آزادی مارچ اور مذہبی کارڈ

آزادی مارچ اور مذہبی کارڈ
آزادی مارچ اور مذہبی کارڈ

  



یہ بات تو واضح ہو چکی ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے ”شاندار کارکردگی“ کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے آزادی مارچ کے حوالے سے جو دعوے کئے تھے، ان میں سے بہت سے پورے کر دکھائے ہیں۔ انہوں نے پورے پاکستان سے”اپنے بندے“ لاکر اسلام آباد میں بٹھا دئیے ہیں۔ افرادی قوت کو حرکت میں لاکر انہوں نے اپنی قوت کا مظاہرہ بھی کر دیا ہے۔ جب وہ کراچی سے ”آزادی مارچ“ لے کر اسلام آباد کی جانب چلے تو پتہ چل گیا تھا کہ ان کی تیاری کیسی ہے؟ جس طرح میزائل کی مار کا پتہ اس کی ابتدائی سپیڈ سے ہوتا ہے، اسی طرح مارچ کی ابتداء اور آغاز سے ہی پتہ چل رہا تھا کہ اسلام آباد میں مولانا کا اجتماع کیسا ہوگا؟ مولانا کی سیاسی بصیرت کا پتہ اس بات سے بھی چلتا ہے کہ انہوں نے حکومت کو بڑے شاطرانہ انداز میں غچہ دے کر راہ کی رکاوٹیں پیدا نہیں ہونے دیں، ان کے سارے قافلے کسی قسم کی مزاحمت اور مداخلت کے بغیر اسلام آباد پہنچے اور وہاں خیمہ زن ہوئے۔ویسے اس حوالے سے ہمیں حکومت کو بھی داد دینا پڑے گی کہ اس نے مولانا کے آئینی اور جمہوری حق کا پوری طرح پاس کیا اور انہیں اجتماع کرنے اور حکومت کے خلاف اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی اجازت ہی نہیں دی، بلکہ کھلی چھٹی بھی دی ہے، مولانا حکومت کے خلاف اپنی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔

جہاں تک مولانا کا وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ ہے تو وہ قانونی اور آئینی طور پر درست سہی،لیکن اس کی شاید کوئی اخلاقی حیثیت نہیں ہے،کیونکہ انتخابات 2018ء کے نتیجے میں پی ٹی آئی کی حکومت پانچ سال کے لئے قائم ہوئی ہے۔ ہمارے ہاں انتخابات کا جو بھی نظام قائم ہے اور وہ جس طرح بھی چلتا ہے، اس کے ذریعے عوام نے اپنی رائے ظاہر کی ہے۔ پھر اسمبلیوں میں جوڑ توڑ کا جو بھی طریق کار ہے، جو بھی روایات ہیں، ان کے ذریعے مرکز، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومتیں پانچ سال کے لئے قائم ہوئی ہیں، اب یہ ان کا حق ہے کہ وہ اسے جیسے چاہیں چلائیں۔ انہیں پانچ سال تک کام کرنے کا مینڈیٹ حاصل ہے، پھر یہ حق بھی عوام کا ہے کہ وہ 2023ء میں اپنے ووٹ سے پی ٹی آئی کو دوبارہ منتخب کریں یا چلتا کریں۔ کسی سیاسی جماعت یا سیاستدان کو اخلاقی طور پر یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ کرے، اس لئے مولانا مارچ کا حق رکھنے کے باوجود حکومت گرانے اور وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔

ہاں! حکومت گرانے اور وزیراعظم کو چلتا کرنے کا حق پارلیمنٹ کو حاصل ہے، جس طرح پارلیمان عوام کے ووٹوں سے قائم ہوئی ہے، اسی طرح اسے چلتا کرنے کا بھی طریق کار آئین میں موجود ہے اور وہ ہے ”ووٹ آف نوکانفیڈنس“ کا طریقہ۔ اپوزیشن اگر اسمبلی میں ووٹ کے ذریعے یہ ثابت کر دے کہ حکومت کو اکثریت حاصل نہیں ہے تو حکومت ختم ہو سکتی ہے، وزیراعظم فارغ ہو سکتے ہیں۔ یہ طریق کار آئینی بھی ہے اور جمہوری بھی۔ اس طریق کار کو پارلیمان میں اراکین پارلیمان ہی استعمال کر سکتے ہیں۔ ایک اور طریقہ بھی ہے کہ حکومت کوناکوں چنے چبوا دئیے جائیں اور وہ ہے اپوزیشن کے اجتماعی استعفوں کا اعلان۔ یہ بھی جمہوری اور آئینی طریق کار ہے،جس سے حکومت کی شکست لازمی ہے،لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔

ایک اور بات جو مولانا نے ثابت کی ہے، اس کا برملا اظہار ہماری قومی سیاست کے انتہائی معتبر نام چودھری شجاعت حسین نے بھی کیا ہے کہ وہ مولانا بلا شرکتِ غیرے اپوزیشن لیڈر بن گئے ہیں۔ چودھری صاحب نے کیا خوب کہا کہ ”مولانا نے میلہ لوٹ لیا ہے“۔ذرا غور کریں، دو سکہ بند حکمران جماعتیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) مولانا کے آزادی مارچ میں شرکت پر مجبور ہوئیں، ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا چارۂ کار ہی نہیں تھا کہ وہ اس میں اپنی موجودگی لازم / یقینی بنائیں۔ بریلوی مکتب فکر کی رہنما جماعت جمعیت علمائے پاکستان کے انس نورانی بھی، جو قائد اہل سنت مولانا شاہ احمد نورانی کے صاحب زادے ہیں، مولانا کے ساتھ کندھے سے کندھا ملائے کھڑے نظر آئے۔ اہل حدیث مکتب فکر کے رہنما ابتسام الٰہی ظہیر جو قائد اہل حدیث مولانا احسان الٰہی ظہیر، کے صاحبزادے ہیں، وہ بھی مولانا کے ساتھ کندھے سے کندھا ملائے شریک ہوئے۔ اہل حدیثوں کے دوسرے رہنما حافظ سعید بھی مارچ میں شریک نظر آئے۔

