مذاکرات کا آغاز

مذاکرات کا آغاز

  



اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کا دھرنا جاری ہے،مولانا نے ایک نجی ٹیلی ویژن کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کا ٹائم فریم نہیں دے سکتے۔ گزشتہ روز انہوں نے دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ دہرایا تھا،اور اسے کم از کم کہا تھا۔زیادہ سے زیادہ کی توقع کرتے ہوئے انہوں نے اسمبلیاں تحلیل کرنے پر زور دیا۔ان کا کہنا تھا کہ غیر منتخب لوگ اقتدار پر قابض ہیں۔ بحیثیت شہری ہم مضطرب ہیں، ہمارا اضطراب کون دور کرے گا،ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان پہلے سلیکٹڈ تھے،اب ریجکٹڈ ہیں۔عمران2014ء میں اپوزیشن میں تھے تو بھی اکیلے تھے۔ آج اقتدار میں آ کر بھی اکیلے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے لیے شرائط ہم نے رکھنی ہیں۔

جب مولانا یہ اظہارِ خیال کر رہے تھے، حکومتی وفد سے مذاکرات کی خبریں بھی گرم تھیں۔ چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی لاہور سے اُڑ کر اسلام آباد جا چکے، اور مولانا سے تبادلہئ خیال کر چکے تھے۔حکومت کی مذاکراتی کمیٹی جو وزیر دفاع پرویز خٹک کے زیر قیادت کام کر رہی ہے، سے رہبر کمیٹی کے نمائندے اکرم درانی کا رابطہ بھی قائم تھا،اور دونوں کے درمیان باقاعدہ ملاقات طے ہو گئی تھی۔ہر چند کہ مولانا اور ان کے رفقا وزیراعظم کے استعفے پر زور دے رہے ہیں، اور حکومت کی مذاکراتی کمیٹی اس نکتے پر غور کرنے کے لیے تیار نہ ہونے کی بات کر رہی ہے، اس کے باوجود دونوں ایک دوسرے سے ملنے سے انکاری نہیں ہیں۔ایک ملاقات کے بعد دوسری ملاقات بھی طے ہو گئی ہے حکومتی کمیٹی کے ارکان نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں حالات سے آگاہ کیا تھا۔چودھری پرویز الٰہی نے مولانا سے تبادلہ ئ خیال کی تفصیل بھی بیان کی تھی۔ اس ملاقات کے بعد میڈیا کو بتایا گیا کہ مذاکراتی کمیٹی مکمل طور پر بااختیار ہے، اور اپوزیشن کے وفد سے بات چیت کر سکتی ہے۔

آزادی مارچ جب اسلام آباد پہنچا تھا، تو پُرجوش ہجوم سے مولانا فضل الرحمن نے بھی پُرجوش خطاب فرمایا تھا۔عام طور پر اعتدال سے بات کرنے والے مولانا نے ڈی چوک کی طرف جانے کا اشارہ بھی دے دیا تھا۔ہجوم سے جب آگے بڑھنے کے نعرے لگ رہے تھے تو مولانا نے حوصلہ افزائی کے انداز میں کہا تھا کہ انہوں نے یہ بات سن لی ہے۔بعد میں مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کی طرف سے یہ خبریں آئیں کہ وہ ڈی چوک کی طرف بڑھنے کے لیے آمادہ نہیں ہیں۔ریاستی اداروں سے ٹکراؤ کی صورتِ حال انہیں قبول نہیں۔رہبر کمیٹی کے اجلاس کے بعد مولانا نے اپنے خطاب میں واضح کر دیا کہ ڈی چوک کی طرف مارچ نہیں کیا جائے گا۔ریڈ زون میں اودھم مچانے کی تمنائیں پالنے والے عناصر اس پر اُلجھ سے گئے لیکن یہ امر باعث ِ اطمینان تھا۔اپوزیشن اجتماعی طور پر کسی ایسے راستے پر چلنے پر تیار نہیں تھی، جس کے نتائج کو سمیٹنا بس میں نہ رہے۔

تحریک انصاف نے2014ء میں جو دھرنا دیا تھا اس میں بہت کچھ ایسا کہا اور کیا گیا تھا جس کی نہ تعریف کی جا سکتی ہے، نہ تائید۔تمام تر شورو غوغا کے باوجود، ایک سو چھبیس دِنوں تک جاری رہنے والا یہ دھرنا وزیراعظم سے استعفیٰ نہیں لے سکا تھا۔پشاور سکول کے المناک سانحے نے حالات کا رُخ بدل ڈالا اور پوری قوم گہرے رنج و غم میں ڈوب گئی تو یہ دھرنا بھی سمٹ گیا۔ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے ایک فائنل جج کی قیادت میں کمیشن البتہ قائم ضرور ہوا،اسے کوئی جتنی بڑی کامیابی قرار دینا چاہے دے سکتا ہے،لیکن اس کمیشن کی رپورٹ نے منظم دھاندلی کے الزام کی تصدیق نہیں کی تھی، حکومت کو نفسیاتی اور سیاسی طور پر کمزور کرنے کے باوجود اسے چاروں شانے چت نہ گرایا جا سکا۔

