آزاد امیدواروں کے الیکشن لڑنے پر پابندی ، پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019ءمیں ترامیم منظور

 آزاد امیدواروں کے الیکشن لڑنے پر پابندی ، پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019ءمیں ...

  



لاہور(سٹی رپورٹر)پنجاب کابینہ اجلاس میں پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019 میں ترامیم کی منظوری دےدی گئی، ترامیم کے تحت سیاسی جماعت یا انتخابی پینل بنا کر بلدیاتی الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت ہوگی اور اقلیتوں کو مخصوص نشستوں کےساتھ جنرل نشستوں پر بھی ووٹنگ کا حق حاصل ہوگا جبکہ انتخابی نتائج کا اعلان ریٹرننگ آفیسر کرے گا اور شکایت کی صورت میں الیکشن ٹربیونل الیکشن ایکٹ کے تحت فیصلے کرے گا۔ اجلاس میں پنجاب ویلج پنچایت اینڈ نیبرہڈ کونسلز ایکٹ 2019 میں ترامیم کی بھی منظوری دی گئی جبکہ پنجاب ڈی مارکیشن آف لوکل ایریاز رولز 2019 کے تحت مقامی علاقوں کی حدبندی کی منظوری دی گئی۔ پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019 کے تحت سکسیڈنگ لوکل گورنمنٹس کے قیام کی منظوری دی گئی۔ پنجاب بھر میں 455 مقامی حکومتیں بنیں گی۔ اجلاس میں پنجاب میونسپل سروسز پروگرام میں رد و بدل کا فیصلہ کیا گیا اور کابینہ نے پنجاب میونسپل سروسز پروگرام میں رد و بدل کی منظوری دی۔ اس پروگرام کے تحت سڑکوں کی تعمیر و مرمت کی سکیموں پر مقامی حکومتیں عملدرآمد کرائیں گی۔ صوبائی کابینہ کے اجلاس میں شاہی قلعہ اور اس کے بفر زون میں سیاحت کے فروغ کیلئے ہیریٹج اینڈ اربن ری جنریشن پروگرام کی منظوری دی گئی۔ شاہی قلعہ میں خلوت خانہ اور دیگر حصوں کو بحال کیا جائے گا۔شاہی قلعہ کے اطراف میں بجلی کے بے ہنگم تار ہٹا دیئے جائیں گے اور شاہی قلعہ کے اطراف میں واقع علاقوں کی تاریخی حیثیت کو بحال کیا جائے گا۔ شاہی قلعہ میں فورٹ میوزیم بنایا جائے گا۔اس منصوبے پر عملدرآمد کیلئے فرنچ ڈویلپمنٹ ایجنسی سے 25.8 ملین ڈالر سافٹ لون حاصل کیا جائے گا۔ کابینہ اجلاس میں لاہور اور آذر بائیجان کے شہر ناک چیوان کو جڑواں شہر قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا اور کابینہ نے اس ضمن میں مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کی منظوری دے دی۔دونو ںشہروں کو جڑواں شہر قرار دینے سے برادرانہ تعلقات، معاشی تعاون، مشترکہ منصوبے شروع کرنے، وفود کے تبادلے ممکن ہوں گے۔اجلاس میں ڈیرہ غازی خان میں ساﺅتھ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے قیام کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں صوبائی کابینہ کے 19 ویں اجلاس کے فیصلوں اور کابینہ سٹینڈنگ کمیٹی برائے فنانس اینڈ ڈویلپمنٹ کے 16 ویں اجلاس کے فیصلوں کی توثیق کی گئی۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اقلیتوں کے حقوق کی پاسبان ہے۔ پنجاب میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے تاریخی اقدامات کئے گئے جن کی مثال نہیں ملتی اور پنجاب میں ہر فیصلہ کابینہ کی مشاورت سے کیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ عوام کی فلاح و بہبود کیلئے وزراءدن رات ایک کر دیں۔ لوکل گورنمنٹ کا نظام نچلی سطح تک عوام کو بااختیار بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ نئے بلدیاتی نظام کو دور جدید کے تقاضوں کے مطابق مرتب کیا گیا ہے۔علاوہ ازیںوزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے زیر صدارت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پالیسی اور مانیٹرنگ بورڈ کا پہلا اجلاس منعقد ہوا،جس میں اربوں روپے کے متعدد منصوبوں پر عملدرآمد کی منظوری دی گئی،اجلاس میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ بورڈ کی ایگزیکٹو کمیٹی کے ڈائریکٹر کےلئے ڈاکٹر محمد جنید اشرف کی تقرری ، ہیومن ریسورس بھرتی کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔ پی پی پی موڈ کے تحت انڈسٹریل سٹی فیصل آباد میں ویونگ سٹی کے قیام کے منصوبے کی منظوری دی گئی ۔اجلاس میںسندر انڈسٹریل اسٹیٹ او رقائد اعظم انڈسٹریل سٹیٹ لاہو رمیں کمبائنڈ ایفلینٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے کے منصوبے کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں لاہور میں پانی کے میٹر لگانے اورلاہور رنگ روڈ کے سدرن لوپ تھری کے منصوبے کی بھی مشروط منظوری دی گئی۔ اجلاس میںچنیوٹ پنڈی بھٹیاں روڈ کو دورویہ کرنے کے منصوبے کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں لئی ایکسپریس وے کے منصوبے کیلئے بھی پراجیکٹ ڈویلپمنٹ فیسلٹی فراہم کرنے کی منظوری دی گئی ۔میانوالی مظفر گڑھ روڈ، فیصل آباد چنیوٹ سرگودھا روڈ اور گجرات جلالپور جٹاں روڈ کی تعمیر و توسیع کے منصوبوں کی منظوری دی۔ملتان وہاڑی روڈ، للہ انٹرچینج تا جہلم روڈ ،ترنڈہ پناہ محمد دین کے ایل ایم ہیڈ پنجند روڈ ،دیپالپور اوکاڑہ روڈ ، سمندری جھنگ روڈ او رشکر گڑھ ظفروال روڈ کے منصوبوں کی بھی منظوری دی گئی۔وزیر اعلی عثمان بزدار نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پالیسی اور مانیٹرنگ بورڈکی تشکیل سے منصوبوں پر تیزی سے عملدرآمد ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ منصوبوں پر تیزی سے عملدرآمد ہونے سے صوبے کی پائیدار معاشی ترقی ممکن ہوگی اورسرمایہ کاروں کو محکموں کے چکر نہیں لگانا پڑیں گے اور ہر کام ایک ہی چھت تلے ہوگا۔انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کے ماہرین کے تجربے اور صلاحیتوں سے استفادہ کریں گے اورفلاح عامہ کے بڑے منصوبوںمیں تاخیر کا جواز ختم ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ میں خود پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت منصوبوں پر ہونے والی پیشرفت کی نگرانی کروںگا۔

ترامیم منظور/وزیراعلیٰ پنجاب

مزید : صفحہ اول