انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 10

انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 10
انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 10

  

ایشیائی ممالک جغرافیائی طور پر ایک ایسے وسیع و عریض میدانی علاقے پر واقع ہیں کہ انکی ایک دوسرے سے ہزاروں کلو میٹر ز طویل زمینی سرحدیں ملتی ہیں ۔ بعض ممالک خصوصاً20ویں صدی میں بر طانوی سامراج سے نجا ت حاصل کرنے والو ں کی چار یا پانچ ممالک سے سر حدیں ملتی ہیں ۔ سرحدی علاقو ں میں اگر پہاڑ یا جنگل کا علاقہ شامل ہو تو پھر انسانی سمگلنگ انتہائی آسان ہوجاتی ہے ۔ لیکن اگر سمگل شدہ افراد کے میزبان ملک کا قانون سخت اور حکام دیا نتدار ہو ں تو اس جرم پر کسی حد تک قابو پایاجا سکتاہے۔ اس کے علاوہ ملک کے اندر مقامی شہریوں اور غیر مکی باشندو ں کی تعداد اور ان کے تمام کوائف کا ریکار ڈ مو جو د ہو تو پھر بھی اس جرم کی روک تھام میں آسانی پیدا ہو سکتی ہے۔

تھائی لینڈایک ایسا ملک ہے جس کی معیشت میں گذشتہ عشرے سے بہتری آئی ہے۔ اس کی ترقی اور خوشحالی سے متاثر ہو کر کمبوڈیا ، میا نمار اور لاؤس کے باشندوں کی ایک بڑی تعداد نے تھائی لینڈمیں ڈیرے ڈال رکھے ہیں ۔ تھائی لینڈ کی وزارت داخلہ نے 2004 میں غیر ملکی ورکرز کی رجسٹریشن شرو ع کی تو معلوم ہواکہ ان کے ملک میں2لاکھ 80 ہزار غیر ملکی ورکرز ہیں جن کی 90 فیصد تعداد کا تعلق مذکورہ بالا تین ممالک سے تھا ۔ ان میں 93 ہزار 15 سال سے کم عمر بچے بھی شامل تھے ۔ 12 لاکھ میں سے 12 فیصد سر حد عبور کرکے تھائی لینڈ میں داخل ہوئے تھے ۔لاؤس سے آنے والوں میں 35 فیصد کو جسم فروشی ،32 فیصد کو گھریلوملازمتوں،17 فیصد کو کارخانوں میں کام کرنے ، 12فیصد کو زرعی شعبے اور 4فیصد کو ماہی گیر ی میں کام کرنے کے لیے سمگل کیا گیا تھا ۔ ان کی مقامی آبادی میں پہاڑی قبائل کی مخصوص نسلی اقلیتں پائی جاتی ہیں جن کی تعداد تقریباً5لاکھ ہے۔ انکے پاس تھائی شہریت نہیں ہے ۔اس کے علاوہ بیرون ملک سے ’’بچے ورکرز ‘‘کی ایک بڑی تعداد کو لایا گیاجو 12گھنٹے تک کام کرتے لیکن ان کو کم ازکم اُجرت سے بھی کم معاوضہ دیا جا تا تھا ۔ اسی طرح سیکس انڈسٹری میں کام کرنے والے لڑکے اور لڑکیوں کی 25فیصد تعداد 18سال سے کم عمر کی ہے جن میں 12سال کے بچے بھی شامل ہیں۔ تھائی لینڈ میں جبری مشقت بھی اپنے عروج کو پہنچ چکی ہے۔ ماہی گیر ی کے شعبے اور گھرو ں میں کام کرنے والو ں کو سال بھرمیں کوئی چھٹی نہیں ملتی اور نہ ہی ان کو کام کا معقول معاوضہ دیا جاتا ہے ۔

انسانی سمگلنگ ۔۔۔ خوفناک حقائق ... قسط نمبر 09پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

2007میں تھائی لینڈ میں ایسی فیکٹریو ں کی نشاندہی بھی کی گئی جہا ں ورکرز کو قید کرکے رکھا جاتا تھا اور ان سے جبری مشقت لی جاتی تھی ۔ یہ سب ور کرز سمگل کرکے دیگر ممالک سے لائے گئے تھے ۔ اب ان غیر ملکی ورکرز کو تھائی حکومت نے ورک پرمٹ جاری کردےئے ہیں ۔ تھائی لینڈ سے آسٹریلیا ، جنوبی افریقہ ، یورپ ، شمالی امریکہ اور ایشیائی ممالک کو عورتیں اور لڑکیاں سمگل کی جاتی ہیں جنہیں جنسی مقاصد کیلئے استعمال کیا جاتا ہے ۔

