خانیوال:سرکاری ہسپتال کاعملہ بے لگام، ڈلیوری سے انکار پربچہ جاں بحق

خانیوال:سرکاری ہسپتال کاعملہ بے لگام، ڈلیوری سے انکار پربچہ جاں بحق

  



خانیوال (نمائندہ پاکستان) وزیر اعلیٰ پنجاب کے صحت کے شعبہ میں انقلابی اقدامات کا بھانڈا پھوٹ گیا، ڈسٹرکٹ ہسپتال خانیوال لیبر روم عملہ زچہ بچہ کی زندگیوں سے کھیلنے لگا، مریضوں کو مجبوراََ پرائیویٹ ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے، حاملہ خاتون کی ڈلیوری کرنے سے انکار پر خاتون کا بچہ جاں بحق ہوگیا، تفصیل کے مطابق ڈسٹرکٹ ہسپتال خانیوال میں قائم لیبر روم جہاں پنجاب حکومت کی جانب سے 24 گھنٹے سروس فراہم کرنے کے بلند و بانگ دعویٰ کئے جاتے ہیں جس کی سروس کا بھانڈا پھوٹ گیا۔ لیبر میں تعینات (بقیہ نمبر44صفحہ12پر)

لیڈی ڈاکٹر مریم، ڈاکٹر عائشہ اور دیگر نا تجربہ کار سٹاف لیبر روم میں آنے والی خواتین کی زندگیوں سے کھیلنے لگا جس سے وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سمیت پنجاب حکومت کے شعبہ صحت میں کئے جانے والے بلند و بانگ دعوؤں کا بھانڈا پھوٹ گیا۔ریحانہ کوثر نامی حاملہ خاتون کو شدید تشویشناک حالت میں ڈسٹرکٹ ہسپتال خانیوال لیبر روم میں منتقل کیا گیا جہاں ڈیوٹی پر موجود لیڈی ڈاکٹر نے بجائے ڈلیوری کے خاتون درد روکنے کا انجکشن لگاکر واپس بھیج دیا اگلے روز پھر خاتون کو لیبر روم میں منتقل کیا گیا تو لیبر روم عملہ نے پھر سے انجکشن لگا کر واپس بھیج دیا تیسری بار منتقل کرنے پر خاتون نے انجکشن لگوانے سے انکار کردیا اور بتایا کہ اس کی ڈلیوری کا ٹائم پورا ہوچکا ہے لہذا ڈلیوری کی جائے جس پر لیبر روم عملہ سمیت لیڈی ڈاکٹر نے مریضہ خاتون کے ساتھ بدتمیزی کی اور تمام چیک اپ کی پرچیاں اور الٹراساؤنڈ رپورٹ رکھ لی اور بدتمیزی کرکے لیبر روم سے نکال دیا جس پر متاثرہ خاندان نے ایم ایس ڈسٹرکٹ ہسپتال ڈاکٹر زاہد سے رابطہ کیا تو لیبر روم عملہ نے ایم ایس ڈاکٹر زاہد کو بھی گمراہ کن معلومات سے آگاہ کرکے کہاکہ ابھی ڈلیوری کا ٹائم نہیں ہوا ہے۔جس کے بعد خاتون کی حالت شدید تشویشناک ہوگئی جس پر خاتون کو نجی پرائیویٹ ہسپتال میں منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹر کے مطابق خاتون کی ڈلیوری کا ٹائم اوور ہوچکا ہے اور زچہ بچہ کی زندگی کو شدید خد شہ لاحق ہے جس کے بعد پرائیویٹ ہسپتال میں مریضہ کی ڈلیوری کی گئی تو بچہ 4 گھنٹے موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد خالق حقیقی سے جا ملا۔متاثرہ خاتون اور اس کے اہل خانہ نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ ہسپتال میں قائم لیبر میں ناتجر بہ کار عملہ تعینات کیا ہوا ہے جبکہ لیبر روم میں کوئی بھی سینئر ڈاکٹر موجود نہیں ہوتا جس کے باعث اس طرح کے واقعات آئے روز کا معمول بنے ہوئے ہیں جبکہ ہسپتال عملہ کے خلاف ہونے والی انکوائری بھی ردی کی ٹوکری کی نظر کردی جاتی ہیں متاثرہ خاندان نے وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے لیبر روم عملہ کے رویہ کے خلاف محکمانہ کاروائی کرنے کے ساتھ ساتھ قانونی کاروائی کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر