نئی بوتل، پرانا مشروب:یہ ہے نیا……!(2)

نئی بوتل، پرانا مشروب:یہ ہے نیا……!(2)
نئی بوتل، پرانا مشروب:یہ ہے نیا……!(2)

  



تاریخ کے گہرے مطالعہ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سماج کی مکمل تبدیلی کچھ لوازمات کے تابع رہتی ہے، آج ہم دیکھتے ہیں سب کچھ پرانا ہے، آئین اور قانون پرانا ہے، ادارے پرانے ہیں، عوام اور اُس کی ثقافت پرانی ہے، عمران خان خود پرانا،اُس کے استاد پرانے، اُس کا طریقہ سیاست پرانا۔ مخالف سیاسی ٹیم کے تمام کھلاڑیوں کو پیولین میں بھیج کر اکیلے فتح کی ٹرافی لینا ہوتو سیاسی داؤ پیچ بھی پرانے ہوں گے۔جن سے عوام شناسا ہیں۔تاریخ کے جھروکے سے جھانکتا ہوا پرانا پاکستان آج بھی پاکستان کے لا شعور میں موجود ہے۔ مودی کو شاید مکمل ادراک نہیں کہ پاکستان کے آفاق میں محمود غزنوی کے گھوڑوں کی ٹاپوں کی آواز آج بھی سنائی دیتی ہے۔ تیز ہوائیں محمد بن قاسم کی منجنیقوں کی سرسراہٹ سناتی ہیں۔ مجددالف ثانی، شاہ ولی اللہ یا عبیداللہ سندھی کی مطلق العنانیت کے خلاف سر کشی ایک بے چین روح کی طرح آج پلٹ پلٹ کر آتی ہے۔

ایک عام مسلمان، نئے پاکستان سے مجبوری، بے بسی اور بے چارگی مراد نہیں لیتا تھا۔ ارضی خداؤں کے آگے سر جھکانا، ظلم سے سمجھوتہ کرنا، نہ نیا پاکستان ہے اور نہ ہی پرانا پاکستان ہے۔ نئے پاکستان کے ٹرک کی بتی کے پیچھے دوڑنے سے روشنی ہاتھ نہیں آتی۔ لفظوں کی لاشیں ڈھونے سے زندگی نہیں ملتی۔اچھا بُرا پرانا پاکستان تاریخ نے تعمیر کیا تھا۔حادثات نئے نظام کو جنم نہیں دیتے۔ بیساکھیوں کے سہارے جھوٹی امیدوں کی تلاش بے سُود ہے۔پس پردہ جھوٹے خداؤں سے جنت کی آرزو کرنا خود فریبی ہے، لیکن بد قسمتی سے آج کا معاشرہ پردے پر ٹکٹکی باندھے غیر متحرک بیٹھا ہے کہ کب پردہ اُٹھے گا اور سچ حق سامنے آئے گا۔انتظار سے بہتر اجتماعی جدوجہد ہی ہے۔ کوئی نجات دھندہ اچانک عام آدمی کی نفسیات نہیں بدل سکتا۔ مرکب ٹیکسوں سے خون نچوڑنے اورکشکول لے کر دنیا بھرسے قرض لینے کی صلاحیت سے معاشی بد حالی کو دور نہیں کر سکتا۔کوئی ہیرو خوف و ہراس پیدا کر کے ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتا۔ قوم کو تقسیم کر کے فتح یابی ناممکن ہے۔

اِدھر معاشرہ منجمد ہے اور اُدھر وقت تاریخ کے قدموں کی چاپ کا منتظر ہے۔ وقت کی سرگوشی کی طرف دھیان دینے سے ہی زمان و مکان کے باہمی عمل کو سمجھا جا سکتا ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وقت کی حرکت حادثاتی ہے یا پرانے سے نئے کی طرف سفر کا اپنا تاریخی نظام ہوتا ہے۔ وقت دراصل اپنی جدلیات اور تضادات سے آگے بڑھتا ہے، البتہ ماضی پرست، تو ہم پرست اور غیر سائنسی سوچ رکھنے والے معاشرے کا مستقبل غیر یقینی اور حادثاتی ہوتا ہے۔ جدلیات کا علم وقت کی تفہیم کا علم ہے۔ ایسے علم کے حامل معاشرے کے ہاتھوں میں وقت کی باگیں ہوتی ہیں۔ وہ حادثات کی زدمیں نہیں ہوتے۔ متعین اور حتمی تضادات کی رفتار کو سمجھے بغیر مستقبل کو قابو میں نہیں کیا جاسکتا، لیکن کیا کیجئے کہ ایک طبقے کی نمائندہ، جانبدار حکومت حیات افزا تضادات کوسمجھے بغیر روکتی ہے۔ حالات کو جوں کا توں رکھنے کی کوشش کرتی ہے، یعنی خود بھی حال کے مفروضے میں مقّید رہتی ہے اور پورے معاشرے کو بھی انجماد کے لمحات میں پھنسائے رکھتی ہے۔ حکومت کی بے بسی اور اُس کے جبرکی صلاحیت کے درمیان سمجھوتے سے خوفزدہ معاشرہ جنم لیتا ہے۔