ایشیاء میں ایک ملک ایسا بھی ہے جس کی حالت قابل رحم حد تک افسوس نا ک ہو چکی ہے ،جو انسانی سمگلنگ کو نظر اند ازکر دیتی ہے۔ وہ ملک کمبوڈیا ہے جہا ں مقامی اور بین الاقوامی انسانی سمگلنگ سے ایڈز ہر سو پھیل چکی ہے۔ تھائی لینڈ ، کمبوڈیا ، اور ویتنام میں انسانوں کو سمگل کرکے بھی لاتا جاتا ہے اور کچھ اپنی یا والدین کی مر ضی سے آتے ہیں ۔ کمبوڈ یا کے باشندوں کی ایک بڑی تعداد تھائی لینڈ میں مختلف شعبوں میں خدمات سر انجام دیتی ہے ۔ ایک کمبوڈ ین تنظیم کی رپورٹ کے مطابق تھائی لینڈ سے کمبوڈیا واپس جانے والوں میں93فیصد ایسے ہیں جن کی اپنی زمین اور مکانات تھے اور ان پر کو ئی قرض بھی نہ تھا ۔ ان میں سے 50 فیصد لڑکیوں کو ان کی ماؤ ں یا رشتہ دار خواتین نے سمگل ہونے میں مدد کی تھی۔ کمبوڈیا، ویتنام اور تھائی لینڈ سے دیگر ممالک جانے والوں کی عارضی قیام گاہ اور راہداری بھی ہے ۔ چین اور ویتنام سے سمگل کیے جانے والے افراد کی منزل بھی کمبوڈ یا ہے۔ یادرہے کہ ہر سال ویتنام سے 2ہزار سے زائد لڑکیا ں کمبوڈ یا سمگل کی جاتی ہیں ۔ ان کی ایک تہا ئی تعداد 14سال سے کم عمر لڑکیو ں پر مشتمل ہو تی ہے۔ دراصل دیہی علاقوں میں روزگار کم اور باہر کے حالات سے نا واقف ہونے کی وجہ سے لوگ شہری علاقو ں کا رُخ کرتے ہیں جہا ں لاعلمی سے سمگلر ز کے ہاتھ لگ جاتے ہیں ۔ کمبوڈ یا سے سمگلنگ کے بھی وہی روایتی طریقے اپنائے جاتے ہیں جو پوری دنیا میں اس وقت رائج ہیں ۔ دوستوں، رشتہ داروں اور ہمسایو ں کو لالچ دیکر جوان لڑکیوں کو ورغلایا جاتاہے۔ والدین کو بتایا جاتا ہے کہ ان کی بیٹی اچھی ملازمت یا تعلیم حاصل کرے گی ۔ لیکن ان کا مقدر بد نصیبی کی زندگی گزارنا ہوتا ہے۔ مردوں اور لڑکو ں کو زراعت، تعمیر اور ماہی گیر ی کے شعبوں میں جبری مشقت کرنا پڑ تی ہے جبکہ عورتوں اور لڑکیوں کو جسم فروشی کے اڈوں پر اپنی روزی تلاش کرنا پڑتی ہے ۔ بچوں کو بھکاری بنادیا جاتایا ان سے پھول بیچنے اور بس سٹاپوں پر گاڑیا ں صاف کرنے کے کام لیا جاتاہے۔