قوم پرست بلوچ رہنما محمود اچکزائی اور اے این پی کے اسفند یار ولی بھی مولانا کے ساتھ نظر آئے۔غرض قومی اور علاقائی سطح کی سیاسی و دینی قیادت کو مولانا نے اپنے پیچھے لگا لیا ہے۔ اب یہ بات اہمیت نہیں رکھتی ہے کہ کون سی جماعت دھرنے میں شامل ہو گی یا نہیں، لیکن سردست مولانا فضل الرحمان نے اپنی سیاسی قیادت اور سیادت کا لوہا منوا لیا ہے۔

ایک اور بات کہ مذہبی کارڈ استعمال ہوگا یا نہیں؟قومی سیاسی منظر پر زیر بحث ہے۔ کچھ جماعتیں مولانا کے ایسے بیانات پر معترض ہیں کہ وہ سیاست میں مذہب کو نہ دھکیلیں۔ مولانا نے قادیانیت کے حوالے سے جو بیان دئیے ہیں، اس پر کئی لوگ معترض ہیں اور انہیں آئینی حدود میں رہنے کی نصیحتیں کرتے نظر آرہے ہیں۔ یہاں یہ بات بتاناضروری ہے کہ ہمارے وزیراعظم اپنی تقریروں میں ریاست مدینہ کی باتیں کرتے ہیں اور درست کرتے ہیں ہمارے لئے آئیڈیل ریاست، ریاست مدینہ ہی ہے اور ہمارے آئیڈیل حکمران بھی وہی ہیں جو ریاست مدینہ کے والی اور متولی تھے۔ دوسری بات، ہمارا ٓئین اسلامی ریاست کی بات کرتا ہے۔ قرآن وسنت کی بات کرتا ہے۔ قرارداد مقاصد کیا ہے جو ہمارے آئین کا افتتاحیہ ہے، وہ کیا کہتی ہے کہ قرآن وسنت اس ملک کا رہنما اصول ہوگا۔ کوئی بھی قانون سازی قرآن و سنت کے خلاف نہیں کی جا سکے گی۔ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا فیصلہ پارلیمان نے کیا تھا اور وہ اب ہمارے آئین کا حصہ ہے، کوئی قادیانی ملک کا سربراہ نہیں بن سکتا ہے۔

ختم نبوت ﷺ نہ صرف ہمارے ایمان کا جزولاینفک ہے، بلکہ آئین کا لازمی حصہ بھی ہے۔ آئینی پوزیشنز کے حلف میں بھی خاتم النبینؐ پر ایمان اور آئین کے ساتھ غیرمشروط وفاداری کا اقرار شامل ہے۔ کیا یہ مذہبی کام نہیں ہے، ہمارا تو آئین ہی پورے کا پورا ”مذہبی“ ہے، اس لئے مولانا کو " مذہبی کارڈ کا استعمال کرنے سے روکنے کی کاوشیں آئینی اور قانونی طور پر درست نہیں ہیں۔ مولانا قادیانیت کے حوالے سے جو کچھ کہہ رہے ہیں، وہ مذہبی کارڈ نہیں،بلکہ ”آئینی کارڈ“ہے، جسے وہ بڑی مہارت سے استعمال کر رہے ہیں۔ پاکستان میں بسنے والے مسلمانوں کی اکثریت نبی کریم ﷺ کی ذات اور صفات کے حوالے سے جذباتیت ہی کی نہیں، بلکہ جنونیت کا شکار ہے۔ محمد عربی ﷺ کے ساتھ عقیدت ایمان کی حد سے بھی بڑھی ہوئی ہے اور یہ بات درست بھی ہے کہ ہم نے رب کریم کو محمد عربی ﷺ کے ذریعے ہی جانا ہے۔

ہمیں یہ کس نے بتایا کہ قرآن اللہ کا فرمان اور اس کا منشاء ہے،اس کے احکامات پر مبنی ہے، اللہ ہم سے کیا چاہتا ہے،وغیرہ وغیرہ۔یہ سب کچھ ہمیں محمد عربی ﷺکے واسطے سے ہی پتہ چلا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی ذات اور صفات میں کسی قسم کی ملاوٹ برداشت نہیں کی جاتی۔ قادیانی، ذات محمد ﷺ اور مقام مصطفی ﷺ کے حوالے سے گمراہ ہیں۔ ان کی گمراہی ہمارے آئین میں درج ہے، اس لئے اس کا ذکر کرنا مذہبی کارڈ نہیں، بلکہ آئینی کارڈ ہے، جسے مولانا بڑی چابک دستی سے استعمال کر رہے ہیں۔ویسے حقیقت میں مولانا بذاتِ خود بہت بڑے مذہبی لیڈر ہیں۔ مدارس اور ان سے وابستگان ان کی کانسٹی ٹیوینسی ہے، اس لئے مولانا کی تحریک بذات خود ”مذہبی کارڈ“ ہے، جسے وہ مہارت سے استعمال کر رہے ہیں۔ باقی حقیقت کا علم تو اللہ کے پاس ہے۔

مزید : رائے /کالم