مولانا فضل الرحمن میدان میں نکلے ہیں تو عمران خان کا استعفیٰ ان کا سب سے اول مطالبہ ہے، لیکن تادم تحریر حکومت اس مطالبے پرکان دھرنے کو تیار نہیں۔اگر فریقین اپنی اپنی پوزیشن پر ڈٹے رہے تو پھر بات بڑھانا مشکل ہو جائے گا۔اگر مولانا اور ان کے حلیف دھرنے کے آغاز میں اپنے چارٹر آف ڈیمانڈ کو باقاعدہ تحریری شکل دیتے، اور اس میں احتسابی اور انتخابی امور کی اصلاح کے لیے تجاویز بھی پیش کی جاتیں، تو مذاکرات کا دائرہ وسیع ہو جاتا،اور بہت کچھ منوانا ممکن ہو سکتا تھا۔ اب بھی متحدہ اپوزیشن صورتِ حال کا غائر جائزہ لے کر ایسی تجاویز ضرور پیش کرے،جس سے سیاسی ماحول کو بہتر بنایا جا سکے۔اپوزیشن کو اپنے خلاف انتقامی کارروائیوں کی جو شکایات پیدا ہو رہی ہیں۔ان کا ازالہ کیا جا سکے۔کور کمانڈرز کے اجلاس میں جہاں آئین اور قانون کے تحت دوسرے قومی اداروں کی مدد کا عہد دہرایا گیا ہے،وہاں یہ ارادہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ مذموم مقاصد کے لیے (کسی کو) امن ختم نہیں کرنے دیں گے۔قومی کاوشوں اور افواج کی قربانیوں سے جو امن قائم کیا گیا ہے، اسے ختم نہیں ہونے دیا جائے گا۔یقین دلایا گیا ہے کہ افواجِ پاکستان ہر قسم کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔قومی معاملات پر تمام سٹیک ہولڈرز کی مسلسل ہم آہنگی دشمن قوتوں کو شکست دینے کے لیے ضروری ہے۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ پاک فوج ملکی اداروں کی مدد کے لیے آئین کے تحت فرائض ادا کرتی رہے گی۔

اس معاملے میں دو آرا نہیں ہو سکتیں کہ فوج کو سیاست میں فرقق بننے کی بجائے قانون کے تحت قائم حکومت کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے۔فوج کی غیر جانبداری یہ نہیں ہے کہ وہ اپنی دستوری ذمہ داریوں سے پہلو تہی کرے۔ جب کوئی حکومت (دستور کے تحت) قائم ہوتی ہے تو اس کی پشت پر عوام کی طاقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ایسی حکومت کو بے یارو مددگار چھوڑ دینا، یا اس کے استحکام میں کردار ادا نہ کرنا دستور کا تقاضہ نہیں ہے۔ افواجِ پاکستان کو معاشرتی نظم قائم رکھنے میں بہرحال اپنا کردار پوری یک سوئی اور مضبوطی سے ادا کرنا چاہیے۔حکومت کو جہاں اپنے دستوری فرائض ادا کرنے کا حق ہے، وہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ اپوزیشن کے حقوق کا بھی خیال رکھے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ووٹوں کا فرق چند فیصد ہی کا ہوتا ہے۔قومی اسمبلی میں ایک نشست کی اکثریت سے بھی حکومت بنائی اور چلائی جا سکتی ہے۔ لیکن جمہوریت میں اپوزیشن کو حکومت کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاتا،اپوزیشن کا تحفظ بھی ضروری ہے۔اپوزیشن سسٹم کی ایک اہم سٹیک ہولڈر ہے۔اس سے ہونے والی زیادتیوں کا تاثر ختم کرنا بھی دستور کا تقاضہ ہے توقع کی جانی چاہیے کہ کسی ایک یا دو نکتوں کی قوالی کرتے رہنے کی بجائے معاملات کا وسیع تر جائزہ لیا جائے گا۔جس طرح تاجروں اور صنعت کاروں کے تحفظ کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں،جس طرح سرکاری افسروں کو درپیش مشکلات کا جائزہ لینے کی سعی کی جا رہی ہے،اسی طرح لازم ہے کہ اپوزیشن کی شکایات کا بھی جائزہ لینے کا کوئی اداراتی انتظام کیا جائے۔انتخابی اور احتسابی قوانین پر جس قدر اتفاق رائے ہو گا،اسی قدر اطمینان کا سانس لینا ممکن ہو گا۔ جہاں حکومت کا خاتمہ کسی غیر آئینی طریقے سے نہیں ہونا چاہیے،وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ وزیراعظم اپنے آپ کو سب کا وزیراعظم سمجھیں۔وہ تحریک انصاف کی نشست پرمنتخب تو ضرور ہوئے ہیں لیکن ان کو نمائندگی پوری قوم کی کرنا ہے۔تحفظ سب کو دینا ہے،اور عزت نفس سب کی بحال رکھنی ہے۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...