کمبوڈیا کی آبادی کاایک بڑا حصہ دیہاتوں میں رہتا ہے ۔ دیہاتوں سے شہری علاقوں میں انسانی سمگلنگ ہوتی ہے جس میں سرکاری محکموں کے اہل کار ملوث ہوتے ہیں ۔ کمبوڈیا جنسی استحصال کا گڑھ ہے ۔ یہاں پر آدھی سے زیادہ آبادی ایڈز جیسی موذی مرض میں مبتلا ہو چکی ہے۔ یو این او کے مطابق کمبوڈیا میں انسانی سمگلنگ کے جرم کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں ہے۔ اس کی وجوہات میں غربت، بے روزگاری ، سیاحت میں اضافہ، سماجی و معا شی ناہمواری ، آسان اور محفوظ ایمیگریشن اور ناخواندگی شامل ہیں۔ یہ تقریباً سبھی ایشیا ئی ممالک میں پائے جانے والے مشرکہ عوامل ہیں جو مقامی لوگوں کو ترک وطن کرنے پر مجبور کرتے ہیں ۔ آئی ، ایل ، او کا موقف ہے کہ سابق حکمران ’’خمرزاوج‘‘کے معاشی اقدامات کے اثرات ابھی تک کمبوڈین معاشرے میں محسوس کیے جاسکتے ہیں ۔ اس نے عوام کو نفسیاتی مریض بنا رکھاتھا ۔

ایشیائی ممالک انسانی سمگلنگ کے ساتھ ساتھ منشیا ت کے استعمال او ر خریدو فروخت کا گڑھ بھی ہیں ۔ دونو ں جرائم ایک دوسرے کے متوازی رواں دواں ہیں ۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ دونوں کا ایک دوسرے کے ساتھ چولی د امن کا ساتھ ہے ۔ جن معاشروں میں منشیات کی پیداوار اور اس کا استعمال زیادہ ہوگا وہا ں انسانو ں کا غیر قانونی طور پر سفر کرنا اور دوسرے ممالک میں قیام کرناایک لازمی امرہوتا ہے ۔ منشیات فروش اپنے’’کاروبا ر ‘‘کو وسعت دینے کے لیے مختلف ممالک میں اپنے نیٹ ورکس سے وابستہ افراد میں خفیہ طور پر اضافہ کرتے ہیں ۔وہ ایسے افراد کا انتخاب کرتے ہیں جو اپنے ملک میں سما جی طور پر با اثر ہوتے ہیں اور حکومتی مشینری پر دباؤ ڈال کراپنا کام نکالنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ ان مقامی افراد کی اکثریت جرائم پیشہ افرادکی پشت پنا ہی کرنے والوں کی ہوتی ہے ۔ خاص طو رپر پولیس اور ایمگرشن کے عملے سے ان کو بنا کر رکھنی پڑتی ہے ۔ دونوں کے باہمی تعلق میں رشوت اور اعلیٰ احکام سے مضبوط رابطے اہم کردار اداکرتے ہیں ۔

جرائم پیشہ افراد کی ایک بڑی تعداد ان سماجی ’’شرفاً‘‘ کے اردگرد منڈلاتی رہتی ہے جو معاشرے میں انکے’’مال ‘‘کی ترسیل کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ ان ’’معززین ‘‘کی آمدن اربوں ڈالر پر مشتمل ہوتی ہے ۔ یہ پانی کی طرح پیسے کو بہاتے ہیں ۔ یہی حال انسانی سمگلنگ کا ہے ۔ اس نیٹ ورک سے و ابستہ افراد عالیشان بنگلوں یا مہنگے ہوٹلوں میں قیام کرتے ہیں ۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا کہ دنیا میں منشیا ت کے کاروبا ر اور انسانی سمگلنگ سے حاصل ہونے والی آمدن تقریباًبرابر ہے۔ ایشیا ئی ممالک کی اکثریت میں یہ دونوں جرائم ساتھ ساتھ چل رہے ہیں ۔ ویتنام میں منشیات کے عادی افراد بھی کثرت سے پائے جاتے ہیں اور عورتوں اور بچوں کی ایک بڑی تعداد ہر سال سیکس انڈسٹری میں داخل ہورہی ہے۔ وتینام میں 2010 میں ایک سرکاری سروے کرایا گیا۔ اس سروے کے مطابق شہروں اور قصبات میں غیر ملکی منشیات کے عادی افراد کے ساتھ33 ہزار مقامی باشندے بھی شامل تھے ۔ یہ ملک انسانی سمگلنگ کا بھی ایک اہم ذریعہ ہے۔ یہاں سے جبری مشقت اور جنسی مقاصد کے لیے تائیوان ، ملائیشیا ، جنوبی کوریا ، یو اے ای ، چین ، جاپان ، سعودی عرب ، لیبیا ، برطانیہ ، انڈو نیشیا ، چیکو سلواکیہ ، سائپر س ، سوڈان ، وسطی ریاستوں او ر مڈل ایسٹ کو عورتوں، مردوں،بچوں او رغیر ہنر مند اور کم پڑھے لکھے افراد کو جعلی دستاویزات کے ذریعے سمگل کیا جاتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 40ممالک میں 5لاکھ سے زائد وتینامی باشندے زراعت ،کان کنی ، ماہی گیر ی اور عمارتی تعمیر کے کاموں میں لگے ہوئے ہیں ۔ صرف 2010 میں 85ہزار سے زائد ویتنامی باشندوں نے ملک چھوڑ ا ۔ان کی اکثریت ٹریول کمپنیوں کو 10 ہزار امریکی ڈالر اد اکر کے گئی ۔ ویتنا می باشندوں کو چین اور لاؤس کی سر حدپر فروخت بھی کیا جاتا ہے ۔