خوفزدہ معاشرے میں نہ پہل کرنے کی اہلیت ہوتی ہے، نہ فیصلہ کرنے کی طاقت۔ طاقت کو سائنس کی زبان میں انرجی کہتے ہیں۔ انرجی کے بغیر حرکت ممکن نہیں۔ حرکت زندگی ہے۔ سائنس کہتی ہے کہ حرکت کے بغیر "کام"عمل میں نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ انرجی کے بغیر معاشرہ غیر متحرک اور "کام" سے عاری ہو جاتا ہے۔ نئے پاکستان کے نعرے کا خالق عمران خان متلاطم دریا کے کنارے حیرت زدہ کھڑا ہے کہ معیشت کا بہاؤ تھم کیوں گیا، لفظ بھنبھناہٹ میں کیوں تبدیل ہوگئے، نعروں میں دھرنوں والا جوش کیوں نہیں رہا۔بارش برسانے والی ہوائیں اب دور سے کیوں نہیں آتیں، چھم چھم بارش کیوں نہیں برستی؟

عمران خان کی حیرت درست بھی ہے۔ اُس نے کیسی مہارت سے ایک ایسا صفحہ ڈھونڈھ لیا تھا جس پر تمام اہم قومی ادارے یکجا ہو گئے تھے،پھر جو ادارے اُس صفحے پر نہ سما سکے؟ اُن اداروں کو تعطل کا شکار کر دیا گیا۔ اُس معجزہ نما صفحے سے باہررہ جانے والے ادارے بے شک کہتے پھریں کہ وہ ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ ادارے نہیں ہیں یا مفلوج ہیں۔ وہ کھڑا سوچتا ہے کیسی کمال سٹریٹیجی مینو فیکچر کی تھی۔ پھر کامیابی ایک دورا ہے پر ٹھٹھک کر رُک کیوں گئی۔یہ عجیب اور نا ممکن قومی یک جہتی عمران خان نے ریاضی کی مدد سے حاصل کی۔ جب سارے قومی ادارے ایک صفحے پر یک جان ہو جائیں تو "قومی یک جہتی "کے نئے معنی سمجھ میں آتے ہیں۔ آج قومی یکجہتی سے مراد لی گئی ہے مقاصد کا ایکا، مفادات کا اشتراک اور سمت کی یکسانیت۔ اداروں کی ملی بھگت قومی یک جہتی پیدا نہیں کر سکتی، بلکہ ایسی یگانگت آخر کار قومی یک جہتی کی نفی کرتی ہے۔

ایسی مفاداتی یک جہتی، احتساب کے عمل کو بھی مفلوج کر دیتی ہے۔ دنیا بھرمیں قومی ادارے اپنی داخلی میکانیت اور مشترکہ نصب العین پر بھروسہ کرنے سے اپنی قوم کو اجتماعی دانائی سے ترقی کی انتہا تک پہنچانے ہیں۔ حقیقی جمہوری معاشرے میں اجتماعی دانائی کو اظہار اور شرکت کا مکمل اختیار حاصل ہوتا ہے، لیکن ہمارے یہاں اجتماعی دانائی کے فلسفے کو حکمران کبھی نہیں مانتے۔ہماری سیاست کسی ایسے ہیرو کے اردگرد گھومتی ہے، جواکیلا مافوق الفطرت کارنامے سرانجام دے سکتا ہے۔نئے پاکستان میں نظریاتی اساس پر قائم مربوط نظام کے تصور کو جلاوطن کر دیا گیا ہے۔ نئے پاکستان کا ماڈل محوری قیادت اور اداروں کی اجارہ داری سے مشروط ہے۔

ہمارا معاشرہ کسی ایک ہیرو یا ایک ادارے کی فعالیت سے کراماتی نتائج کا منتظررہتا ہے، اجتماعی فکر، مشترکہ قومی جدوجہد، عوام کی خود اعتمادی، اداروں کے ریاستی کردار میں ہم آہنگی، کِرم خوردہ نظام کی تبدیلی ایک ناقابلِ شکست نئے پاکستان کی تعمیر کرے گی۔نیا پاکستان در اصل یہی نئے لباس میں پرانا پاکستان ہے،لیکن محض نیا لباس پرانے وجود کو تبدیل نہیں کرتا،اس لئے محض ہیئت، فارم، رسمی وضع کی تبدیلی مکمل تبدیلی نہیں ہوتی، نئی بوتل میں پرانا مشروب کوئی تبدیلی نہیں۔ نظام کی مکمل تبدیلی کے بغیر نیا پاکستان نہیں بن سکتا۔ نئے نظام کے خطوط اور حدود کی واضح نشاندہی سے نیا پن جنم لے گا۔ (ختم شد)

مزید : رائے /کالم