کیا نیل پالش لگا کر نماز پڑھی جا سکتی ہے ؟ فتویٰ جاری کر دیا گیا 

کیا نیل پالش لگا کر نماز پڑھی جا سکتی ہے ؟ فتویٰ جاری کر دیا گیا 
کیا نیل پالش لگا کر نماز پڑھی جا سکتی ہے ؟ فتویٰ جاری کر دیا گیا 

  

میرٹھ (مانیٹرنگ ڈیسک) دارالعلوم دیوبند کی جانب سے جاری کیے گئے ایک تازہ ترین فتوے میں کہا گیا ہے کہ ناخنوں پر نیل پالش لگی ہونے کی صورت میں نماز نہیں ہوگی اور مسلمان خواتین کیلئے یہ ہدایت بھی جاری کی گئی ہے کہ وہ لمبے ناخن رکھنے یا ناخنوں پر نیل پالش لگانے سے احتراز کریں۔ 

اس فتوے میں کہا گیا ہے کہ ’’ نیل پالش لگائی جا سکتی ہے، لیکن کچھ شرائط کے ساتھ۔ اس میں ناپاک اجزا نہیں ہونے چاہیے اور خواتین کو چاہیے کہ نماز کی ادائیگی سے پہلے اسے اُتار لیں، بصورت دیگر ان کی نماز مکمل نہیں ہوگی۔‘‘ 

مذہبی اسکالر اسد قاضمی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’’ نماز کی ادائیگی سے قبل وضو کرنا لازمی ہے۔ چونکہ کیمیکل والی نیل پالش ناخن کو ڈھانپ لیتی ہے جس کے باعث پانی وہاں تک نہیں پہنچ سکتا جہاں اسے پہنچنا چاہیے۔ ایسی صورت میں وضو نہیں ہوتا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ نماز بھی مکمل نہیں ہوتی ۔ ہم اس فتوے کے ساتھ مکمل اتفاق کرتے ہیں۔‘‘ 

مزید : ڈیلی بائیٹس