ویتنام کی طرف امریکہ ، یورپ ، آسٹریلیا، جاپان، چین اور دیگر خطوں کے سیا حوں کے رخ کرنے میں وہاں کی سیا حت نے اہم کردار ادا کیا جہا ں سیا حوں کو جنسی آسودگی کے لیے کم عمر لڑکیا ں فراہم کی جاتی ہیں ۔ اسے سیکس ٹور ازم کہا جاتا ہے۔ دنیا کے دیگر بے شمار ممالک کی طرح ویتنام بھی ’’پروٹو کول کنونشن 2000ء ‘‘کا رکن ملک نہیں ہے۔ لیکن حال ہی میں ویتنا می وزیراعظم نے انسانی سمگلنگ کو روکنے کے لیے 5 سالہ ایکشن پلان کا اعلان کیا ہے۔ حکومتی ادارے اس جرم کو روکنے میں نا کام ہیں ۔ افرادی قوت بر آمد کرنے والوں پر کوئی چیک نہیں رکھا جاتا ۔ نا تجربہ کارسکیورٹی اہل کارنہ تو سمگلر ز کو گرفتار کرتے ہیں اور نہ ہی سمگلنگ کے شکار افراد کو ریلیف مہیا کرتے ہیں ۔ ایسے افراد کی دیکھ بھا ل کے لیے پورے ملک میں عورتوں کے ما تحت تین ادارے کام کررہے ہیں ۔ اگر چہ ویتنام میں کمبوڈ یا کی طرح بین المذاہب شادیوں کی قانونی حیثیت کو مسائل کا سامنا نہیں اور نہ ہی عورتوں کی تعداد مردوں کے مقابلے میں کم ہے ۔لیکن ایسا محسو س ہوتا ہے کہ انسانی سمگلنگ کے جرم میں دونوں ممالک ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کو شش میں لگے ہوئے ہیں ۔

جیساکہ براعظم ایشیا ء کے جغرافیا ئی محلِ وقوع میں بیان کیاگیا ہے کہ بیشتر ممالک میدانی علاقو ں پر مشتمل ہیں اور ان کی زمینی سر حدیں بھی ایک سے زائد ممالک سے ملتی ہیں۔ اس صور تحال میں انسانوں کا سر حد عبو ر کرنا چنداں مشکل نہیں ہوتا ۔ مثلاً لاؤ باشندو ں کی اکثریت ایجنٹ یا سمگلرز کی مدد کے بغیر ہی سر حد عبور کرکے تھائی لینڈمیں سیکس ورکر کے طو رپر کام کرنے کے لیے داخل ہو جاتی ہے ۔ لاؤ بچے بھی اس راستے سمگل کیے جاتے ہیں ۔ لاؤ حکام کا کہنا ہے کہ آج بھی 1 لاکھ 80ہزار لاؤ باشندے دستاویز ات اور مطلوبہ کاغذات کے بغیر تھائی لینڈمیں کام کررہے ہیں ۔’’ لاوس ورلڈ ویژن ‘‘کے مطابق ، ان کے ملک کے 45 فیصد والدین کو یہ معلوم نہیں کہ ان کے بچے کہاں رہتے ہیں اور کس حال میں ہیں؟۔ تھائی لینڈ سے لاؤ س میں آنے والوں نے اپنے خوفناک تجربات سے آگاہ کرتے ہوئے بتا یا کہ 13 فیصد کے ساتھ جنسی زیاد تی کی گئی اور 40 فیصد کو قیدمیں رکھا گیا ۔

