دیا مر بھاشا ڈیم پر تعمیراتی کا م کا آغاز تین سے چار  ماہ میں متوقع: چیئر مین واپڈا

دیا مر بھاشا ڈیم پر تعمیراتی کا م کا آغاز تین سے چار  ماہ میں متوقع: چیئر مین ...

  



اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)چیئرمین واپڈا اور دیا مر بھاشا، مہمند ڈیمز عملدرآمد کمیٹی لیفٹیننٹ جنرل مزمل حسین (ریٹائرڈ) نے کہا ہے کہ دیا مر بھاشا ڈیم پر اگلے تین سے چار ماہ میں باقاعدہ تعمیراتی کام شروع ہو جائے گا، دیا مر بھاشا ڈیم کیلئے کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کرنے کیلئے تجویز اور ڈیم کے سول ورکس کی تعمیر کیلئے بڈز کی جانچ پڑتال آخری مراحل میں ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے عملدرآمد کمیٹی کے سیکرٹریٹ میں منعقدہ اجلاس کے دوران کیا۔ اجلاس میں دونوں منصوبوں کیلئے زمین کی خریداری اور متاثرین کی آباد کاری، پروکیورمنٹ اور فنانسنگ سے متعلق مختلف امور کا جائزہ لیا گیا جبکہ ڈیمز عملدرآمد کمیٹی کی متعلقہ ذیلی کمیٹیوں نے اجلاس میں اپنی رپورٹس پیش کیں۔ لیفٹیننٹ جنرل مزمل حسین (ریٹائرڈ) نے کہا کہ واپڈا مہمند ڈیم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور دیا مر بھاشا ڈیم پراجیکٹ کو کم سے کم مدت میں مکمل کرنے کیلئے پْر عزم ہے۔ مہمند ڈیم پراجیکٹ کے تعمیراتی کام پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اْنہوں نے کہا کہ منصوبے کے تعمیراتی کام میں تیزی آرہی ہے۔اجلاس میں مہمند ڈیم کی لینڈ ایکوزیشن سے متعلق ذیلی کمیٹی نے بتایا کہ منصوبے کیلئے ترجیحی اراضی خریدی جاچکی ہے جبکہ باقی زمین کی خریداریمرحلہ وار کی جائے گی اور اْمید ہے کہ اِس عمل کو اگلے دو ماہ میں مکمل کر لیا جائے گا۔ دیا مر بھاشا ڈیم کی لینڈ ایکوزیشن سے متعلق ذیلی کمیٹی نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ منصوبے کیلئے 32ہزار ایکڑ سے زائد اراضی خریدی جاچکی ہے جبکہ اعتماد سازی کے اقدامات کے طور پر 14ارب روپے کی مالیت کی تعلیم، صحت، انرجی اور انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کیلئے مقامی لوگوں کی سہولت کی خاطر مختلف ترقیاتی سکیمیں زیر عمل ہیں۔ پروکیورمنٹ سے متعلق ذیلی کمیٹی نے مہمند ڈیم اور دیا مر بھاشا ڈیم کیلئے پروکیورمنٹ کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا۔ فناسنگ سے متعلق ذیلی کمیٹی نے اجلاس کے شرکاء کو دونوں منصوبوں کیلئے درکار فنڈز کا بندوبست کرنے کیلئے فنانشل ماڈل کے بارے میں بتایا۔ بریفنگ کے دوران اجلاس کو بتایا گیا کہ دونوں منصوبوں کیلئے مذکورہ فنانشل ماڈل میں اِس بات کو مرکزی اہمیت حاصل ہے کہ فنڈر کی فراہمی کیلئے قومی خزانہ پر کم سے کم انحصار کیا جائے گا جبکہ مذکورہ مقصد کیلئے دیگر مقامی وسائل اور کمرشل فنانسنگ پر زیادہ توجہ دی جائے۔

چیئرمین واپڈا

مزید : صفحہ آخر