بلدیاتی نظام سے عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہونگے، اسلم اقبال 

 بلدیاتی نظام سے عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہونگے، اسلم اقبال 

  



لاہور(لیڈی رپورٹر)صوبائی وزیر اطلاعات وثقافت میاں اسلم اقبال نے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کے بارے میں ڈی جی پی آر آفس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ کابینہ نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ2019میں ترامیم کی منظوری دی ہے جس کے تحت سیاسی جماعت یا انتخابی گروپ بنا کر بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت ہوگی۔نیبر ہڈ کونسل اور ویلج کونسل کے انتخابات غیرسیاسی بنیادوں پر ہوں گے جبکہ شہری اپنے اضلاع کے میئر ز کا انتخاب براہ راست ووٹ کے ذریعے کریں گے۔اقلیتوں کو مخصوص نشستوں کے ساتھ جنرل نشستوں پر بھی ووٹنگ کا حق دیا گیا ہے۔اس طرح اقلیتوں کو دہرے ووٹ کا حق دے کر ان کا دیرینہ مطالبہ پورا کر دیا گیا ہے۔ انتخابی نتائج کا اعلان ریٹرننگ آفیسر کرے گا جبکہ شکایت کی صورت میں الیکشن ٹربیونل الیکشن ایکٹ کے تحت فیصلہ کرے گا۔کابینہ نے پنجاب ویلج پنجایت اینڈ نیبر ہڈ کونسل ایکٹ 2019میں ترامیم کی منظوری دی۔اسی طرح پنجاب ڈی مارکیشن آف لوکل ایریاز رولز2019کے تحت مقامی علاقوں کی حد بندی کی منظوری دی۔ترقیاتی سکیموں پر عملدرآمد کے لئے پنجاب بھر میں 455مقامی حکومتیں بنیں گی۔صوبائی کابینہ نے پنجاب میونسپل سروسز پروگرام میں ردو بدل کی منظوری بھی دی۔اس پروگرام کے تحت صوبے بھر میں سڑکوں کی تعمیرومرمت،فراہمی ونکاسی آب کی سکیمیں اورتعلیم وصحت کے پروگرام مکمل کئے جائیں گے۔ان سکیموں پر 24ارب روپے خرچ کئے جائیں گے۔صوبائی کابینہ نے شاہی قلعہ اور اس کے بفر زون میں سیاحت کے فروغ کے لئے ہیری ٹیج اینڈ اربن ری جنریشن پروگرام کی بھی منظوری دی۔جس کے تحت شاہی قلعہ میں خلوت خانہ اور دیگر حصوں کو بحال کیا جائے گا۔اس پروگرام کے تحت اکبری گیٹ کو کھولا جائے گا۔نیو فورٹ میوزیم بنے گا اور سکھ گیلری کی تزئیں و آرائش کی جائے گی۔اس منصوبے پر عملدرآمد کے لئے فرنچ ڈویلپمنٹ ایجنسی25.8ملین ڈالر کی سافٹ لوننگ کرے گی۔صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ایک ایسا بلدیاتی نظام لارہی ہے۔جس میں عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوں گے اور بلدیاتی ادارے بااختیار ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ 2002سے2008تک ایل ڈی اے کا چیئرمین متعلقہ میئر ہوتا تھا لیکن سابق وزیراعلی شہباز شریف کو ایک ترمیم کے ذریعے ایل ڈی اے کا چیئرمین بنا دیا گیا اور اس کا دائرہ بھی قصور،ننکانہ اور سانگلہ ہل تک پھیلا دیا گیا اور یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایک وزیراعلی کو ایل ڈی اے کا چیئرمین بننے کی کیا ضرورت تھی؟ہماری حکومت یہ تمام اختیارات میئر کو دے گی اور یہی بڑی تبدیلی ہے۔بلدیانی نمائندوں کو صحیح معنوں میں بااختیار بنائیں گے۔پچھلے دور میں میئر صرف پروٹوکل آفیسر کے طور پر کام کررہا تھا جبکہ سب طاقتوں اور اختیارات کا منبہ شہباز شریف تھے۔جس کی وجہ یہی دکھائی دیتی ہے کہ وہ اپنے نام کی تختی ہر جگہ لگانا چاہتے تھے۔

اسلم اقبال

مزید : صفحہ آخر