یا د رہے کہ میا نمار اور ویتنام کے باشندوں کو لاؤ کے ذریعے تھائی لینڈ سمگل کیاجاتا ہے۔ لاؤ میں چین اور ویتنام کی عورتوں کو لاکر جبری شادیا ں کی جاتی ہیں اوران کو بطور سیکس ورکر بروئے کار لایا جاتا ہے ۔اس کے تین سر حدی صوبوں کے 7فیصد مرد تھائی لینڈ میں روزی کمارہے ہیں ۔ اندرون ملک معاشی نا ہموار ی کے نتیجے میں شمالی علاقو ں کی ا قلیتو ں کی عورتوں کو جبراًاغوا کرکے سمگل کیا جاتا ہے ۔ لاؤ کی آبادی کا 50فیصد 20سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے ۔ اس کے نو جوانوں کی 90فیصد تعدادغیر ہنر مند ہے ۔ انسانی سمگلنگ میں لوکل گورنمنٹ کے اہل کار ملوث ہوتے ہیں اور حکومت ان کے سامنے بے بس ہے ۔ اسے امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے سر کل 2میں رکھا گیا ہے ۔

جنو ب مغربی ایشیا ئی ممالک میں طاقتور مافیازپائے جاتے ہیں جو انسانی سمگلنگ میں ملوث ہیں ۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ ان مافیا ز کے زیر اثر افراد مختلف ممالک کی پار لیمنٹ کے ارکان بھی ہوتے ہیں ۔ ایسے گروہوں میں سے جاپان کا ایک بد نام زمانہ ’’یکو زہ‘‘گروپ بھی ہے۔ اس گروپ کے مظالم پوری دنیا میں مشہو ر ہیں اور یہ اب تک کئی بے گناہ انسانوں کی زندگیوں کا خاتمہ کر چکا ہے۔ اس پرکئی ایک فلمیں بھی بن چکی ہیں ۔ کہتے ہیں کہ یکو زہ گروپ کے ارکان ہزاروں میں ہیں اور وہ دنیا کے تقریباً ہر ملک میں پائے جاتے ہیں ۔ اس گروپ کے ساتھ کام کرنا جرائم کی دنیا میں اعزاز سے کم نہیں سمجھا جاتاہے۔اس کے متعلق یہ بھی مشہور ہے کہ وہ جس ملک سے اور جسے چاہیں اغوا کر لیتے ہیں ۔ اس گرو پ کا سالانہ بجٹ کئی ایشیائی ملک سے زیادہ ہو تا ہے۔ اس کا ہیڈ کوارٹر جاپان میں ہے۔جاپان جو ایشیا ء کی دوسری بڑی سیکس انڈسٹری ہے اس میں 75 فیصد جسم فروش عورتیں یکوزہ گروپ کی لائی ہوئی ہیں ۔ جاپان کے قحبہ خانو ں میں ایک لاکھ فلپائنی اور تھائی عورتیں پائی جاتی ہیں جن میں سے 50فیصد اس گروپ نے مہیا کی ہیں ۔ UNIfeM کی ایک رپورٹ کے مطابق جنوب مغربی ایشیاء سے ہر سال کم از کم 2لاکھ 50ہزار عورتیں نیوزی لینڈ،آسٹریلیا،سائپرس اور کچھ ایشیائی ممالک سے سمگل کی جاتی ہیں ۔آسٹریلیااورنیوزی لینڈ میں منشیات اور عورتیں یکو زہ جیسے بین الاقوامی گرو پ بہم پہنچاتے ہیں ۔

