رئیل اسٹیٹ سیکٹرکے ڈیجیٹل سروے کی تیاری، بنک نادہند گان کا ریکارڈ بھی طلب

رئیل اسٹیٹ سیکٹرکے ڈیجیٹل سروے کی تیاری، بنک نادہند گان کا ریکارڈ بھی طلب

  



کراچی(این این آئی) حکومت نے ریئل سٹیٹ سیکٹر کے ڈیجیٹل سروے کی تیاری شروع کر دی، چینی طرز کے سروے سے ٹیکس نیٹ میں اضافے کا امکان ہے۔حکومت نے ریئل سٹیٹ سیکٹر کو ڈیجیٹل کرنے کے لئے پیشرفت شروع کر دی، ایف بی آر ذرائع کے مطابق چینی طرز کے ڈیجیٹل لینڈ سروے کی تجویز پیش کی گئی ہے جس کی منظوری کے بعد پراپرٹی سروے کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا اور ملک بھر میں پراپرٹی کا سروے دو سال میں مکمل کرلیا جائے گا۔سروے مکمل ہونے سے پراپرٹی کی معلومات کمپیوٹرائز ہوجائے گی اور اس کی خرید و فروخت کا درست حساب کتاب موجودہ ہوگا جس سے ایف بی آر کے ٹیکس نیٹ میں اضافے کے ساتھ وصولیاں بھی بڑھیں گی۔دوسری طرف فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ملک بھر میں بنک نادہندگان کے بے نامی اثاثہ جات کے شواہد ملنے پر ملک بھر کے بنکوں سے بنک نادہندگان کا ریکارڈ طلب کرلیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ مذکورہ نادہندگان نے اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کے ناموں پر بے نامی جائیدادیں بنالی ہیں۔ 

ڈیجیٹل سروے 

کراچی(این این آئی) وزیراعظم عمران خان کی ٹیکس مشینری میں اسٹیٹس کو توڑنے کے پلان کی راہ میں پہلی اہم رکاوٹ سامنے آگئی ہے۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)کے اعلی افسران نے وزیراعظم کی پاکستان ریونیو اتھارٹی(پی آراے)قائم کرنے کی تجویز کی مخالفت کردی۔ ایف بی آر میں موجود ذرائع کے مطابق ایف بی آر کی 23 فیلڈ فارمیشنز، اس کے ارکان اور دیگر اعلی حکام نے حکومت کے جون 2020 تک پی آر اے کے قیام کے خلاف رائے دی ہے۔چیف کمشنروں کے اجلاس میں اعلی افسران نے ایف بی آر کے چیئرمین شبرزیدی کے سامنے فرسٹریشن کا اظہار کیا۔ شبرزیدی ڈیٹا کلیکشن اور آٹومیشن پر خاص توجہ دیتے ہوئے ایف بی آرکی جدید خطوط پر تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ اس اقدام سے ٹیکس مشینری کا اجارہ دارانہ کردار ختم ہوجائے گا اور بہت سی بے مصروف پوسٹیں بھی ختم ہوجائیں گی جن میں 21 گریڈ کے چیف کمشنر کی پوسٹ بھی شامل ہے جسے بہت پرکشش سمجھا جاتا ہے۔ چیئرمین ٹیکس دہندگان اور ٹیکس وصولنے والوں کے درمیان فزکل کونٹیکٹ ختم کرنے کے متمنی ہیں۔ایف بی آر 

ایف بی آر 

مزید : صفحہ آخر