لاہور،جرائم کی سرپرستی میں 13 ڈی ایس پی ملوث،کارروائی کون کرے؟

      لاہور،جرائم کی سرپرستی میں 13 ڈی ایس پی ملوث،کارروائی کون کرے؟

  



لاہور (تجزیہ : یونس باٹھ) جرائم کے سر پرست پولیس اہلکار، ایک مرتبہ پھر جرائم کی سرپرستی میں پولیس کے افسران اور اہلکار ملوث نکلے اور انہیں معطل کر دیا گیا۔ اس سے قبل بھی کراچی کے مختلف اضلاع میں پولیس اہلکار اور افسران ملوث پائے گئے تھے۔ یہ تو درست قدم ہے کہ پولیس کے محکمے میں ایسے بدعنوان اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف نہ صرف کارروائی ہو رہی ہے بلکہ ان کو قانونی عمل سے بھی گزارا جا رہا ہے۔ خبر تو مختصر ہے لیکن یہ علامت ہے اس امر کی کہ سندھ پولیس کے علاوہ پنجاب میں بھی بڑے پیمانے پر گڑ بڑ ہے۔ سندھ پولیس نے یہ کارروائی تو ضلع کورنگی میں کی ہے جس میں ایس ایچ او، ایس آئی اور دیگر اہلکار شامل ہیں جبکہ چند روز قبل کھوکھراپار تھانے میں جعلی پولیس پارٹی بھی پکڑی گئی تھی۔ یہ جعلی پولیس پارٹی تو پکڑی گئی اور اسے پولیس ہی نے پکڑا، لیکن عوام سے گلی محلوں اور سڑکوں پر کھلے عام بھتے وصول کرنے والے پولیس اہلکار تو اصلی ہی ہوتے ہیں ان کے خلاف کون کارروائی کرے گا۔ لا ہور کی حد تک سی سی پی او اور ڈی آئی جی آپریشنزتو ایسے اہلکاروں کے خلاف اپنی بساط کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لا نے کا عندیہ دے چکے ہیں تاہم آئی جی پولیس پنجاب کو بھی نوٹس لیناچاہیے اور جرائم میں ملوث افسران کے خلاف سخت کا رروائی عمل میں لا نی چاہیے۔ درست اطلاعات کے مطابق صرف لا ہور میں 13ایسے ڈی ایس پی صاحبان تعینات ہیں جوجرائم کی سر پر ستی میں ذاتی طور پر ملوث ہیں، ایک ڈی ایس پی تو ایسے بھی ہیں کہ ایک سابق آئی جی جو حال ہی میں تبدیل ہو ئے تھے وہ گزشتہ دس سالوں کے دوران جہاں بھی گئے انھیں صرف اس لیے اپنے ساتھ لے جاتے تھے کہ پو سٹنگ ٹرانسفر سمیت ان کے لین دین کے سارے معاملات اس ڈی ایس پی کوطے کرنا پڑتے تھے آخری بار وہ آئی جی آفس میں اسسٹنٹ پی ایس ٹو آئی جی پو لیس رہ چکے ہیں۔ سندھ پولیس کے علاوہ پورے نظام کا ازسر نو جائزہ لینا ہوگا کہ ایسے لوگ پولیس میں کہاں سے آرہے ہیں۔ یہ محض کوئی چھوٹی سی خبریا معمولی بات نہیں بلکہ نہایت قابل غور اور توجہ طلب مسئلہ ہے۔

تجزیہ یونس باٹھ

مزید : صفحہ آخر