براعظم ایشیاء کے قحبہ خانوں میں ایشیا ئی عورتوں کی ایک بڑی تعداد پائی جاتی ہے۔ جاپان میں 10سال تک جنسی غلامی کا شکار رہنے والی 30سالہ ’’آئی ‘‘ جسے 15سال کی عمر میں تھا ئی لینڈ سے اغوا کیا گیا اپنے تا ثرات یو ں بیان کرتی ہیں ۔ ’’قحبہ خانوں میں زندگی گزارنا جہنم کی طرح تھا ۔ مجھے پہلے دن سزا کے طو رپر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ۔ زیادتی کی شدت سے میں نیم مردہ ہوگئی ۔ ‘‘ایک سال بعد اس نے منشیا ت کا استعمال شروع کردیا ۔ یکوزہ گینگ نے اسے دھمکی دی کہ اگر اس نے ان کا کہا نہ مانا تو اسے جان سے مار دیا جائے گا ۔ اسے جسم فروشی کی اجرت بھی پوری نہیں دی جاتی تھی ۔راستے اور ویزے کے اخراجات پورے کرنے کے بدلے اسے تین سال تک 4x6 کے کمرے میں بند رکھا گیا ۔ایشیائی صنعتی جمہوری ریاستوں میں جاپان سب سے بڑی سیکس انڈسٹری بن چکا ہے جہا ں2010ء میں غیر ملکی عورتوں کے ہا ں پیداہونے والے بچوں کی ایک بڑی تعداد نے جاپانی شہریت کے حصول کے لیے درخواستیں دیں ۔ قانونی جواز حاصل کرنے کے بعد اس انڈسٹری سے جی این پی کا ایک فیصد ریونیوجمع ہوتا ہے جو ملک کے دفاعی بجٹ کے برابر ہے۔ صرف ٹوکیو میں سیکس زون 0.34مربع کلو میٹر پر پھیلا ہو ا ہے جہا ں سینکڑو ں سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں ۔ ٹوکیومیں کلب ، بارز ، دذدیدہ تھیٹر ز ، فحش نگاری کے مراکز اور ٹیلی فون کلب اس صنعت کو فروغ دینے میں اہم کردار اداکرتے ہیں ۔

ترقی یا فتہ ملک ہونے کے باوجود جاپان میں انسانی سمگلنگ پر قابو پانے کے لیے حکومتی اقدامات غیر تسلی بخش ہیں ۔ اس کو سر کل 2 کے ممالک میں رکھا گیا ہے۔ جاپان میں اس جرم کی بیخ کنی کے لیے کوئی مناسب یا موثر قانو ن موجودنہیں ہے۔

2005ء میں کریمنل کو ڈ میں ترمیم کر کے انسانی خرید و فروخت کو جرم قرار دیا گیا ۔ انسانی سمگلنگ سے جرائم کو قابل سماعت بنا نے کے لیے دیگر کریمنل کو ڈ ز کی دفعات کو استعما ل کیا جاتاہے ۔ ان قوانین کے تحت اس جرم کی سزا ایک سے 10سال تک مقرر ہے ۔ ان قوانین کا نفاذ بھی حکومت کی طرف سے پوری توجہ اور طاقت کے ساتھ نہیں کیا جاتا اور نہ ہی حکومت اس سلسلے میں سنجید ہ نظر آتی ہے ۔ انسانی سمگلنگ کے شکار افراد کے تحفظ اور جبری مشقت کے استحصال زدہ افراد کی بحالی کے لیے کوئی موئثر پالیسی نہیں اپنائی جاتی ۔ جاپان میں سیاحت کے ساتھ جڑی ہوئی جنسی سرگرمیاں سب سے زیادہ بچوں کو متاثر کرتی ہیں ۔ جاپانی مر د خود بھی بچوں سے جنسی زیادتی کے دلدادہ ہیں ۔ ایشیا ئی لوگوں کا المیہ یہ ہے کہ نا خواندہ اور توہم پرست ہونے کی وجہ سے ہر اس با ت پر یقین کر لیتے ہیں جو ان کی معیشت اور عقیدے سے جڑی ہوتی ہے ۔ انسان چونکہ ایک کمزور اور تو ہم پرست مخلوق ہے اس لیے دونوں اس کی کمزوری ہیں ۔

ایشیائی ممالک جن کی معیشت بند نہیں اور وہ بیرونی تجارت سے وابستہ ہے میں ہمسایہ اور غریب ممالک سے لوگ آنا شروع ہوجاتے ہیں ۔ یا ایسے ممالک میں بھی لوگ منتقل ہونے کو ترجیح دیتے ہیں جو خوشحال ریاستوں کے ساتھ واقع ہیں ۔ ایجنٹ اور سمگلرز ان سادہ لوح افراد کو سہانے خواب دکھاتے ہیں ۔ ان کو بتایا جاتا ہے کہ فلا ں ملک کی سرحد یورپی یونین ، امریکہ یا کینڈاکے ساتھ لگتی ہے ۔ آپ کو وہاں جانے میں کوئی دقت پیش نہ آئے گی۔ ایشیائی ممالک میں لوگ جا پان اور مڈل ایسٹ کے کچھ ممالک میں جانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کے علاوہ ملائشیاء کی طرف بھی ماضی میں غیر ملکیوں کا رجحان دیکھنے میں آیا ۔

