آزادی مارچ کے چند مضمرات!

آزادی مارچ کے چند مضمرات!
آزادی مارچ کے چند مضمرات!

  



دھرنا، عام ہڑتال،جلسہ، جلوس، ریلی، طویل یا مختصر مارچ وغیرہ تمام احتجاج کی اقسام ہیں۔ احتجاج ایک مخصوص طبقہ ء آزادی کی ناراضگی کے اظہار کا نام ہے۔ جب وہ طبقہ ء آبادی یہ سمجھتا ہے کہ اس کی فریاد و فغاں پر کان نہیں دھرا جاتا اور وہ لوگ جو اس طبقے کی ناراضگی یا برہمی کا مداوا کر سکتے ہوں اور نہ کریں تو پھر اس طبقے کے پاس احتجاج کے دو ہی طریقے (آپشنز) رہ جاتے ہیں جن میں سے ایک پُرتشدد کہلاتا ہے اور دوسرا پُرامن۔ پُرامن احتجاج ہمیشہ پُرتشدد احتجاج کا پیشرو ہوتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ پُرامن فریاد سن کر دادرسی کرنے والے داد رسی کریں گے لیکن جب انصاف ہوتا نظر نہیں آتا تو پُرامن احتجاج، پُڑتشدد مظاہرے میں ڈھل جاتا ہے۔

یہ مناظر ہر روز بلکہ صبح و شام و شب دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں ضرور دیکھے جا سکتے ہیں۔ کوئی بھی معاشرہ مثالی معاشرہ نہیں ہوتا۔ یوٹوپیا کا وجود عنقا تصور کیا جاتا ہے۔ جن معاشروں میں احتجاج کی تعداد کم سے کم ہو وہ مثالی معاشرے کہلاتے ہیں۔ بعض اوقات ان مثالی معاشروں کے سمندروں میں بھی پُرسکون سطحِ آب کے نیچے طوفان مچلتے رہتے ہیں لیکن جب تک وہ طوفان سطحِ آب پر ظاہر نہیں ہوتے تب تک وہ ذخیرہ ہائے آب (ندیاں، نالے، دریا، سمندر) قابلِ جہاز رانی رہتے ہیں۔ لیکن جب سطحِ آب گردابوں میں گھر جائے تو آبی مخلوق بھنور میں پھنس کر ہلاک ہو جاتی ہے یا دوسرے پُرسکون پانیوں کا رخ کر لیتی ہے۔

احتجاجی مظاہروں کو تین بڑی اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے اور سطورِ ذیل میں انہی مضمرات کا مختصر ذکر کیاجاتا ہے۔ یاد رہے کہ موضوعِ بحث مولانا کا لانگ مارچ یا دھرنا ہے:

1۔ پولیٹکو ملٹری مضمرات

اس لانگ مارچ کے پولٹیکو ملٹری مضمرات ظاہر و باہر ہیں۔ اپوزیشن پارٹیوں کا اصرار ہے کہ گزشتہ برس جو الیکشن ہوئے وہ شفاف نہیں تھے۔ یہ سیاسی پارٹیاں اپنی ہار کو الیکشنوں میں دھاندلی کے کھاتے میں ڈالتی ہیں اور اپنی ہار کو تسلیم نہیں کرتیں۔ ان کے نزدیک موجودہ وزیراعظم Elected نہیں Selected ہیں اس لئے ان کو مستعفی ہو جانا چاہیے اور ملک میں نئے انتخابات کروانے چاہئیں …… دوسری طرف حکومت کا موقف اس بیانیے کے بالکل برعکس ہے۔یہ گویا ندی کے دو ایسے کنارے ہیں جو آپس میں کبھی نہیں مل سکتے۔ اگر بالفرض نئے الیکشن کروا بھی دیئے جائیں تو پھر بھی دھاندلی کا قضیہ تو وہیں کا وہیں رہے گا۔ اس سیاسی افراتفری کا تعلق ملک کی اندرونی سیاسیات اور استحکام سے جڑا ہوا ہے لیکن پاکستان کی بدقسمتی یہ ہے کہ یہ اندرونی افراتفری پاکستان کے بیرونی دشمنوں کو بھی دعوت دیتی ہے کہ وہ قومی سلامتی کو عدم استحکام کا شکار کر دیں۔ پاکستان کے بیرونی دشمن ڈھکے چھپے نہیں۔ ہم 1971ء میں آدھا ملک اسی افراتفری کی نذر کر چکے ہیں۔ ہمارے دشمن یہ سمجھتے ہیں کہ جس طرح نصف صدی پہلے پاکستان دو نیم کر دیا گیا تھا، اسی طرح آج بھی انہی حالات میں گھر کر یہ پاکستان اپنے دوسرے نیم (آدھے) کو گنوا دے گا۔

