اور مریضوں سے علاج معالجے کی سہولیات سے متعلق دریافت کیا اُنہوں نے لیبارٹری کا بھی معائنہ کیا ۔ وزیراعلیٰ نے مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا جائزہ لیا اور انتظامیہ کو ہدایت کی کہ مریضوں کی شکایات کا فوری ازالہ ہونا چاہیئے ۔ بعض سہولیات کی فراہمی میں سست روی کے حوالے مریضوں کی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے ہسپتال کے انتظامی حکام اور طبی عملے سے شکایات کی بابت تفصیل طلب کی ۔ وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ چونکہ نوشہرہ، چارسدہ ، مردان ، صوابی اور دیگر ملحقہ اضلاع سے بھی مریضوں کو پشاور بھیجا جا تا ہے اور اُن اضلاع کے مقامی ہسپتالوں میں سہولیات کی مناسب عدم فراہمی کی وجہ سے لوگ تدریسی ہسپتالوں کو ترجیح دیتے ہیں جو ان ہسپتالوں پر غیر معمولی رش کا باعث بنتا ہے جس کی وجہ سے مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، جس پر وزیراعلیٰ نے محکمہ صحت کوریفرل سسٹم کے آڈٹ کی ہدایت کی جو عوام کو طبی سہولیات اُن کو دہلیز پر فراہم کرنے کیلئے صوبائی حکومت کا ایک اور بڑا اقدام ہے ۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ وزیر صحت ریفرل سسٹم پر نظر رکھیں اور غیر ضروری ریفرل کی حوصلہ شکنی کریں ۔ اُنہوں نے واضح کیا کہ غیر ضروری ریفرل کی وجہ سے نہ صرف غریب مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ لیڈی ریڈنگ جیسے بڑے ہسپتالوں پر مریضوں کابوجھ بھی زیادہ ہوتا ہے جس سے طبی خدمات کی فراہمی کا مجموعی عمل متاثر ہوتا ہے ۔ اسلئے یہ ضروری ہے کہ ڈاکٹرز مریضوں کو غیر ضروری طور پر بڑے ہسپتالوں کو منتقل کرنے کی بجائے مقامی ہسپتال میں ہی علاج کریں ۔ صوبائی حکومت مقامی ہسپتالوں میں علاج معالجے کی بہتر سہولیات کیلئے خطیر وسائل خرچ کر رہی ہے جس کے نتائج بھی برآمد ہونے چاہئیں۔اُنہوں نے کہاکہ ٹرشری ہسپتال سپیشلائزاڈ سہولیات فراہم کرتے ہیں ۔ اسلئے مریضوں کو ریفر کرتے وقت دیکھا جائے کہ ضروری ہے کہ نہیں۔ اُنہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت اضلاع کی سطح پر پرائمری اور سیکنڈری ہیلتھ کیئر اداروں کی مضبوطی کیلئے کام کر رہی ہے ۔ تاکہ صحت کے چھوٹے مسائل مقامی سطح پر حل ہو جائیں ۔ مقامی سطح پر ہیلتھ کیئر سسٹم کا سٹریم لائن ہونا ناگزیر ہے ۔

پشاور( سٹاف رپورٹر)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان سے ڈی ایف آئی ڈی پاکستان کی سربراہ جوانا ریڈ کی سربراہی میں وفدنے وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں ملاقات کی ،ملاقات میں صوبائی حکومت کی اصلاحات،سو روزہ پلان سمیت دو طرفہ تعاون ، باہمی دلچسپی کے دیگر امور اور خصوصی طور پر قبائلی اضلاع کی تعمیر و ترقی پر تفصیلی تبادلہء خیال کیا گیا، صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا،سیکرٹری منصوبہ بندی و ترقیات شہاب علی شاہ،وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری محمد اسرار خان،سٹریٹیجک سپورٹ یونٹ کے سربراہ صاحبزادہ سعید اور دیگر متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔وزیر اعلیٰ نے صوبائی حکومت کے اصلاحاتی عمل میں ترقیاتی شراکت داروں کے کردار کو سراہاتے ہوئے ڈی ایف آئی ڈی کے تعاون کا شکریہ ادا کیا،انہوں نے کہا کہ سو روزہ پلان پر عملدرآمد کے سلسلے میں تعلیم ، صحت، امن و امان اور دیگر اہم شعبوں میں ڈی ایف آئی ڈی کے تعاون کو خوش آمدید کہیں گے تاہم قبائلی اضلاع سابق فاٹا کی تعمیر و ترقی کیلئے پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے خصوصی توجہ اور تعاون کی ضرورت ہے ، صوبائی حکومت کے سو روزہ پلان میں بھی قبائلی اضلاع پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت کو اپنے ترقیاتی و اصلاحاتی پلان پر عملدرآمد پر کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہو گا ، صوبے میں سابق صوبائی حکومت نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے یہی وجہ ہے کہ اس صوبے کی تاریخ میں پہلی بار عوام نے پی ٹی آئی کو حکومت کرنے کا دوبارہ موقع دیا ہے ہم عوامی توقعات کے مطابق کام کررہے ہیں سو روزہ منصوبہ بندی کے تحت ترجیحات کا تعین بھی کیا جا رہا ہے ، انہوں نے واضح کیا کہ قبائلی اضلاع کے انضمام کے سلسلے میں بھی متعدد اقدامات کئے جا چکے ہیں اور متعدد اقدامات زیر غور ہیں، قبائلی اضلاع کے صوبے میں مکمل انضمام میں وقت ضرور لگے گا تاہم ہم اس سلسلے میں کم مدتی،وسط مدتی اور طویل المدتی منصوبہ بندی کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا طریق کار بدستور موجود ہے تاہم اس سلسلے میں نئی ضروریات کے تحت ترجیحات کا از سر نو تعین بھی کیا جا سکتا ہے ۔اُنہوں نے صوبے میں بیرونی سرمایہ کاروں اور غیر سرکاری تنظیموں کو این او سی میں درپیش مشکلات کے ازالے کیلئے حکومتی کاوشوں سے آگاہ کیا اور کہاکہ یہ مسئلہ متعلقہ وفاقی حکام کے ساتھ بھی اُٹھایا جا چکا ہے ۔ ان کی حکومت تیزرفتار سرمایہ کاری کیلئے اقدامات کر رہی ہے ۔ اس موقع پر ڈی ایف آئی ڈی کی سربراہ نے صوبائی حکومت کی اصلاحاتی اقدامات کو سراہا اور100 روزہ پلان میں خصوصی دلچسپی کا اظہار کیا اور اپنے ادارے کی طرف سے قابل عمل پلان کی تشکیل میں تعاون کی پیشکش کی ۔ اُنہوں نے کہاکہ بلاشبہ یہ موجودہ حکومت کا منفرد اقدام ہے جس کے اچھے نتائج برآمد ہوں گے ۔

مزید : کراچی صفحہ اول