ملائشیا ء ایک ایساملک ہے جہا ں سے بہت کم تعداد میں عورتوں ، بچوں اور مردو ں کو دیگر ممالک سمگل کیا جاتا ہے ۔ ملائشین باشندوں کی جبری مشقت اور جنسی مقاصد کے لیے بہت کم تعداد سمگل کی جاتی ہے۔ ہاں البتہ دیگر ممالک کے لاکھوں افراد ملائشیا ء میں استحصال کا شکار ہیں ۔ ملائشیاء سے سنگاپور ، چین اور جاپان میں لوگوں کو سمگل کیا جاتا ہے جن کو جبری مشقت اور جنسی استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن ملائشیا ء میں انڈو نیشیا ، نیپال ، انڈیا ، تھائی لینڈ ، چین ، میا نمار ، فلپائن ، کمبوڈیا ، بنگلہ دیش ،پاکستان اور ویتنام کے 20 لاکھ افراد رجسٹر ڈ ورکر ز جبکہ 19 لاکھ غیر رجسٹرڈ پائے جاتے ہیں ۔ ان میں سے اکثر غیر ملکی اپنی مرضی سے ملائشیا میں باغبانی ، تعمیر و ترقی ٹیکسٹائیل کی فیکٹریوں او ر گھریلو ملازمتوں میں کام کرنے کے لیے جاتے ہیں ۔ لیکن ان کو بعدازا ں اپنے آجروں یا ایجنٹوں کے ہاتھوں جبری مشقت یا جبری قرضے کی ادائیگی کے لیے بلیک میل ہونا پڑتا ہے ۔ملائشیا میں انسانی سمگلنگ ایک منظم طریقے سے کاروباری حضرات اور بڑی جرائم پیشہ تنظیمیں کرتی ہیں ۔ غیر ملکی عورتوں کی ایک بڑی تعداد کو ریسٹورنٹس اور ہوٹلوں میں کام کرنے کے لیے بھرتی کیا جاتا ہے جو ’’Guest Relation officer‘‘ کے ویزے پر سفر کرتی ہیں ، لیکن ان کو بعد میں ملائشیا کی سیکس ٹریڈ جوائن کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے ۔ گھروں میں کام کرنے والوں میں ہر تیسرا فرد غیر قانونی طور پر لایا جاتا ہے۔ ان کی 90فیصد تعداد انڈونیشین ہے۔حیرانی کی بات یہ ہے کہ انڈونیشین اور ملائشین حکومتوں نے ایک ایم۔ او ۔ یو پر ستخط کررکھے ہیں جس کے مطابق ملائشیا میں انڈونیشن گھریلو ملازمین کے پاسپورٹ ضبط کر لیے جاتے ہیں ۔ اس سے ا ن ملازمین کو خطرناک صورتحال کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔ بے وطن (Statelessness) افرادکی کثرت انسانی سمگلنگ کے اہم عوامل میں سے ایک ہے۔ یہ مسئلہ ملائشیا میں ابھی تک جوں کا توں ہے۔ ملائشیا میں شہریت دراصل والدین کی طرف سے تسیلم کی جاتی ہے۔ تاہم حکومت والدین کے صیح ثبوت نہ ہونے کی بنیا د پر بہت سے بچوں کے اندراج سے انکار کردیتی ہے جو بے وطن بچوں کی تعداد میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ملائشیا میں بین المذاہب شادی کو سرکاری طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا اور نہ ہی اس شادی کے نتیجے میں پیداہونے والے بچوں کا سرکاری اداروں میں اندراج کیا جاتاہے۔50ہزار سے زائد ایسے بچے ہیں جن کے پاس پیدائش کے سرٹیفکیٹ نہیں ہیں ۔ وہ سکولوں میں تعلیم حاصل کر سکتے ہیں او رنہ ہی اپنی جائیداد بناسکتے ہیں ۔ یہ سرکاری ہسپتالوں سے علاج بھی نہیں کراسکتے ۔ ایسے بچوں کو آسانی سے سمگل کیاجاسکتاہے۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /انسانی سمگلنگ