مولانا کا دھرنا اور آزادی مارچ بیرونی دشمنوں کے ہاتھ مضبوط کر رہا ہے۔ اگر مولانا کی قیادت میں ملک کی ساری اپوزیشن کی بات درست بھی تسلیم کر لی جائے تو حکومت کو باقی آدھے ملک کو داؤ پر لگانے کی بجائے صبر اور برداشت سے کام لینا چاہیے۔ اندرونی جھگڑوں کو اتنی ہوا نہیں دینی چاہیے کہ ہمارے بیرونی دشمن اس افراتفری سے فائدہ اٹھا کر ملک کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا دیں …… اندرونی سیاست کا خلفشار اور بیرونی ملٹری مداخلت کا خدشہ مولانا کے آزادی مارچ یا دھرنے کے براہِ راست ”ثمرات“ گنوائے جا سکتے ہیں اور یہی پولٹیکو ملٹری مضمرات ہیں جو اس احتجاجی مارچ کے عقب میں گھات لگائے بیٹھے ہیں …… عراق اور شام کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ ان دونوں ممالک کی جدید افواج بھی تھیں اور ان کے پاس جدید اسلحہ جات بھی تھے، لیکن ان کا المیہ یہ ہوا کہ یہ دونوں افواج (عراقی اور شامی) شیعہ سنی کی تقسیم میں بٹ گئیں اور عوام سے دور ہوتی چلی گئیں۔ یاد رکھیں کسی بھی ملک کی فوج کو سب سے بڑا خطرہ اس کی اپنی قوم (عوام) سے ہوتا ہے۔

اگر ایک بار فوج اور عوام میں بدگمانی پیدا ہو جائے تو اس کو دور کرنے میں عشرے لگ جاتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن اور ان کے ساتھیوں کو یہ حقیقت جان لینی چاہیے کہ اگر وہ فوج کو مطعون کریں گے، اگر اس پر ناروا تنقید کریں گے اور اگر اس پر جانبداری کا الزام لگائیں گے تو وہ فوج، قوم سے اور قوم اس فوج سے دور ہوتی چلی جائے گی اور یہ نسخہ ملک و قوم کی بربادی کا ایک آزمودہ نسخہ ہے۔ میں نے عراق اور شام کی مثال اس لئے دی ہے کہ یہ سب کچھ عہدِ موجود میں ہمارے نگاہوں کے سامنے ہو رہا ہے۔ ماضی کی متعدد مثالیں دی جا سکتی ہیں جن سے طولِ کلام کا اندیشہ ہے اس لئے ان کا تذکرہ نہیں کرتے۔

2۔ جیو سٹرٹیجک مضمرات

لانگ مارچ یا دھرنے کا دوسرا فال آؤٹ جیو سٹرٹیجک کہا جا سکتا ہے۔پاکستان کی لوکیشن پر نظر ڈالیں۔ اس کے چار ہمسایوں میں سے دو کے ساتھ ہمارے تعلقات کی نوعیت مخاصمانہ اور معاندانہ ہے اور باقی دو کے ساتھ دوستانہ کی ذیل میں شمارکی جا سکتی ہے۔ کسی بھی ملک یا قوم کی ترقی اور خوشحالی کا راز اس حقیقت میں مضمر ہوتا ہے کہ اس کے اردگرد رہنے والی اقوام اور ممالک اس کے دوست بھی ہوں اور دشمن بھی۔ اگر انڈیا ہمارا ہمسایہ نہ ہوتا اور 1971ء کا سانحہ رونما نہ ہوتا تو کیا پاکستان کبھی جوہری اور میزائلی قوت بننے کا خیال بھی کر سکتا تھا؟ ہمارا دشمن ہمارے ممکناتِ جسم و جاں کو بیدار کرنے کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ اس موضوع کو کھینچ کر دور تک لے جایا جا سکتا ہے۔ تاریخِ عالم ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ اقبالؒ نے تو ایک جگہ یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اس جہانِ کور ذوق میں زندگی گزارنے کا کیا فائدہ جس میں صرف خدا ہو اور شیطان نہ ہو!

مزی اندر جہانے کور ذوقے

کہ یزداں دارد و شیطاں ندارد

ہمارے ہمسائے ہمارے جیوسٹرٹیجک دوست ہیں۔ وہ اگر دشمن بھی ہوں تو دوست ہیں کہ ان کی دشمنی، دوستی کی ایک دوسری صورت ہے۔ میری نظر میں مولانا کا یہ دھرنا اور مظاہرہ پاکستان کا دشمن بھی ہے اور دوست بھی۔ اس حقیقت کا ادراک بھی کیجئے کہ مولانا کے چیلنج سے نمٹنے کا گُر حکومت کو مولانا کی اسی آزادی مارچ نے سکھایا ہے!…… شاعری کی زبان میں رنج اور مصیبت کے انبار، انسان کو زیادہ توانا اور زیادہ ذہین و فطین بنا دیتے ہیں۔ دھرنے کے زمینی حقائق، سٹرٹیجک اہمیت کو اجاگر کرتے اور ”جیوسٹرٹیجک مضمرات“ کہلاتے ہیں۔ حکومت جب مولانا کے اس احتجاج پر قابو پا لے گی تو گویا زیادہ مضبوط اور زیادہ قوی بن جائے گی، جسمانی اعتبار (Physically) سے بھی اور روحانی اعتبار (Morally) سے بھی!!……

3۔سوشیو اکنامک مضمرات

احتجاجی مظاہروں کے سو شیو۔ اکنامک (Socio-Ecnomic) مضمرات اہم ترین مضمرات شمار ہوتے ہیں۔ کوئی بھی مظاہرہ روپے پیسے کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔ منتظمینِ مظاہرہ کتنے بھی تجربہ کار اور پڑھے لکھے ہوں اگر ان کی جیب خالی ہو تو ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکتے۔ ان مظاہروں کے فنانسرز بالعموم پردۂ اخفا میں رہتے ہیں اور سامنے نہیں آتے۔ اگر دھرنا / مارچ وغیرہ کامیاب ہو جائے تو نہ صرف ان سرمایہ کاروں اور سہولت کاروں کی سِیڈمنی (Seed Money) واپس ہو جاتی ہے بلکہ اصل زر کے ساتھ اتنا سود (منافع) ملتا ہے کہ ان فنانسروں کی آنے والی نسلیں نہال ہو جاتی ہیں۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں کو معلوم ہوتا ہے کہ ان مظاہروں وغیرہ کا سرمایہ کار کون ہے۔ یہ ایجنسیاں بھی بالعموم سرمایہ کاروں اور سہولت کاروں کا اتہ پتہ نہیں بتاتیں اور درپردہ کوشش کرتی ہیں کہ ان فنانسرز کے وسائل اور منابع (Resources) چوک (Choke) کر دیئے جائیں۔ مولانا کے آزادی مارچ کے سرمایہ کار کبھی کھل کر سامنے نہیں آئیں گے لیکن ایجنسیوں سے چھپ بھی نہیں سکیں گے۔

مولانا کا یہ آزادی مارچ اس لحاظ سے بھی نرالا ہے کہ پہلی بار ایسا ہو رہا ہے کہ کسی مارچ میں باقاعدہ نیم عسکری تنظیم بھی اس کا حصہ بن رہی ہے۔ اس تنظیم کی وردیاں، تلواریں، ڈنڈے سوٹے اور ٹریننگ وغیرہ کے اخراجات دیگر روٹین اخراجات کے علاوہ ہیں۔ گزشتہ صدی میں پہلے مارکسی روس اور پھر نازی جرمنی میں اسی قسم کی نیم مسلح تنظیموں کا ڈول ڈالا گیا تھا۔ اس موضوع پر ان تحریکوں کا بہت سا تاریخی مواد انٹرنیٹ پر مل سکتا ہے۔

مولانا کی یہ ڈنڈا بردار فورس کوئی نئی فورس نہیں ہے۔ ہاں البتہ پاکستانی عوم کے لئے بالکل نئی ہے۔ بھارت میں آر ایس ایس وغیرہ جیسی اسلحہ بدست تنظیمیں ایک عرصے سے پھل پھول رہی ہیں۔ مولانا کی یہ نئی تنظیم بھی را (Raw) کی تجاویز میں سے ایک ہے۔

اس کے معاشرتی (Socio) مضمرات بہت اہم ہیں۔ چونکہ یہ فورس ایک نئی مظاہراتی بدعت ہے اس لئے لوگوں کا تجسس بجا ہے۔ کوئی بھی پُرامن معاشرہ جب کسی مارچ میں اس قسم کی انصارِ اسلامی کی شکل و صورت اور اس کے معمولات دیکھتا ہے تو پہلے حیران ہوتا ہے اور پھر پریشان ہونا شروع کرتا ہے۔ یہ حیرانی اور پریشانی موجودہ آزادی مارچ کا ایک ایسا فال آؤٹ ہے جس کے خائف کر دینے والے تاثر اور دوررس تاثیر سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

قارئین گرامی! اس آزادی مارچ اور دھرنے جیسی کوئی مثال ہمارے ہمسائے بھارت میں نہیں ملتی۔ وہاں دھرنے کی مثالیں تو عام ہیں۔ لیکن کسی آزادی مارچ میں نیم مسلح تنظیم کی شرکت اور اس مظاہرے کا حجم اگر دہلی کے کسی نواحی علاقے میں آکر ڈیرے ڈال دے تو اس کے حاضر اثرات اور مابعدی مضمرات کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہو گا……

مزید : رائے /کالم